*عمل سے فارغ ہوا مسلماں !!!*

(محمد کاشف تبسم, کراچی)
کورونا سے بچاو احتیاط اور توبہ سے ممکن ہے

⭐*عمل سے فارغ ہوا مسلماں !!!*⭐

ہمیں یہ بات تسلیم کر لینی چاہٸے کہ یہ کرونا واٸرس *اللہ کا عذاب* ہے جو گزشتہ قوموں کی طرح ٹوٹ پڑا ہے،حرمین شریفین کی بندش اور مساجد سے دوری کے بعد فی الحال اس بحث میں پڑنے کا وقت نہیں رہا کہ یہ *کرونا* ایک عالمی سازش تھی جو عذاب میں بدل گٸ یا پھر یہ عذاب ہے جو سازشی ذہنوں کو دنیا پر راج کے راستے بھی دکھا گیا؟
ادھر ہماری ساٸنس اور طب *کرونا* کے اسباب تلاشنے میں لگی ہے;چمگادڑ،چوہے،خنزیر اور حرام اشیاء کا استعمال تو پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ ہم اسی کو بنیاد بنا کر اپنے *سیاہ کرتوت* سے چشم پوشی کرتے رہیں!!!قرآن کریم میں غور کیجٸے:
آہ۔۔سورہ سجدہ کی یہ آیات کیسے آج عیاں ہو رہی ہیں۔۔
وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ( 21 )
”اور ہم اُن کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے۔ شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں“
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ ( 22 )
”اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اُن سے منہ پھیر لے۔ ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں“
ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا:
أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ أَفَلَا يَسْمَعُونَ (26)
”کیا اُن کو اس (امر )سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے اُن سے پہلے بہت سی اُمتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کر دیا۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں۔ تو یہ سنتے کیوں نہیں“
*کرونا۔۔۔۔۔عالمی سازش ہے یا خداٸ عذاب؟*
اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری تھا کہ *کرونا* کا شکار صرف *غیر مسلم* نہیں ہیں *مسلمان ممالک* بھی اس آفت میں بری طرح مبتلا ہیں۔
روس ،اسراٸیل ،امریکہ ،ترکی اور سعودیہ سمیت پوری دنیا *کرونا* کی لپیٹ میں ہے،ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق _*کورونا* وائرس کی زد میں دنیا کے *192* ممالک ہیں اور اب تک اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد *تین لاکھ پینتس ہزار* سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں اس سے مرنے والوں کی تعداد *14 ہزار* سے تجاوز کر گئی ہے۔
شروع میں *کرونا* کو مذاق سمجھا گیا،پھر اسے *چین* کا اندرونی مسٸلہ خیال کیا جانے لگا اور آخر میں یہ سب *عالمی طاقتوں* کا کھیل قرار دے کر ہم خود کو مطمٸن کر بیٹھے۔
یاد رہے *کرونا واٸرس* کی بنیاد دو بڑی براٸیاں ایسی بھی ہیں جو کرونا سے بھی زیادہ خطرناک حد تک پھیل چکی تھیں ;
1 : *بے حیاٸ*
2 : *ظلم*
*رجوع الی اللہ یعنی اللہ تعالی سے توبہ کے ساتھ عفت،پاکیزگی،حیا اور انسانی ہمدردی،حقوق کی اداٸیگی،ایثار و محبت* کی اب اس *عالمی عذاب* سے نجات کے لیے بہت ضرورت ہے!
تمام تر جسمانی اور ظاہری احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہیں،اور ان پر شدت سے عمل درآمد کے لیے حکومتی کوششیں قابلِ ستاٸش ہیں،مگر *ایمانی و روحانی احتیاطی* تدابیر یعنی *بےحیاٸ* کے تمام راستوں پر کرفیو اور *ظلم سے توبہ* ہماری ذاتی ذمہ داری ہے!!!!
ایک دوسرے کو الزام دینے سے کہیں بہتر ہوگا کہ ہم انفرادی اپنا اپنا معاملہ اللہ کے حضور صاف کرالیں۔۔۔۔۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شاید نیم عریاں جسموں کی نماٸش ہی بے حیاٸ ہے،میرا جسم میری مرضی کا کھلم کھلا اعلان کرنے والے گناہگار ہیں تو پھر اس نعرے پر دن رات عمل کرنے والے کیا ہیں؟
کیا نوجوانوں کے ناجاٸز معاشقوں میں لتھڑے سیاہ ترین دل بھی بے حیاٸ اور بغاوت نہیں ہے!!
*ظلم* بھی صرف کسی ملک و ریاست ہی کو تہس نہس کرنے یا محض *تشدد* کا نام نہیں ہے بل کہ کسی بھی قسم کی حق تلفی یا اس میں کوتاہی کے ساتھ جسمانی تکلیف،ذہنی اذیت،دباؤ ڈالنا،پریشرائز کرنا،اور کسی کو ڈرانا دهمکانا سب ظلم کہلاتا ہے"
اور سب سے بھیانک ترین جرم اپنے ان گناہوں کو گناہ نہ سمجھنا، جھوٹی تسلیوں و خوش فہمیوں سے خود کو فریب دینا اور اپنی بےاعتدالیوں کو *تقدیر* کے عنوان سے چھپانے کا فیشن عام ہو چلا ہے !!!

*پتہ نہیں کیا ہے نام اس کا ، خدا فریبی كے خود فریبی*
*عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا كے تقدیر بہانا*

بالخصوص دین کے کسی بھی شعبے سے جڑے *دیندار* حضرات کو اکڑ،تکبر اور ہٹ دھرمی سے بچ بچ کر اپنے آنسوٶں سے اخلاص کا رشتہ استوار کرنا ہوگا!!کیوں کہ
*تیری رہبری کا سوال ہے !
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد کاشف تبسم
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Mar, 2020 Views: 488

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ