کورونا اور جہالت

(Tanvir Sadiq, Lahore)

مجھے گھر میں بند ہوئے دوسرا دن تھا۔صبح صبح کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔چونکہ میں نے گھر کو بھی لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے اس لئے بجائے باہر جانے کے گھر کے اندر ہی سے پوچھا کہ کون ہے۔ جواب ملا تو پتہ چلا کہ گھر کے لان میں پودوں کی دیکھ بھال کے لئے کام کرنے والے مالی صاحب روٹین کے مطابق تشریف لائے ہیں۔ بند دروازے کے اندر ہی سے میں نے ان سے معذرت کی کہ حکومت کی ہدایات اور اپنے اور آپ کے مفاد اور بھلائی کی خاطر میں دروازہ نہیں کھول سکتا۔ ٓپ چھٹی کریں او ر اس وقت تک اپنے گھر پر رہیں جب تک حکومت اجازت نہیں دیتی، پہلی تاریخ کو آپ کی تنخواہ بھجوا دوں گا۔ہمارا مالی بزرگ آدمی ہے اور انتہائی سادہ اور محنتی ۔ میرے گھر سے کوئی چار پانچ کلومیٹر دور رائے ونڈ روڈ پر ا رائیاں گاؤں کا رہائشی ہے۔ وہ مڑا تو میں نے پوچھا کہ باہر کیا صورت حال ہے۔جواب ملا ، بہت اچھی ہے۔ رینجرز آئی ہوئی ہے۔ رات ساری لوگ اذانیں دیتے رہے ہیں۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری مسجد میں ہمیشہ تیس چالیس نمازی ہوتے تھے۔ جب سے بیماری کا پتہ چلا ہے لوگوں نے اپنے رب کو دل سے پکارنا شروع کر دیا ہے ۔ آجکل ماشا اﷲمسجد میں دو سو کے قریب لوگ ہوتے ہیں۔ گاؤں کی چھوٹی سی مسجد ہے پوری طرح نمازیوں سے بھری ہوتی ہے بلکہ عموماً جگہ کم پڑ جاتی ہے ۔

میں نے پریشان ہو کر پوچھا، تیس چالیس کی بجائے دو سو آدمی چھوٹی سی مسجد میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس پھیلتی ہوئی بیماری کے سبب تو خانہ کعبہ میں عبادت روک دی گئی ہے، دنیا بھر کے علماء نے مسجدوں میں نماز کی ادائیگی وقتی طور پر روکنے کا کہا ہے، جمعہ کا خطبا انتہائی مختصرکرنے کی سفارش کی ہے ۔ لوگوں کو نماز گھر پر پڑھنے کی ہدایت کی ہے، مسجدوں میں پڑھنے والوں کو فاصلہ رکھنے کا کہا گیا ہے اور آپ لوگ خوش ہو کہ بندے اب دو سو آ رہے ہیں، مسجد میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ یہ تو سرا سر بیماری کو دعوت عام ہے ۔ کوئی آپ کی مسجد کے امام کو پوچھنے نہیں آیا۔وہ ہنس دیا اور بولا، اﷲ کا گھر ہے وہ حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ میں نے بڑا سمجھایا کہ عقل بھی اﷲنے دی ہے۔ اور پھر ایسی بیماریوں میں میرے رسول ؑ کا بھی حکم ہے کہ ایک دوسرے سے ایک نیزے کا فاصلہ رکھو۔ میں نے خاصی لمبی چوڑی تقریر کی اور اسے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی مگر بقول اقبال ’’مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر‘‘۔ مالی صاحب کا جذبہ ایمانی اس قدر جاندار تھا کہ باوجود میری تمام تر کوشش کے وہ ہنستے ہوئے یہ کہہ کر چلے گئے کہ اﷲسب ٹھیک کر دے گا، فکر نہ کریں ۔اس کا گھر رائے ونڈ مرکز کے ایک نزدیکی گاؤں میں ہے جو مین روڈ سے تھوڑا ہٹ کر ہے اور میری معلومات کے مطابق تاحال وہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔مجھے یقین ہے کہ اس گاؤں کی روٹین میں کوئی فرق نہیں آئے گا

میں ایک دکان پر کچھ سودا لینے کے لئے گیا۔ کوئی احتیاط نہ تھی ۔ لوگ ایک دوسرے سے جڑے خریداری کر رہے تھے۔ میں نے کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید رش کم ہو جائے مگر ایسی کوئی صورت حال نظر نہ آتی تھی۔تنگ آ کر میں نے پچھلے دروازے سے دکان کے ایک لڑکے سے رابطہ کیا اور ضرورت کی چیزیں اس سے حاصل کر لیں۔ جاتے جاتے میں نے اسے کہا۔ بیٹا ، صورت حال اچھی نہیں ۔ اک وبا پوری طرح پھیل رہی ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں ماسوائے احتیاط کے۔ ایک تو خود ماسک پہن کر رکھو اور دوسرا گاہکوں کو تھوڑے فاصلے پر رکھیں۔ ہر ایک کے درمیان فاصلہ ہونا چائیے۔ اس لڑکے نے میری طرف دیکھا، مسکرایا اور کہنے لگا۔آپ نے ماسک پہنا ہوا ہے۔ بس یہ کافی ہے۔ یہ وبا بوڑھوں کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ جوانوں کو کچھ نہیں کہتی۔ آپ بوڑھے آدمی ہیں اپنی فکر کریں ۔ باقی گاہکوں کے درمیان فاصلے، ہم نے دکانداری کرنی ہے تھانیداری نہیں۔مشورے کا شکریہ۔ وہ پلٹ کر اسی انداز میں پھر اپنا کام کرنے لگا۔ میں واپس پلٹا یہ سوچتے ہوئے کہ یہ وہ مرد نادان ہے کہ جس کا علاج کسی ڈاکٹر، کسی حکیم، کسی ناصح یا کسی عام مفکر کے پاس نہیں فقط تھانے والوں کے پاس ہے۔ مگر جب تھانے والے ہمارے مفاد میں اپنے طریقہ کار کے مطابق ہمارا علاج شروع کریں گے تو ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ گلا ہو گا۔

حکومت نے سارے اسپتالوں کو کرونا سنٹروں میں بدل دیا ہے۔ کرونا کا ابھی تک کوئی علاج نہیں سوائے سماجی فاصلے اور تنہائی کے۔اس مقصد کے لئے ہسپتالوں کا استعمال عام لوگوں پر ظلم ہے۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں جو بند ہیں ان کے کمرے اور ہوسٹل قرنطینہ کے بہترین مرکز ثابت ہوسکتے ہیں مگر ہسپتالوں کا یہ غلط استعمال عام مریضوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ جن لوگوں کو کسی بیماری کے سبب کسی ڈاکٹر کو دکھانا ہوتا ہے، وہ بڑے بے بس نظر آتے ہیں۔ سناہے حکومت عوام کے اس بہت بڑے مسئلے کا کوئی فوری حل نکال رہی ہے۔کاروبار کی غیر معینہ بندش انارکی اور بد نظمی کو جنم دے گی۔ حکومت صنعتوں کی بحالی کا جو فیصلہ کر رہی ہے اس پر جلد عملدرآمد کی ضرورت ہے۔مخصوص احتیاط کے ساتھ انڈسٹری کا پہیہآسانی سے چلایا جا سکتا ہے۔ کنسٹرکشن انڈسٹری کی بحالی اور مراعات گو کچھ بہتری لائی گی مگر لینڈ مافیہ اس سے زیادہ فاعدہ اٹھائے گا۔ عام آدمی اس سے اسی صورت فاعدہ اٹھا سکتا ہے جب حکومت اس میں بے گھروں کو خصوصی ریایت اور مراعات دے۔کم قیمت پر پلاٹ اور سستے قرضے صرف اور صرف ان لوگوں کے لئے جو اپنے مکان کے متلاشی ہیں، صورت حال کو بہتر کرے گا۔ اس وقت بہت ضرورت ہے کہ ملک میں زرعی ترقی کی صورت حال پر غور کیا جائے۔ اگر ہم زراعت کو بہتر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بہت سے عام مزدور اپنے گھروں کو چھوڑنے سے اجتناب کریں گے جس سے ایک تو ہمارے گاؤں بہتر شکل اختیار کریں گے دوسرا شہروں پر آبادی کا دباؤ بھی کم ہو گا۔ فطرت نے کلچر کی تبدیلی کے لئے انسان پر جو دباؤ ڈالا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہماری آئندہ ساری پالیسیاں اسی کے مطابق ہوں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 227229 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
15 Apr, 2020 Views: 262

Comments

آپ کی رائے