خود کو بدلیں، روشن مستقبل آپکا منتظر

(Rasheed Ahmad Naeem, Patoki)

حریرـ:بنت نواز
بتاو کیا بدلا ہے کبھی اس قوم کا حال؟
جس کے لوگ خود سر بازار اپنا سرمایہ لٹاتے ہیں
آج کل پاکستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے جو ہمیں اتنی قربانیوں کے بعد ملا ہے؟ یہ وہ پاکستان تو نہی ہے جس کے لیے ماوں نے اپنے بیٹے قربان کیے جس کی خاطر ہمارے بزرگوں نے اپنی بہنیں، مائیں، بیٹیاں گنوا دیں، عزتیں لٹ گئیں، خون بہائے گئے، گھروں سے نکالا گیا ظلم کی انتہا کر دی گئی
یہ قائد کا وہ پاکستان تو نہی جس کی بنیاد اسلام کے اصولوں پر رکھی گئی تھی؟ کیا یہ اسلامی ریاست لگتی ہے آپکو؟
کیا صلہ دے رہیں ہم ان قربانیوں کا،انکی کوششوں کا، انکے خون کا ان کے آنسوں کا؟
آج تو ہم نام کے مسلمان رہ گئے ہیں اس ملک کو حاصل کرنے کا مطلب ہی بھول گئے ہیں یہ ملک تو ہم نے اس لیے حاصل کیا تھا کہ آزادی کے ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں لیکن نہی ہم تو بھول ہی گئے ہیں کہ کیوں ملا یہ وطن ہمیں بلکہ وطن کو چھوڑیں ہم تو یہ ہی بھول گئے کہ ہم اس دنیا میں ہی کیوں آئے ہیں۔ ہم تو اس دنیا بنانے والے کو ہی بھول بیٹھے ہیں اس دنیا میں آنے کا مقصد ہی بھول بیٹھے ہیں
خدا کو بھول بیٹھے ہیں ہم یہ بھول ہی گئے تھے اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہوگی وہ رسی دراز کرتا ہے تو رسی کو کھینچتا بھی ہے۔ آج کل اﷲ تعالی نے بس ایک چھوٹا سا جھٹکا دیا ہے کورونا کی صورت میں اور اس ہلکے سے جھٹکے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے
کیا ابھی بھی ہمیں ہوش نہی آیا؟ کیا ابھی بھی ہمارے دل نہی پگھلے؟ کیا ابھی بھی کچھ اور اس سے برا چاہتے ہیں ہم؟
ہم نے کیا کیا غلط کام نہی کیا؟ ہر غلط کام میں ملوث رہے ہیں اور غلط کاموں کو دیکھ کر روکا تک نہی چلو ہم اچھائی نہی پھیلا سکتے تھے برائی کو تو روک سکتے تھے لیکن ہم نے تو کوئی کام نا کیا بلکہ ہم خود بڑھ چڑھ کر برائیوں کا حصہ بننے لگے۔پاکستان تو ایک اسلامی مملکت ہے یہاں پر تو اسلام کا بول بالا ہونا چاہیے تھا باقی دنیاکے مسلمانوں کے لیے ہمیں اس کو ایک آئیڈیل مملکت بنانا تھا اور یہ سب ہم کر سکتے تھے لیکن ہم نے نہی کیا ہم بھول گئے سب بھول گئے کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کیوں بھیجا گیا اس دنیا میں؟ ہمیں کیوں ملا یہ وطن کیا کیا ذمہ داریاں تھیں ہماری؟ ہم سب فراموش کر بیٹھے ہیں
خدارا ابھی بھی وقت ہے لوٹ آئیں بدل لیں خود کو۔ پہچان لیں خود کو اپنے اس دنیا میں آنے کا مطلب جان لیں اپنی الگ پہچان بنائیں اپنا ایک الگ معیار بنانا ہے اور یہ سب ہم کر سکتے ہیں اس سب کے لیے ہمیں ایک قوم بننا ہوگا اسلام کے اصولوں پر چلنا ہوگا اﷲ اور اس کے رسول کے بتائے طریقے کو اپنانا ہوگا ہمیں بس نام کا نہی عملی مسلمان بنا ہوگا
یہ سب ہماری اپنی غلطیاں ہیں اپنی کوتاہیاں ہیں کہ دوسرے ممالک کے لوگ ہماری عزت نہی کرتے ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہے جب ہم اپنا مقصد حیات ہی بھول گئے تو کیا عزت رہے گی ہماری؟ کون عزت دے گا ہمیں؟ انسان کامیاب تو تب ہی ہوتا ہے نا جب وہ اس بات پر عمل کرتا جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے لیکن ہم نے تواﷲ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔جب ہم انکاری ہوئے نافرمان ہوئے تو بے عزتی، تنزلی، پسماندگی حقارت ہمارا مقدر بنی
جب ہم نے سود، بے حیائی،فحاشی، خیانت، چوری، والدین کی نافرمانی اﷲ سے دوری اختیار کی ہم پر مشکل سے مشکل وقت آتا گیا اس سب کے ذمہ دار ہم خود ہیں یہ سب ہم نے اپنے ہاتھوں سے کمایا ہے۔ ہر انسان ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش میں ہے اور وہ اس کمپیٹشن میں صحیح اور غلط کے فرق کو بھول بیٹھا ہے
امیروں نے ایسا نظام بنایا ہے کہ غریب بھی اس جیسا بننے کی کوشش میں حرام حلال کی تمیز بھول بیٹھا ہے اس کو برا بنانے میں بھی ہم میں سے ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو دکھاوا کرتے ہیں غریبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کا حق کھاتے ہیں۔ جب اﷲ نے ان کو مال دیا ہے تو ان کا فرض بنتا تھا کہ وہ غریبوں کی مدد کرتے۔ لیکن نہی انہوں نے ان کی تذلیل کی ان کو دینے کی بجائے ان کا حق بھی چھینا کسی کو غریب دیکھ کر اس کا حصہ بھی ہڑپ کر لیا تو پھر غریب نے بھی وہ لباس اوڑھا کہ حلال حرام کا فرق ہی ختم کر لیا۔
پاکستان جو اسلامی ملک ہے یہاں پر زیادتیوں کے کیس اتنے زیادہ کیوں ہو گئے؟ کبھی سوچا آپ نے کبھی خود سے کوشش کی آپ نے اس سب کو کنٹرول کرنے کی؟ اس سب کے پیچھے کیا وجہ ہے کہ ہماری بچوں کی عزتیں محفوظ نہی؟ بچے والدین کے قابو میں نہی،صحیح غلط کا فرق ختم ہوگیا، برکتیں ختم ہو گئیں اس سب کے پیچھے بھی زیادہ ہاتھ تو ہمارا اپنا ہے بات کڑوی ضرور ہے لیکن سچ ہے۔ ہم خود قصور وار ہیں عزتیں برباد ہونے پر، ہم خود قصور وار ہیں بچیوں کی معصومیت چھینے جانے پر، ہم خود ہی ذمہ دار ہیں اس گندے نظام کو بنانے والے، ہم نے اپنے اوپر ظلم خود کیا ہے
اس کی کچھ وجوہات تو آپکو میں بتاتی ہوں
کیا آپ نے اپنی بچیوں کو صحیح اور غلط کا فرق بتایا؟
کیا آپ نے اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں پر کی؟
کیا آپ نے اپنے بچوں کو پہلی غلطی پر ٹوکا؟
کیا آپ نے بچیوں کے لباس پر دھیان خود دیا؟
کیا گھر میں اسلامی نظام بنایا؟
کیا بچیوں کو محرم نا محرم کا فرق بتایا؟
کیا بیٹوں کو عورتوں کی عزت کرنا سکھایا؟
کیا بیٹیوں کو امہات المومنین کے قصے سنائے؟
کیا بیٹوں کو صحابہ کرام کی باتیں سنائی؟
کیا بچوں کو ساتھ مسجد لے کر گئے؟
کیا ماوں نے بچوں کو گود میں ڈال قرآن سنایا؟
کیا بھائیوں کو بتایا وہ بہنوں کے محافظ ہیں؟
کیا بچوں کو بتایا کہ ان کے اصل ہمدرد کون ہیں؟
کیا کبھی گھروں میں اسلامی حلقہ لگایا؟
حلال حرام کا فرق بتایا؟
کیا بچوں کی صحبت کا پتہ لگایا؟
کیا آپ نے یہ سب کیا؟ پوچھیں اپنیآپ سے سنیں اپنے ضمیر کی آواز۔خود آپکو جواب مل جائے گا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے
جب بچوں کو گھر میں اسلامی ماحول نہی ملے گا؟ماں باپ کے پاس وقت نہی بچوں کے لیے، امیر ماں باپ نوکروں کے سہارے اولاد کو چھوڑ دیتے اور غریب پیٹ بھرنے کے چکر میں تربیت بھول ہی جاتے ہیں۔ تو وہ بچی یا بچہ وہ کیا سیکھے گا انسانیت وہ کیا سیکھے گا والدین کا ادب وہ کیا سیکھے گا عورتوں کی عزت جب اسکو سکھایا گیا ہی نہی گیا؟
اور پھر جب ٹائم گزرجاتا ہے تب آتا ہے والدین کو ہوش اور تب بچے قابو میں نہی آتے تب والدین سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ تو سنیں یہ آپ کا بویا ہی آپ کے سامنے آیاہے۔
بچیوں کی عزتیں برباد ہو رہی ہیں ا س میں مجھے تو ایک پہلو ان غریب عورتوں کا لگتا ہے جو کپڑے چھپانے کی پیچھے ٹائٹ برقے پہن کر جسم کی نمائش کرتی ہیں اور ان ماڈرن عورتوں لڑکیوں کا فیشن دکھانے کے لیے نیم عریاں تنگ لباس، چھوٹی شڑٹس اور جینز پہننا۔کیا آپ لوگوں کو شرم نہی آتی ایسا لباس پہنتے ہوئے؟ پرانے کپڑے چھپانے کے لیے کیا ضروری ہے کہ دعوت نظارہ دیتے ٹائٹ برقعے پہنے جائیں؟ کیا آپکو مناسب پردہ کرنا نہی آتا یا آپ خود نہی کرنا چاہتیں؟ اور کیا آپ کی امیری صرف آدھے آدھے ننگے کپڑے پہننے سے پتہ چلے گی؟
بے پردہ جو نظر آتی ہو تم اے بنت حوا
کیا بھول بیٹھی ہو تم سورت نساء
بنت نواز
کیاان مردوں کو شرم نہی آتی جب ان کے ساتھ ان کی بیویاں،بیٹیاں اور بہنیں بے ڈھنگے بے نیم عریاں لباس پہن کر چلتی ہیں۔ میں حیران ہوتی ہوں ایسے لوگوں پر کہ ان کا ایمان کہاں ہوتا یے اس وقت کیسے یہ نظریں اٹھا کر چلتے ہیں؟
جس معاشرے میں مردوں کی اور عورتوں کی بڑھتی ہوئی جاہلیت ہوگی وہاں معصوم بچیوں کی عزتیں تو داغدار ہوں گی وہاں حوا کی بیٹیاں ہوس کا شکا ہوں گی نا؟
کالجزاور یونیورسٹیاں جو ہماری درسگاہیں ہیں وہ اب بے حیائی کا نمونہ پیش کر رہی ہیں۔ مسلم ہو کر دوسروں کی تلقید میں اندھے ہو کر چل پڑے ہیں بے حیائی عام ہے لڑکے اور لڑکیاں سر عام بے حیائی کا عملی نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں
تو ایسے ملک کی کیا خاک عزت ہوگی؟ ایسے لوگوں کا کیا وقار ہوگا؟ ایسے مسلمانوں پر عذاب ہی نازل ہوں گے نا؟
ارے ہمیں تو ایک مثال قائم کرنی تھی، ہمیں تو محمد عربی کے دین کو پھیلانا تھا، ہمیں تو اسلام کا بول بالا کرنا تھا،ہمیں تو دوسروں کے لیے مشعل راہ بننا تھا، ہمیں تو اﷲ نے اشرف المخلوقات بنایا یے ہمیں تو اس کا حق ادا کرنا تھا، ہمیں تو دنیا میں آنے کا مقصد پورا کرنا تھا، ہمیں تو ایسا بننا تھا کہ کسی کو ہم سے پوچھنا نا پڑتا کہ آپ کون ہیں، ہمیں دیکھ کر ہی پتہ لگ جاتا کہ مسلمان ہیں یہ اﷲ اور اس کے نبی کے بتائے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں
لیکن ہم نے کیا کیا؟
لوگ ہمارا مذاق بناتے ہیں کہ آپ لوگ مسلمان ہو؟
کرے جو کوئی سوال تم سے کیا ہو تم
کیا بتا پاو گے کیا تھے اور اب کیا ہو تم
راہ دکھانے کو بھیجا تھا خدا نے اپنا نبی
پھر کیوں مغرب کی پیروی کرتے ہو تم
بنت نواز
ہمارا کوئی کام ہو مسلمانوں جیسا تب ہی نا۔ خود سے پوچھیں کیا مغرب کی اندھا دھند پیروی میں چلتے ہوئے آپکو کوئی مسلمان کہے گا؟
ہمیں تو اپنے اچھے کاموں سے اچھے اخلاق سے اچھی تربیت سے دوسروں کو اپنا بنانا تھا لیکن ہمیں تو اب خود کو مسلمان کہتے ہی شرم آئے گی نا؟
اگر کوئی ہمیں آگے سے یہ ہی بول دے کیا مسلمان ایسے ہوتے ہیں؟ کیا جواب ہوگا آپ کے پاس؟
ابھی وقت ہے بدل لیں خود کو، سنوار لیں اپنی زندگی اور اپنے بچوں کی، کامیاب ہو لیں دنیا میں بھی اور آخرت میں، احساس کر لیں
مجھے افسوس ہوتا ہے اپنے ملک کے حالات دیکھ کر میں اور تو کچھ نا کر پائی لیکن میں نے قلم اٹھایاہے اس قلم کی طاقت سے لوگوں کی زندگی سنوارنی ہے ان شائاﷲ
میری گزارش ہے اس وقت کے حکمرانوں سے کہ اب اﷲ کی رحمت سے جب سب حالات ٹھیک ہو جائیں جب سب تعلیمی ادارے سکول، کالجز، یونیورسٹیاں کھل جائیں تو خدارا لڑکیوں کے پردے کو لازمی قرار دیں۔ حجاب اور عبایا کی ایسے ہی سختی کی جائے جیسے وباء کے دنوں میں ماسک اور پورے لباس کی گئی ہے۔
سکول کے یونفارم کے ساتھ سکارف کو لازم کیا جائے
کالجز میں بھی سکارف نا لینے والی کو جرمانہ کیا جائے
یونورسٹیز میں عبایا اور سکارف کو لازم قرار دیا جائے
یہ سب حکمرانوں کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا تو نوبت یہاں تک نا آتی لیکن اب بھی وقت ہے یہ قدم اٹھا لیں اسلامی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں
خدارا ہوش کے ناخن لیں میری گزارش ہے آپ سے خود کو بدل لیں ابھی بھی وقت ہے بدل لیں خود کو جب تک یہ سانس چل رہی ہے آپ کی آپ کے پاس مہلت ہے، ابھی وقت ہے بدل لیں خود کو، کر لیں توبہ،لوٹ جائیں اس کے در پر، مانگ لیں معافی اس سے پہلے کہ یہ چلتی سانسیں رک جائیں اور آپ کا وقت ختم ہو جائے اور آپ ایسے ہی گناہوں کا ندامتوں کا بوجھ لیے اس دنیا سے چلے جائیں۔
یہ ہم معمولی لوگوں سے نہی ہو پائے گا اس کے لیے وقت کے حکمرانوں کو قدم اٹھانا ہوگا میں پھر سے گزارش کرتی ہوں صدر پاکستان سے، وزیر اعظم پاکستان سے وزیر تعلیم سے اس ملک کے محافظوں سے ہمیں اس کام میں فیور دی جائے میرا یہ پیغام ہر فردتک پہنچایا جائے
میری اس کوشش کو عملی شکل دی جائے
جیسے آپ نے اس وباء کے لیے پورے پاکستان کے لیے حفاظتی اقدامات کیے ایسے ہی اپنی بچیوں کے دوسروں کی بچیوں کی حفاظت کے لیے یہ قدم بھی اٹھائیں
ہمیں قوم کو سنوارنا ہوگا یہ نوجوان نسل ہمارا قیمتی اثاثہ ہے بس اس کو اچھی گائیڈ لائن دینی ہوگی
مجھے امید ہے اک دن ہوگی اس قوم کی ترقی
اس قوم کے آباء بہت بخت والے ہیں
بنت نواز
میں درخواست کرتی ہوں پاکستانیوں سے سب مسلمانوں سے کہ آپ سب میرا ساتھ دیں۔ ہم سب مل کر یہ عزم مصمم کرتے ہیں کہ ہم سب خود کو بدلیں گے اپنا اپنا فرض ادا کریں گے اور ایک روشن مستقبل پائیں گے
ان شاء اﷲ
آپ کا میرا ہم سب کا اﷲ مددگار

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rasheed Ahmad Naeem

Read More Articles by Rasheed Ahmad Naeem: 39 Articles with 12550 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Apr, 2020 Views: 86

Comments

آپ کی رائے