زیست کے نشیب و فراز سے کیسے نپٹا جائے

(Saleem Saqi, Sargodha)

میں نے زندگی سے بہت کچھ سیکھا ہے مگر کبھی ہارنا نہیں سیکھا
آخر
میرے استاد میرے اپنے والد گرامی ٹھہرے نڈر بےباک اور کشادہ دل کے مالک جنہوں نے شاید اپنی زندگی میں کبھی اتنی سانسیں نہ لی ہوں جتنے دکھ دیکھے ہیں
مگر وہ کہتے ہیں نا لوہے کو ''کندن'' بنانے کیلیئے اسے بھٹی سے گزارنا پڑتا ہے ''الحمدللہ'' مجھے فخر ہے میرے بابا ''میرے بابا'' ہیں
میرے بابا جانی ٹھہرے اپنے گاؤں کے سرپنچ ہر روز رات انکی محفل میں بیٹھنا اور سوتے وقت ان کے پاؤں دبا کر اپنے کمرے کی راہ لینا میرا روزمرہ کا مشغول ہے ایک دن بابا جانی پاس بیٹھے بیٹھے میں گویا ہوا کہ بابا جانی کوئی ایسی بات جو آپ نے اپنی پچپن سالہ زندگی میں اپنی زندگی سے سیکھی ہو
بابا جانی کہنے لگے
''کبھی کسی کو اپنے در سے خالی مت موڑنا،وگرنہ بےسکونی،بے چینی اور فاقہ کشی تمہارے در کا راہ ہمیشہ کیلیئے تک لیں گے''
بابا جانی کا ایک قول مجھے بہت یاد آتا ہے
''کوئی کام بھی ناممکن نہیں ہے دنیا میں مگر تم میں اسے کر گزرنے کی ہمت ہونی چاہیے مایوسی کو اپنا شیوا مت بناؤ وگرنہ ناکامی عمر بھر کیلیئے تمہارا مقدر بن جاوے گی''
پنجابی کی ایک مشہور کہاوت ہے
''آدھ مال سائیاں تے جاندا اے''
یعنی جیسا باپ ہو گا بیٹا بھی ویسا ہی ہو گا کیونکہ جینز کی منتقلی جسے سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ ماں باپ کی پچاس فیصد خوبیاں انکی اولاد میں پائی جاتی ہیں شاید یہی وجہ ہے میری قلم کشائی کی،جو بفضل خدا میرے بابا جانی سے مجھ میں منتقل ہوئی
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کچھ بچے چھوٹے ہوتے ہی بڑے نڈر بے باک اور بہادر ہوتے ہیں اور کچھ ڈرپوک اور خوفزدہ ہوتے ہیں جنکے پاس پٹاکا پھوٹ پڑے تو آنکھوں سے آنسو روانہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے
اسکی دو وجوہات ہیں جو میں نے اپنے تجربات و مشاہدات سے اخذ کی ہیں
پہلی وجہ تو یہ ٹھہری کہ باپ سے وراثتی جین میں نڈری کی منتقلی بیٹے کو بہادر بناتی ہے کوئی شک نہیں
دوسری وجہ تھوڑی باریک بینی کی ہے شاید آپ میں سے ہر ایک نے خود کے سکون پانے کیلیئے ایسا کیا ہو مگر ہم میں سے اکثر اس بات سے بے خبر ہیں کہ ہماری یہ چند پل کی سکونی ہمارے بیٹے یا بیٹی کو مستقل طور پر ڈرپوک بنا سکتی ہے بات دراصل کچھ یوں ہے
چھوٹے بچے بہت شرارتی ہوتے ہیں نہ ہاتھ آنے والے،نہ ٹک کے بیٹھنے والے جو کہ بعض دفعہ ہمارے بےسکونی کا سبب بنتے ہیں ہم اکثر اپنے سکون کیلیئے اپنے بچے کو شرارتوں سے دور رکھنے کیلیئے کہہ دیتے ہیں بیٹھ جاؤ چپ کر کے باہر بچے پکڑنے والی ٹیم آئی ہوئی ہے جو بچہ انھیں باہر نظر آئے گا وہ اسے پکڑ لے گی،فلاں جگہ مت جانا وہاں بھوت رہتے ہیں ہماری نظر میں ایسی باتیں کچھ خاص معنے نہیں رکھتی مگر جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ''چھوٹے بچے'' کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں آپ جو لکھیں گے وہ تا حیات اس ورق پر رقم ہو جائے گا جو ہر موڑ پر انکی یاداشت میں مانند کسی ٹیپ ریکارڈر کے چلتا رہے گا جسکا سبب ایک نا ختم ہونے والی نڈری اور ڈرپوکی ہو گی جو آپ کے بیٹے کیلیئے باعث شرمندگی ثابت ہو گی
بچوں کی تربیت کچھ ایسے انداز میں کریں کہ آنے والی زندگی کے ہر نشیب و فراز سے وہ بخوشی و باہمت نکلنے کیلیئے تیار ہوں نہ کہ بچپن میں پیدا کیئے جانے والا ڈر انھیں کہیں زندگی کی ڈھلوان سے لڑکھڑا کر نیچے ہی نہ گرا دے اور وہ وہیں چڑھتے گرتے پڑتے وہی دم توڑ جائیں بنا کچھ حاصل کیئے بنا کچھ سیکھے بنا کچھ دیکھے
ہم موت کے ڈر سے جینا نہیں چھوڑ سکتے ہمیں خود کو ہمہ دم آنے والی خوشی ہمہ دم ہمارے ساتھ جڑی غمی کیلیئے خود کو تیار کرنا چاہیے تاکہ ہمارے نام کی طرح ہمارے ضمیر و بے باکی کے چرچے ہوں
زندگی میں اگر آپکا سامنا کبھی کسی موڑ پر ہار سے ہو بھی جائے تو گبھرانا نہیں ڈرنا نہیں ہار نہیں ماننی ہمت نہیں ٹوٹنے دینی بلکہ دوبارہ سے اٹھ کھڑا ہو کر اس ہار کو ''چھٹی کا دودھ'' یاد دلانا ہو گا
ایک بار گر پڑو کوئی بات نہیں دوبارہ سے اٹھ کھڑے ہو جاؤ پھر گر پڑو کوئی بات نہیں تب تک لڑتے رہو اس ہار سے جب تک ہار کامیابی کے رستے سے خود بخود ہٹ کے پرے نہ ہو جاؤ
کیونکہ خداتعالی فرماتے
''تم حیلہ کرو وسیلہ میں بناؤں گا''
ارے تم آگے تو بڑھو میں دیکھتا ہوں کون تمہیں تمہاری منزل تک پہنچنے سے روکتا ہے ہاں جہاں اچھائی ہے وہاں برائی بھی پائی جاتی ہے دنیا اچھائی و برائی دونوں کے ساتھ چلتی ہے آپ کو کامیابی کے رستے پر روڑے اٹکانے والے بھی ملیں گے مگر آپ نے ان کے اٹکائے روڑوں کا جواب پیار و محبت سے دے کر انھیں اپنا گردیدہ بنانا ہے نہ کہ ''اینٹ کا جواب اینٹ سے دینا ہے''
کیونکہ
''ہم جو کام ہتھیاروں سے نہ کر سکیں وہ پیار و محبت سے کر سکتے ہیں ''
''کبھی ہمت مت ہاریں جو ہمت ہار گیا سمجھو وہ زندگی کی بازی ہار گیا اور جو زندگی کی بازی ہار جائے اسے لوگ مردہ کہتے ہیں مردہ''
ہمیں جیتے جی خود کو مردہ نہیں کہلوانا ہمیں اپنا نام اپنے مرنے کے بعد بھی زندہ لوگوں میں لکھوانا ہے ہمیں اپنے عملوں اپنے کرموں سے کچھ ایسا کر کے دم توڑنا ہے کہ ہم مر کے بھی نہ مریں ہمارا نام رہتی دنیا تک اک مثال بن کر رہے جو ہر آنے والے کیلیئے اک مشعل راہ ہو
ہار کو خود پہ حاوی نہیں ہونے دینا
آپ ہم میں سے اکثر کے گھر میں فیملی میں کئی لوگ یہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے ہوں گے ہم ان کے مرنے کے چند دن بعد تک بہت روئے ہوںگے کئی اکثر نے کئی کئی دن کھانے کا نوالہ تک نہ کھایا ہو گا مگر کیا اب بھی ویسا ہے؟؟کیا اب بھی رونا دھونا ویسا ہے جیسے پہلے دن تھا؟؟
نہیں نا
''کیونکہ ہمارا دماغ اس بات کو تسلیم کر چکا ہے جو چلا گیا ہے وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا''
مرے ہوئے کے ساتھ مرا نہیں جاتا بلکہ جتنی سانسیں خود کی لکھ ہیں وہ ہر حال میں لینی ہی لینی ہے پھر چاہے وہ کسی کے مرنے کے دکھ میں جوگ سوگ کی شکل میں لی جائیں یا اس دلخراش حقیقت ''موت'' کو تسلیم کر کے ہنسی خوشی گزارا جائے
بالکل اسی طرح اگر ہم ایک بار ہار گئے تو اسے ماضی سمجھ کے بھول جاؤ ماضی کو ماضی رکھو اسے حال مت بناؤ ورنہ مستقبل بے حال ہو جائے گا۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Saqi

Read More Articles by Saleem Saqi: 21 Articles with 12312 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Mar, 2020 Views: 204

Comments

آپ کی رائے