عہد شکنی اور توبہ

(Sami Ullah Malik, )

وہ بہت آہستہ سے اونچائی پرپہنچتی ہےاورپھراوراوپراوراوپر…..اورجب پتنگ نقطہ بن جائے تب اسے سنبھالنابہت مشکل، بہت ہی مشکل ہوتاہے۔ہاں بہت صبرچا ہئے،ہمت بھی اورحوصلہ بھی۔کبھی یوں لگتاہے ایک جگہ سا کت ہوگئی اونچائی پرپہنچ کر لیکن کب تک!آخر کہیں پیچ لڑجاتاہے اورکوئی ایک کٹ مرتی ہے…….کوئی نہیں ہوتااسے سنبھالنے والا۔اپنے مرکزسے کٹ کرڈولتی رہتی ہے اوربچے نگاہیں اٹھائے،ایک لمبی چھڑی جس کے اوپرکانٹے لگے ہوتے ہیں،لیکر اسے لوٹنے کیلئے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔اکثرتووہ جب زمیں پرآرہی ہوتی ہے،کانٹوں سے الجھ کرہی بربادہوجاتی ہے اوربچ بھی جائے توبچے اسے پرزہ پرزہ کردیتے ہیں۔سا لم تووہ کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ابھی توبہت اونچا اڑرہی تھی،اوراب اس کے پرزے ہوامیں اڑرہے ہوتے ہیںاورکیاخوداڑتی ہے پتنگ؟نہیں،خودنہیں اونچااوربلندہوتی،کوئی ہاتھ ہوتاہے اسے بلندیوں پر پہنچانے والا۔بس یہی ہے زندگی…یہی ہے…..

ہمیں سمجھ میں آئے تب ناں۔کسی نے بھی تو،ہاں یاروں کسی شے نے بھی نہیں رہنا۔بس فناہے،زندگی کے پیچھے موت ہے، زندگی کی نگہبان بھی موت ہے۔آگے نہ پیچھے، بس ہواچل سوچل۔سا مان سوبرس کاہوتاہے اورپل سامنے کھڑا گھوررہا ہوتا ہے۔کوئی چارہ ہی نہیں۔نہیں بالکل بھی نہیں۔

ہم انسان ہیں،حماقتیں کرتے ہیں،گناہ کرتے ہیں،آلودہ ہوجاتے ہیں ہم،دلدل میں دھنس جاتے ہیں،سیاہ ہوجا تے ہیں ہما رے قلوب، مرجاتاہے ہمارا اندر،تعفن اٹھ رہاہوتاہے ہم اندراورباہرخوشبولگائے گھومتے رہتے ہیں،کبرمیں مبتلا،تکبرتوجان لیوا ہے چاہے ذرہ برابرہو۔علم کا،دین داری کا،تقویٰ کا، طاقت کا،خوبصورتی کا،صلاحیتوں کا،بہادری کا،پیسے کااورنجانے کیسا کیسا بھیانک روپ دھارتاہے یہ تکبر۔بالکل بہروپئے کی طرح جوایک دن بھکاری اوردوسرے دن شہزادہ بناگھوم رہاہوتاہے۔ یہی دنیا ہے جی،یہی ہے۔

ہاں یہ توفیق پرہے،کرم پرہے،عنائت پرہے،کوئی بھی تونہیں بچاسکتا ہمیں۔بس بچانے والاہی بچاتاہے۔میں نمازپڑھتاہوں تو افضل ہوں،روزے رکھتا ہوں،زکوٰة دیتاہوں،خیرات بانٹتاہوں،توبس میں افضل ہوں۔نہیں،نہیں یہ دھوکاہے،شیطان کاہتھیار… بہت مہلک ہے یہ۔بس رب نے توفیق دی ہے،عنائت کی ہے،میرے بس میں کیاہے!میرے پلے توکچھ بھی نہیں،ہاں کچھ بھی تو نہیں ہے۔خالی دامن غبارے کی طرح پھولاہوا۔کچھ نہیں ہے میرے پاس۔

رب نے توفیق عنائت کی ہوئی ہے توبس شکرکروکہ تم اوروں کی طرح نہیں ہوورنہ شکل وصورت میں سب مختلف ہوتے ہیں، بس سرجھکاکرکہو”اللہ جی آپ نے یہ توفیق دی بس دیتارہ،میری نمازکیانمازہے،میری قربانی کیاہے،کچھ نہیں، بس توہی اپناکرم رکھنا۔ہماراہاتھ تھامے رکھنامیرے اللہ جی،اورہے ہی کون ہمارا،کوئی بھی نہیں ہے،کوئی بھی نہیں ہےیارو۔

اللہ جی تمہارے پیڑمیں پھل لگائیں توشکرکرو،نہ لگائے تب بھی شکرکرو،دولت ملے توامتحان لاتی ہے اورغربت میں تواور رب کے قریب پہنچتاہے،یہی توہے۔پھرجب گناہ سرزدہوجائے،آلودہ ہوجاؤتوسرجھکاؤ،آہ وزاری کرو،مجھ سے غلطی ہوگئی، ہاں مجھ سے بڑاظلم ہوگیا،نہیں میں آئندہ نہیں کروں گا۔ ندامت کے اشک جب چہرہ بھگودیں توسکینت اترتی ہے۔رب کی کرم نوازی جوش مارتی ہے اورآوازآتی ہے،ٹھیک ہے معاف کیا،آئندہ مت کرنا….. تومسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ہاں رب جانتا ہے پھرکرے گا،باربار کرے گا۔

جب،جب بھی دلدل میں دھنس جاؤتو نالۂ نیم شبی کرو،معاف کردے،معاف کردے،پھرہوگئی غلطی،تونے معاف نہ کیاتوپھرتو میں یقیناًتباہ وبربادہوجاؤں گا۔میرے کرتوتوں کونہ دیکھ،اپنی رحمت کودیکھ مالک،اورجب ہچکیاں بندھ جائیں توپھرسے رب کہتا ہے، ہاں چل ٹھیک ہے،مت کرنا آئندہ ۔ یہی ہے زندگی اوریہی ہے زندگی کااسرار۔ورنہ دھوکہ ہی دھوکا۔

کرم کی طلب کرو،سرجھکاکرشکرکر،پھربڑھاتاہے نعمتیں۔سب کچھ بن مانگے بھی دیتاہے،سب کودیتاہے،اپنی راہ اسے دکھاتا ہے جوطلب گارہو،جس کے دل میں آگ سلگ رہی ہو،جوپگھل رہاہو،پھرکرم کرتاہے اوراندرکی آنکھ کوبینا کردیتاہے۔یہی توہے نعمت، اشیاکی حقیقت کاعلم بلاطلب کئے نہیں ملتا۔میرے سرکار،میرے آقاومولاۖ نے بھی یہی مانگا ناں۔نہیں بلاطلب نہیں ملتا…….پھرطلب بھی ایسی کہ خاموش رہواورآنکھ بات کرے۔ نینابرسیں رم جھم رم جھم،سیلاب امڈآئے۔آنکھ کی زینت آنسوہیں،آنکھوں کاوضو آنسو ہیں،جوآنکھیں آنسوؤں سے محروم ہوں چاہے لاکھ نشیلی ہوں، مدھ بھری ہوں،بس آنکھ ہی ہے دیکھنے کیلئے،آنکھیں اورآنسوؤں کے بغیر!حیرت ہے کیسی آنکھ ہے وہ اشک بارنہ ہو۔بنجرصحراہے وہ آنکھ،خزاں ر سید ہ ہے وہ آنکھ!

تلاش حق اصل ہے با قی تودھوکا ہے،نرادھوکا۔دنیافریب ہے،سراب ہے،نشہ ہے مہلک ترین نشہ۔بس طلب کرو،توراہ دکھا اپنی۔ میں اس قابل تو نہیں ہوں،بس کرم کردے،دکھادے اوراتنی ہمت دے کہ حق سچ لکھتے ہوئے میرے قلم میں کبھی لرزش نہ آئے۔ میراکشمیرپچھلی سات دہائیوں سے لہولہوہے اوراب پچھلے آٹھ مہینوں سے لاک ڈا ؤ ن،انسانی حقوق کے چیمپئن کواب لاک ڈا ؤ ن کی سمجھ توآگئی ہے۔پچھلے چنددنوں سے ایک تصویر گردش کررہی ہے جس میں چندلوگوں نے بینراٹھارکھے ہیں جن پرجلی حروف میں لکھاہواہے کہ” دنیاکواس آفت سے بچاناہے توکشمیراورغزہ میں ہونے والے گناہوں کااعتراف کرکے اس کی تلافی کرناہوگی وگرنہ یہ ان دیکھاجرثومہ اس تمام وحشتناک خونی کی ہولی پرہماری خاموشی کاحساب چکاکررہے گا”۔

یامیرے کریم ورحیم رب!ماں تواپنی اولادکومصیبت میں دیکھ کرتڑپ اٹھتی ہے،تیری محبت توسترما ؤ ں کی محبت سے زیادہ ہے،ہم اپنے گناہوں،وعدہ خلافیوں اوراپنے گزشتہ گناہوں پرتیری مغفرت اورمعافی کے طلب گارہیں،ہمارے متکبرانہ الفاظ پر ہماری گرفت نہ فرماکہ”ہم کروناکامقابلہ کریں گے “ہماری کیامجال کہ ایک لمحے کیلئے بھی ایساسوچ بھی سکیں، ایساتصوربھی کرسکیں،ہم نے بارہایہ وعدہ کیاکہ ہم اس معجزاتی مملکت میں قرآن کانفاذ کریں گے لیکن اقتدارملنے پرہم نے عہدشکنی کی،ہم اپنے روّیے پرشرمندہ ہیں اورتوبہ کرتے ہیں،ہم سے راضی ہوجاکہ تیرااک اشارہ انسانیت کوبقاء بخش دے گا،یارب اپنی وسیع تررحمت سے ہمیں ڈھانپ لے آمین یارب العالمین!

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 58 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 359 Articles with 88790 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: