کورونا سے عوام پریشان‘ وفاق اور سندھ کے وزراء ہوش کے ناخن لیں (قسط۔13)

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
کورونا سے عوام پریشان‘ وفاق اور سندھ کے وزراء ہوش کے ناخن لیں (قسط۔13)
٭
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
کورونا وائرس سے دنیا میں آج تک ایک لاکھ 20 ہزار لوگ ہلاکت ہوچکے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک امریکہ،فرانس، اسپین، اٹلی جیسے ممالک کورونا سے بچاؤ کی تدبیر میں لگے ہوئے ہیں۔ چین نے تین چار ماہ کی تگ و دو کے بعد اس وبائی مرض پر قابو پالیا ہے۔ پاکستان میں کورونا سے شہید ہونے والوں کی تعداد سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ہر روز مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہر پاکستانی پریشان، فکر مند اور اپنی جان بچانے کی فکر کے ساتھ ساتھ معاش کی فکر میں بھی ہے۔ کورونا کی شدت میں کمی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ وقت باہمی یگانت، اتحاد، ایکا، دوستی، اتفاق، یکدلی، ہم خیال ہونے اور کلیتہ ایک ہوجانے کا ہے لیکن افسوس صد افسوس، ہمارے حکومتوں کے وزراء (مرکزی حکومت اور حکومت سندھ) ایک دوسرے پر تشنام ترازی، دشنام آمیزی، طعن و تشنیع، عناد، بیر، کینہ، کج روی، تناقض، تنقید، نکتہ چینی، اعتراض، عیب گیری کرنے اور ایک دوسرے کے کاموں میں نقص نکالنے میں بازی لے جانے کے درپہ ہیں۔ چند وزیروں کو حکومت سندھ نے اور چند مرکزی وزیروں کو مرکز نے لگتا ہے کہ یہ ٹاسک دے دیا ہے کہ تم ایک دوسرے کے کاموں میں عیب جوئی، نکتہ چینی، نقص تلاش کرنے، برائی نکالنے، کج روہو کر کج روِش اختیار کیے رہواوروہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوئی کثر مت چھوڑ نا۔
انہیں قائل کرنا، انہیں سمجھانا ممکن نہیں، اس لیے کہ یہ دونوں اپنے آپ کو عقل ِکل، اپنے اقدامات کو ہر صورت میں درست اور جائز تصور کرتے ہیں جب کہ مخالف کو غلط، ان کے عمل کو نا مناسب، غلط ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے دلائل دیتے ہیں کہ اینکر پرسن اسی میں بہتری تصور رکرتا ہے کہ خاموشی اختیار کر لے۔ موجودہ حالات میں جب کہ ہر ایک فکر مند ہے اپنے لیے، اپنے گھر کے افرادلیے،اپنے بچوں کے لیے، اپنے خاندان کے لیے کیسے بچا جائے، کیسے روٹی روزی کا بندو بست کیا جائے،ہر صبح آنکھ کھلتی ہے تو یہی دعا لبوں پر ہوتی ہے کہ اللہ کورونا سے نجات دے۔رات ہوتی ہے تو تمام ٹی وی چینل پر سرکار اور مخالف سرکار (مخالف سرکار اس لیے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت، نون لیگ کی آزاد کشمیر میں حکومت، اور دیگر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ان دونوں کی اتحادی، اس لیے یہ سب اقتدار میں بھی ہیں اور حزب اختلاف میں بھی، یہاں تک کہ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں حزب اختلاف کا کردار ادا کررہی ہے)کے وزراء ایک دوسرے پر الفاظ کے گولے برسارہے ہوتے ہیں۔
تاریخ یہ بتاتی ہے، مَیں اور میری عمر کے احباب گواہ ہیں کہ پاکستان میں جب بھی کوئی مشکل،مصیبت، آفت آئی یا بھارت نے جنگ مسلط کی تو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح ایک ہوگئی۔ ہم نے اب تک پاکستان میں یہی دیکھا، سیلاب آیا تب، زلزلہ آیا تب یا بھارت نے جنگیں مسلط کیں توپاکستان کا ہر بچہ جوان، بوڑھے، خواتین سب حکومت کے ساتھ، اپنی فوج کے شانا بشانہ دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ ہرایک جو کچھ بھی کرسکتا تھا اس نے اپنے وطن کے لیے کیا، شاعروں نے قومی گیت لکھے، گلوکاروں، موسیقاروں نے انہیں خوبصورت انداز سے گایا، میڈیا نے اپنا کردار ادا کیا، الغرض سب کے سب ایک ہوکر کھڑے ہوگئے لیکن نہیں معلوم اب ہمارے سیاست دانوں کو کیا ہوگیا، حکومتی جماعتیں کیا چاہتی ہیں، تن تنہا اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، اختلافات کس کے کس کے ساتھ نہیں، کیا نون لیگ اور پیپلز پارٹی خوشی سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں،مذہبی جماعتیں سب خوشی سے ایک ہیں، نیشنل عوامی پارٹی اس وقت اتحادی ہے حزب اختلاف کی، کیا یہ خوشی سے ان کے ساتھ ہیں، ہر گز نہیں،وزیر اعظم صاحب کو بھی وقت اور حالات کے پیش نظرفہم و فراست اورعقل و دانش سے کام لینا چاہیے، سیاست دانوں کا ہی فرمان ہے کہ سیاست میں ہر کچھ جائز ہے، یوٹرن لینا سیاست میں کوئی بری بات نہیں، وقتی طور پر ملک و قوم کی خاطر، کورونا جو کہ ایک عالمی وبا بن کر دنیا میں تباہی پھیلا رہا ہے، پاکستان میں بھی یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ ہی رہا ہے، ایسے حالات کا تقاضہ ہے کہ خان صاحب حزب اختلاف سے ہاتھ ملالیتے، پہل کر لیتے، خود شہباز شریف، آصف علی زرداری، اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن کے پاس چلے جاتے، اس سے ان کا قد کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا، مقدمات اپنی جگہ، ان کی ماضی کی غلطیاں اپنی جگہ، دنیا دکھاوا ہی سہی ساتھ ملالینا چاہیے تھا۔ لیکن خان صاحب کی خانصاحبیت کا کیا جائے۔ رہی سہی کثر ان کے وزیروں اور مشیروں نے پوری کردی۔
اب بھی وقت ہے، کورونا سے ہلاکتوں کا اب جو وقت آنے والا ہے اس کے بارے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اور زیادہ انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پاکستان میں ہلاکتیں سو تک ہوچکی ہیں۔ اللہ نہ کرے اس میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستانی قوم اس صورت حال کو کیسے برداشت کرے گی۔بنیادی اختلاف لاک ڈاؤن کے سخت اور نرم ہونے کا ہے، سندھ حکومت سندھ میں سخت لاک ڈاؤن چاہتی ہے جب کہ قبلہ وزیر اعظم صاحب سخت لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں، لیکن جو دلائل وہ دے رہے ہیں ان میں بھی وزن ہے، یعنی سخت لاک ڈاؤن میں لوگ بھوک سے مرجائیں گے، دیہاڑی دار طبقہ، مزدور، مشکل میں آجائے گا۔ بات اپنی جگہ درست ہے، سندھ سرکار کا خیال ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کریں تاکہ کورونا سے لوگ محفوظ رہ سکیں، اس بات میں بھی وزن ہے، اب معاملا یہ کہ کوئی درمیان کی راہ نکالی جائے، اور جو بھی فیصلہ ہو وہ باہمی اتفاق، صلاح و مشورہ سے ہو، اگر ایسا نہ ہوا تو نقصان عوام کا ہوگا،خواص کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا۔ جناب وزیر اعظم ملک ترقی کرتا ہے، عوام خوش حال ہوتے ہیں تو سربراہ کو اس کاکریڈٹ ملتا ہے لیکن برا ہوجائے تو الزام کسی وزیر، مشیر، سفیر کو نہیں بلکہ وزیر اعظم کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے۔ تمام تر برائی، خامی وزیر اعظم کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہیں۔ سمجھائیں اپنے وزیروں، مشیروں اور سفیروں کو کہ یہ وقت فائرنگ کا نہیں بلکہ حکمت سے کام لینے کا ہے۔لڑائی جھگڑے کا نہیں صلاح و آشتی کا ہے، میل ملاپ کا ہے، گفتگو میں، برتاؤ میں نرمی اور رواداری کا ہے۔ وزراء سے کہیں کہ اپنے اپنے حلقوں میں جائیں، عوام کے حوصلے بڑھائیں، کس کس کو امداد ملی کس کو نہیں ملی، امدادی کاموں کی نگرانی کریں، کورونا کی منصوبہ بندی میں 49وزراء، مشیران کوئی تیر نہیں ماررہے، جو آپ کے ساتھ کام کر رہے ہیں انہیں اسلام آباد میں رہنے دیں باقی فوج ظفر موج کو ہدایت کریں کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں جائیں۔ وہاں عوام کی داد رسی کریں، ان کے حوصلے بڑھائیں۔اب پاکستان کے عوام کو اسی چیز کی ضرورت ہے۔ رازق اللہ ہے، وہ رزق دے گا، ضرور منصوبہ بندی کریں، جو کرنا ہے کریں لیکن سیاسی لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ اسی میں سیاست کی بھلائی ہے، اسی میں عوام کی اور ملک کی خیر خواہی ہے۔(15اپریل 2020ء)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 657769 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
15 Apr, 2020 Views: 287

Comments

آپ کی رائے