گناہوں کو بھی لاک ڈاؤن کریں

(Aasif Jaleel, India)

ہر آدمی جانتا ہے کہ ہراچھے یا بُرے عمل کا رد عمل ضرور ہوتاہے، دنیا میں پیش آنے والے حالات پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز انسان کے اچھے یا بُرے اعمال ہیں جن کا براہِ راست تعلق اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی اور ناراضی سے ہے۔ہم جانتے ہیں کہ آج کل پوری دنیا ایک وبا کے لپیٹ میں ہے۔بڑے بڑے ملک اس وبائی مرض سے نبرد آزما ہیں،اکثر ممالک لاک ڈاؤن کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس طرح کے خوفناک اور عبرت انگیز واقعات (خواہ انفرادی ہوں یااجتماعی) دراصل اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ’’الارم‘‘ اور ’’تنبیہ‘‘ ہوتے ہیں تاکہ انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور کوئی تنبیہ اس کے غفلت شعار دل کو جُنبش دینے میں کامیاب ہوجائے۔ مگر اس کے برعکس دیکھا جا رہا ہے گھر بندی و لاک ڈاؤن کے اِن ایام میں فُرصت کے لمحات کو تعیش پسندی و لا یعنی میں صرف کیا جارہاہے۔ یہاں تک پوچھا جا رہا ہے کہ کون کون سی فلم اِن ایام میں دیکھنے لائق ہے ۔ بلکہ سوشل سائٹس پر ہندی فلموں کی طویل فہرست شیئر کی جارہی ہے کہ گھروں میں اسے دیکھیں۔ بہت افسوس کا مقام ہے کہ لاک ڈاؤں کے دِنوں میں محاسبہ کرنے کی بجائے گناہوں کی دعوت دی جارہی ہے۔ واقعی یہ قول صادق آتا ہے کہ فُرصت معصیت کا دروازہ ہے۔فارغ اوقات میں اکثریت انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا سے مستقل جُڑ گئی ہے۔ موجودہ دور کے آلات نے ہمیں لمحات ِ زندگی کے بارے میں بالکل بے حس بنا دیا ہے اور ہم بلا سوچے سمجھے اپنی متاعِ زندگی کو بالکل لغو‘ بیکارلایعنی ‘ فالتو بلکہ نقصان دہ کاموں میں خرچ کرنے لگ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت کی نا قدری بھی ایک روگ ہے اور جس کو یہ لگ جائے تو یہ آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتا۔ فارغ البالی، فُرصت کے ایّام میں اس خطرناک بیماری سے بچنے کیلئے بڑا عزم اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔یہ سب کچھ انسانی عقل کے لئے ایک فکری یلغار ہے اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم ان چیزوں میں مگن ہو کر دین اسلام، مسنون اعمال، اور ذکر الٰہی سے دور ہو گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم اﷲ کے نہیں بلکہ واٹسپ، فیس بک اور ٹویٹر ،انسٹاگرام کے بندے ہیں۔آخر ہمارے دل پتھر کیوں ہو گئے ہیں؟اس کی وجہ یہ ہے کہ واٹسپ اور دیگر چیزوں پہ مختلف قسم کے خوف ناک دل ہلا دینے والے واقعات،وبائی امراض میں ملوث افراد، لاشوں کے ڈھیرجیسے مناظر دیکھ کر ہمارے دل ایسے حوادثات اور واقعات کو دیکھنے اور سننے کے عادی ہو چکے ہیں جنہوں نے ہمارے دلوں کو کر سخت کر دیا ہے کہ ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں رہا۔آج ضرورت اِس بات کی ہے کہ اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں نہایت ہی عجز و انکساری اور حمد و ثناء کرنے کے بعد استغفار کا زیادہ سے زیادہ ورد کیا جائے۔ ماضی پر ندامت، حال میں معافی کی درخواست اور آئندہ بچے رہنے کے لیے پختہ عزم اور استقامت کی درخواست اﷲ کی بارگاہ میں پیش کی جائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 125760 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
02 Apr, 2020 Views: 228

Comments

آپ کی رائے