پاکستان کی اصل اساس

(M S Ather Qureshi, Kuala Lampur)


موجودہ حکومت کس طرح سے ارض وطن پاکستان پر مسلمانا ن پاکستان کا ارص حیات تنگ کرتی جا رہی ہے اور اس کے مذموم مقاصد کیا ہیں ہمیں کس طرح سے اس موجودہ حکومت اور ان کے ان حواریوں جو بظاہر تو پاکستانی ہیں حقیقت میں وہ اسلام اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں وہ پاکستان کو ایک غیر مستحکم ملک بنانا چاہتے ہیں،اصل میں وہ دشمن نظریہ پاکستان کے ہیں کیونکہ پاکستان دنیا کے خطے کے اوپر وہ واحد ملک ہے پاکستان جو ایک نظریے کی وجہ سے معذر وجود میں آیا اور وہ نظریہ نظریہ اسلام ہے اسی لیے تمام لادینی قوتوں غیر مسلم قوتوں کو یہ ملک کھٹکتا ہے کر ا ہ عرض پر دو ملک ہیں نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں اس میں پہلا ملک پاکستان اور دوسرا ملک اسرائیل ہے باقی دنیا کے اندر جو مسلم ممالک ہیں وہ جغرافیائی لحاظ سے ملک بنے ہیں اور وہ اسلامی ملک ہیں لیکن جو نظریہ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آیا پاکستان ہے یہ قوتیں جو پاکستان کے خلاف ہیں جو کہ پاکستان کو ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں کسی مذہب کسی دین یا نظریے کا پرچار نہ ہ غیر نظریاتی ملک بنانا لادین ریاست بنانا چاہتے ہیں اسی لئے اس کو لادینیت کی طرف لے کے جانا چاہتے ہیں کہ جن کا کوئی دین نہیں کوئی مذہب نہیں پاکستان کی ریاست کو اس ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ا یران نے کبھی بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا پڑوسی ملک ضرور کہلاتا ہے اس لئے اس دفعہ انہوں نے پوری کوشش کے ساتھ ایسے شخص کو حکومت دلوائی اور ایسی ٹیم منتخب کروا کے جو اپنے مذموم مقاصد میں بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے صحیح ہے ؟اچھا اب ان کا دوسرا ہدف ان کے دوہدف جو پورے کر لیے ایک قادیانی آزاد ہوگئے ،آزادی سے اپنے مذہب کی عبادت کر رہے ہیں اپنے مذہب کی تشہیر کر رہے ہیں اور انڈیا سے ایک بارڈر کھولا گیا گردوارہ بنا کے کر تا ر پور بارڈر کھول کر غرضیکہ زائرین کی بغیر ویزے کے پاکستان آمد ، سو لوگ آئے اس میں سے 70 واپس گئے باقی 30 کدھر گئے ان کے شناختی کارڈ بنیں گے ان کے سارے معاملات ہوں گے پاکستانی شہری بنے گے یہی سلسلہ جو کرتارپور کے ساتھ ہوئے یہی افغانستان کے ساتھ ہوگا ایران کے ساتھ بھی ہوگا وہاں سے بھی بارڈر کھلاجائے گا اور وہاں سے بھی لوگ آرہے ہیں اور افغانستان کا باڈر بھی کھلنے جا رہا ہے پاکستانی حکومت اب ایک ٹائیگر فورس بنانے چلی ہے آپ دیکھے گا کہ ٹائیگر فورس میں کون سے لوگ شامل ہوں گے نام وغیرہ کو چھوڑ دیجئے ان کی شکل اور جسامت دیکھیے گا کہ ٹائیگر فورس میں شامل ہونے والے کون سے لوگ ہیں 80 فیصد وہ لوگ ہوں گے جو قادیانی ہوں گے اہل تشیع ہوں گے یا سنی کا مسلمانوں کا روپ دھارے ہوئے جو ہمارے وزیراعظم کے وفادار ہوں گے ابھی تو حکومت ان کو لانچ کر رہی ہے پھر ایسا وقت آئے گا کہ حکومت ان کے آگے بے بس ہوگئی ہمارا وزیراعظم کس کا وفادار ہے یہ سب کچھ وزیراعظم کی ناک کے نیچے ہوگا یہ لااینڈ آرڈر کو کنٹرول کرے گی یہ جو ٹائیگر فورس ہے یہ لائن آرڈر کو کنٹرول کرے گی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سین ہوگا ٹائیگر فورس کا قیام کیوں عمل میں آرہا ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں یہ وزیراعظم کی ایک طرح سے ذاتی فورس ہوگی نظریہ پاکستان کی حامی تمام اسلامی قوتوں کو اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے اندر تمام مکاتب فکر کے مسلمان ان کو ایک پلیٹ فارم پر اسی طرح سے اکٹھا ہونا ہوگا جس طرح سے نوے کے دور میں قائد ملت اسلامیہ حافظ و قاری مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمتہ اﷲ علیہ نے ملی یکجہتی کونسل بنائی تھی ایک ایسی ہی ملی یکجہتی کونسل بنانی ہوگی جوپاکستان کی صوبائی سطح ،ڈویژنل سطح ،ضلعی سطح ،اور پاکستان کی علاقائی سطح پر لیگل ایکٹ کمیٹیز بنائے ان کا کام یہ ہو کہ حکومت جو بھی ایسے اقدامات کر رہی جو تہتر کے آئین اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہو ں وہ اپنے قائدین کے مشورے سے ہر سطح پر عدلیہ کے اندر ان کو چیلنج کریں آپ اپنے ملک کے بہتر مفاد کے لئے بات کر رہے ہیں پاکستان کے قانون کا دفاع کر رہے ہیں پاکستان کے ایک بااصول شہری اور ذمہ دار ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں اب آپ جو بھی ملی یکجہتی کونسل یا اس کی طرز پر پارٹی بناتے ہیں اس کا کام یہ ہوگا میڈیا کے اندر اپنے ایسے لوگوں کو داخل کرنا ہوگا جو اسلامی نظریات کے حامل ہوں جو ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتے ہو جو تحفظ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں جب تک ہم میڈیا کے اندر سچے پاکستانیوں کو جگہ نہیں دیں گے جو حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہیں لانے ہونگے آپ نے دیکھا ہو گا کہ ممتاز قادری کا جنازہ کتنا بڑا تھا کہ جو پاکستان کی ہسٹری کے بڑے سے بڑے جنازوں میں اس کا شمار ہوتا تھا لیکن ہمارے کسی بھی میڈیا نے نہیں دکھایاجو کہ کھلی اسلام دشمنی تھی پھر تحریک لبیک یارسول اﷲ کا جو دھرنا تھا اس کو بھی ہمارے میڈیا نے اس طرح سے نہیں دکھایا جس طرح سے دکھایا جانا چاہیے تھا ان سب کے تدارک کے لیے آپ کو ایک بہترین پلان بنا کر میدان عمل میں آنا ہوگا ان کے خلاف تحریک پیش کی جائیں ان کے خلاف کورٹ کے اندر ریفرنس دائر کیے جائیں جو پاکستان کے خلاف بات کر رہے ہیں یہ نظریہ پاکستان کے مخالف ہیں ان کو بولنے کی اجازت نہ دی جائے جس کے پاس تحفظ ناموس رسالت کا سرٹیفکیٹ نہ ہو مذہبی تنظیم سے یہ ختم نبوت کے حامی ہیں یہ عقیدہ ختم نبوت کے دفاع کے حامی ہیں ﷲ تعالی ہمیں عقل سمجھ اور دانائی عطا فرمائے کہ ہم ایسے فیصلے کریں کہ جس سے ہمارے آنے والی نسلیں استفادہ حاصل کریں پاکستان کی بقا سالمیت نظریہ پاکستان اور مضبوط دفاع کرنے کے لیے ہمارتعلیمی نظام میں سیرت النبی کامضمون لازمی شامل کرناہوگااسلامیات کے پیپر کے اندر سیرت النبی اور صحابہ کرام کے متعلق تمام معلومات مکمل ہونی چاہیے اور جس بچے یا بچی نے میٹرک امتحان پاس کرنا ہو اس کو لازمی طور پر اسی فیصد نمبر حاصل کرنا ہو ں اس کے لئے جدوجہد کرکے یہ ساری چیزیں جو ہمارے تعلیمی کورس میں شامل کروانا یہ بھی اسی تنظیم کا کام ہوگا اگر ہم نے بنیاد مضبوط کر دی اپنے مذہب کے اوپر اپنے نوجوانوں کو عبور دلوا دیں تو ہماری آنے والی آئندہ نسلیں بہتر مسلمان بن سکتی ہیں ہم پاکستان کی اصل اساس جو نظریہ پاکستان علمائے برصغیر پاک وہند مولانا محمد علی جوہر شوکت علی جوہر ڈاکٹر علامہ اقبال ڈاکٹر علامہ اقبال و قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقا نے پیش کیا تھا ہم دوبارہ اس کو حاصل کر سکیں گے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M S Ather Qureshi

Read More Articles by M S Ather Qureshi: 3 Articles with 1381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Apr, 2020 Views: 284

Comments

آپ کی رائے