عدم برداشت اور آرٹیفیشل حرکتیں

(Zain ul Abadeen, )

 حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے جوانی رہے تیری بے داغ
ٓآجکی نوجوان نسل میں صبروبرداشت ناپید ہو چکا ہے اسکی وجہ حد سے زیادہ ذہانت ،بیوٹی اور عیاش قسم کے دوست ،سہیلیاں ہیں بناوٹی محبتیں،وقتی جذبات ،مصنوعی لہجے اور منافقت کی تجارت ہمیشہ خسارے میں جاتی ہے ہوش سنبھالتے بچے پرگھر کا ماحول ،زبان،رشتے داروں سے نفرتیں،کتنی اہمیت ہے فیملی میں،سب عمر بھر ذہین نشین رہتی ہیں معاشرے کے 90فیصد لوگوں کیلئے برداشت،احساس اور سچ آخری نیند سو چکے ہیں نسل نو سے توقع کرناحماقت ہوگی کیونکہ یہی سوسائٹی ہم سبکو پالش کر رہی ہے اسے کسی طور بھی پاک صاف،اعلی اخلاق،اور بچوں کی بہترین نشوونما کرنے والا معاشرہ نہیں کہا جا سکتا آجکی نوجوان نسل میں خاص طور پرخاندانی اور اچھے گھرروں کے جوان لڑکیاں ،لڑکے والدین سے دوری اختیارکرنے پر مجبور ہیں اسکے نتجے میں بہت سی خوبرو جوانیاں کو آئس نشے کی لت پڑ رہی ہے ایک سیکنڈ میں ہنستے بستے گھر ماتمی فضا میں بدل رہے ہیں یہ ہمارے گھررو ں کے ٹینشن زدہ ماحول کے باعث ہو رہاہے موجوددور کے بے صبر انسان میں خود ساختہ حرکتیوں کی بنیادی وجہ جاہلیت،غربت،اور بجا دولت ہے نئے خون میں اعتماد کا فقدان ، غیر ادبی بول چال ، نئی نسل تیزی سے ر سم و روج، تاریخ ،تہذیب اور اسلام سے رشتہ توڑ رہی ہے اسمیں والدین اور بچے برابر کے قصوروار ہیں۔پیدائش سے جوانی کی بے رحم موجوں کے حوالے ہوتے بچے کواگرپہلے دن سے ماں پاب کیپوری توجہ ملے یعنی سکول سے بچے کی ماہانہ رپورٹ لی جائے،اُسکے دوست احباب پر گہری نظر رکھی جائے وہ کیا سوچ رہا ہے کیا بننا چاہتا ہے کونسی نوکری کرنا چاہتا ہے بچہ تبی والدین سے شیئر کرے گا جب خود پر بھروسہ اور گھر میں دوستانہ ماحول ملے گاعدم برداشت اور اعتماد کی کمی ،بے پناہ صلاحتییں رکھنے والے بچوں کو بھی تعلیمی میدان اور علمی زندگی میں معذور بنا دیتی ہے جیسے عورتیں اصل سونے کے ساتھ آرٹیفیشل زیور پہنتی ہیں اسیطرح نوجوان نسل بامقصد زندگی گزارنے کی بجائے مصنوعی بہاریں اور نمائشی اشیاء کے پچھلے بھاگ رہی ہے ہر فرد میں عدم برداشت کا الگ الگ لیول ہوتا ہے جبکہ جوان جذبوں میں برداشت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،نفرت ،جدائی اور اندرونی غم عدم برداشت کی لاعلاج بیماریاں ہیں کسی شہزادی کو پانے کیلئے گُلدان توڑنا ،بالکل اُس جیسا ہو جاناکبھی غصے، کبھی نارمل ہو جاناآرٹیفیشل حرکتیں کہلاتی ہیں۔عدم برادشت کا کینسر اُسوقت پورے جسم میں پھیلا تاہے جب ہم نے اپنوں سے کبھی نہ پوری ہونے والی امیدیں لگائی ہوں،سائنس وٹیکنالوجی دور کی نسل کوعدم برداشت اور آرٹیفیشل حرکتیوں سے بچا پاناناممکن ہے کمپیوٹر،اسمارٹ فون پر سوشل میڈیا کا مسلسل کئی کئی گھنٹوں ستعمال صارفین میں موجودبرداشت کی تمام اقسام زائل کردیتا ہے اسکا زیادہ شکار نوجوان نسل ہو رہی ہے نسل نو میں عدم برداشت اور عارضی حرکتیں روکنے کیلئے ضروری ہے تعلیم کیساتھ ساتھ کھیل کو د بھی ہو ،سال میں ایک دفعہ سیاحتی مقامات کی سیر کروائی جائے اور گھر میں پُرسکون ماحول میسر ہو دیکھئے گا آپکے بچے میں برداشت اور قوت مدافقت کا مادہ بڑھ جائیگا اسکے علاوہ نئی نسل کو ادبی سرگرمیوں سے بھی روشناس ہوناچاہیے اہل دانش اور بچوں کے درمیان ہر ہفتے ایک مکالمہ رکھا جائے مختلف موضوعات پر دونوں جانب سے بحث ہوتاکہ کل کو ہماری نسل کامستقبل روشن اور معاشرتی برائیوں سے پاک ہوادب واحترام اُنکی میراث ہوسچ اُگلتی زبان ہوحضرت ایوب علیہ اسلام جیسا صبروجلا ل ہواور والدین پرپورا اعتماد ہو،زندگی کی بہتی ندی میں سونامی جیسے سیلاب آتے رہتے ہیں کئی بار ہمیں صبروبرداشت کے پانی میں بہت دور تک تنہا تیرنا پڑتا ہے پھر کہیں جاکے خوشیوں کا کنارہ اورشخصیت میں نکھار آتا ہے جس پر یہ معاشرہ آنکھیں بند کرکے اعتماد کرے اور کہے یہی ہے وہ نسل جس میں صبروبرداشت کی تمام خوبیاں موجود ہیں لیکن یہ سب تب ممکن ہو گاجب ہم ذہنی طور پرتیار ہوں گے وجود کی جانچ پڑتال کریں گے منفی سوچوں کا قتل عام کریں گے پھر ہی ہم تحمل والی زندگی بسر کرپائیں گے عدم برداشت اورآرٹیفیشل حرکتیں ہماری ذاتی پیداوار ہوتی ہیں ہمیں کوئی مجبور نہیں کرتایہ راستہ چننے کیلئے، ایسا فطرتی طور پرہوتا ہے معذرت کیساتھ آج بھی ایک آدھے شاعر میں یہ دو برائیاں خوب پائی جاتی ہیں مجھے فخر ہے میرا کوئی دوست بے صبری کایہ نشہ نہیں کرتا ،جھوٹ ،نفسیاتی عادتیں اور عدم برداشت سے مراسم زندگی میں کبھی ایک فیصد بھی کامیاب نہیں ہونے دیتے، نسل نو سے مثبت سرگرمیوں ،محنت سے حاصل منزل کیتوقع ہمیشہ رہے گی۔
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain ul Abadeen

Read More Articles by Zain ul Abadeen: 16 Articles with 6665 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Apr, 2020 Views: 366

Comments

آپ کی رائے