مغربی تہوار کی تقلید کیوں ۔۔۔؟

(Dr B.A Khurram, Karachi)

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
اپریل فول جسے جھوٹ کا سہارا لے کردوسروں کو بیوقوف بنا کر ہنسی مذاق اڑانے کے طور پرجانا جاتا ہے یہ خالصتاً ایک مغربی تہوار ہے اپریل فول دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور بے وقوف بنانے کا تہوار ہے اس کا مخصوص روز یکم اپریل ہے برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے شروع میں اس کا عام رواج ہوااور اب ساری دنیا میں مقبول عام ہے فول کی تاریخ بارے متضاد آراء پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ1582 ء میں فرانس کے بادشاہ چارلس چہارم نے کیلنڈر کو ازسرنو مرتب کرنے کی ٹھانی اور فرانس میں جارجیا کے کیلنڈر کو متعارف کرانا چاہافرانس میں سال کا پہلا ہفتہ 25 مارچ سے یکم اپریل تک منایاجایاکرتا تھا لیکن بادشاہ نے جارجیا کی طرح یہاں بھی سال کا آغاز یکم جنوری سے شروع کرنے کا اعلان کیاان دنوں خبر رسائی کا نظام انتہائی سست تھا اور کئی لوگوں تک اطلاع پہنچنے میں سالوں لگ جاتے تھے۔اس طرح بادشاہ کے اعلان کے باوجود بہت سے فرانسیسیوں نے سابق کیلنڈر کے مطابق یکم اپریل کو ہی نئے سال کا جشن منایا۔فرانس میں ان لوگوں کو ’’فول‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگااپریل فول کے متعلق مغرب کے حوالے سے اسی طرح کی اور بھی روایات پائی جاتی ہیں۔اس بیوقوف بنانے کے کھیل میں بعض لوگوں کو جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں،اور بعض اوقات حساس طبیعت کے لوگ جان سے بھی چلے جاتے ہیں اس لئے شہریوں کو اس ضمن میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اسلام کے سنہری اور لازوال اصولوں کو ترک کر کے ہم گھاٹے کا سودا کرتے ہیں قرآن پاک اور حدیث بنوی صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات میں جھوٹ کے بارے میں واضح پیغامات موجود ہیں جولوگ جھوٹ بول کراپریل فول مناتے ہیں وہ قرآن میں ملعون ٹھہرائے گئے ہیں۔
رب کائنات کاقرآن پاک میں فرمان مبارک ہے کہ
’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کا ساتھ دو‘‘(التوبہ: 119)۔
ایک اور جگہ قرآن مجید میں ہے
’’کہ جھوٹ بولنے والوں پر اﷲ پاک کی لعنت‘‘(سورۃآل عمران آیت 61پارہ نمبر3)۔
جھوٹ کے بارے میں ایک حدیث نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا’’سچ بولنا نیک کاموں کی ہدایت کرتا ہے اور نیک کام جنت میں لے جاتا ہے اور انسان سچ بولتے بولتے (اﷲ کے ہاں) سچ بولنے والوں میں لکھا جاتا ہے اور یقیناًجھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور یقیناًانسان جھوٹ بولتے بولتے اﷲ کے ہاں جھوٹوں میں لکھا جاتا ہے۔‘‘۔(مختصر صحیح بخاری حدیث نمبر : 2041)۔

قرآن پاک اور احادیث مبارکہ صلی اﷲ علیہ وسلم میں واضح طور پہ جھوٹ سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ہم مسلمان کہلوانے کے باوجود فرسودہ رسومات کے اتنے گرویدہ ہو چکے ہیں جس سے اﷲ رب العزت اور آقا جی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی ناراضگی مول لے کر دنیا اور آخرت میں ذیل و رسوائی کا سبب بن رہے ہیں یکم اپریل کو لوگوں کو مختلف طریقوں سے جھوٹی اطلاعات دیکر انہیں پریشان کرنے کی غلط روایت بعض حلقوں میں فروغ پا رہی ہے اور اس سلسلے میں شہریوں کو ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔موجودہ سائنسی دور میں جبکہ دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے‘ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے نئے تہوار اور رسومات سرایت کر چکے ہیں،جوکبھی بھی ہماری روایات کا حصہ نہیں رہے اپریل فول کو لوگ جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک دوسرے کو بیوقوف بناتے اورتذلیل و تضحیک کرتے ہیں،مذہبی،سماجی اور اخلاقی اقدار ہمیں جھوٹ سے گریز کرنے کا درس دیتی ہیں دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق جھوٹ بولنے کی قطعی گنجائش نہیں جب جھوٹ بولنے کی رتی برابر گنجائش نہیں تو پھر مغربی تہوار کی تقلید کیوں ۔۔۔؟ اپریل فول بہت سے کبیرہ گناہوں کا مجموعہ ہے توہمیں اس سے خود بھی بچنا چاہئے اوراپنے دوستوں کو بھی سمجھاناچاہئے اﷲ رب العزت ہم مسلمانوں کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے آمین ثم آمین۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 224276 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Apr, 2020 Views: 126

Comments

آپ کی رائے