رمضان المبارک اور نئے حوصلے و عزائم

(Abu Aamir, Mumbai, INDIA)

آئیے اس ماہِ رمضان کا استقبال کچھ نئے عزائم کے ساتھ کریں۔

مکرمی ! الحمداللہ ملک بھر میں ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا ہے ۔ اور رمضان المبارک اپنی تمام رحمتوں برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہوچکا ہے ۔ اس سال رمضان گزشتہ تمام تر رمضانوں سے بالکل الگ ہے کیونکہ آج دنیا کے زیادہ تر ممالک عالمی وبا کورونا وائرس یا COVID-19 کے چلتے لاک ڈاؤن کر دئیے گئے ہیں ۔ ایسے میں کئی لوگ بہت جذباتی ہوجاتے ہیں اور باتوں کو منفی انداز میں لیتے ہیں کہ اب رمضان کا مبارک مہینہ آگیا ہے اور ہمیں اس ماہ میں بھی نمازیں اور خاص طور پر تراویح جماعت کے ساتھ ادا کرنے یا مسجد میں پڑھنے نہیں ملیں گیں ۔ اور تو اور کئی افراد یہ بھی کہہ رہیں ہیں کہ اللہ ہم سے سخت ناراض ہے یا یہ اللہ کی جانب سے ہمارے لئے عذاب ہے وغیرہ ۔ تو یہاں ہم سب یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ چاہے کیسے بھی حالات ہوں اس میں اللہ کی کوئی نہ کئی مصلحت ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی چیز نہ ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ فائدہ ۔ تو ہمیں اللہ کی ذات سے نا امید نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان حالات کو مثبت انداز میں لینا چاہیے ۔

ہمیں اس لاک ڈاؤن والے رمضان کو غنیمت اور اللہ کی جانب سے نعمت مانتے ہوئے پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا تمام وقت زیادہ سے زیادہ عبادات میں گزارنا چاہئے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ ہمیں تراویح اور پنچ وقتہ نمازیں مسجدوں میں با جماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔۔ تو ایسے لوگوں نے یہ سوچنا چاہئے۔۔۔۔کیا ہوا اگر ہم مسجدوں میں نمازیں ادا کرنے سے محروم ہیں۔۔۔لیکن یہ اللہ کی جانب سے ایک نعمت ہے کہ ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ہمارے لیئے یہ ایک سنہری موقع بھی ہے کہ ہم اپنی تمام تر عبادات اپنے اہل خانہ کے ساتھ اجتماعی طور پر ادا کریں گے ۔

کچھ نکات رمضان کے تعلق سے :
اللہ سبحان تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ ” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہے ( نہ صرف مسلمانوں کے لئے ) ” ( القرآن ۲ : ۱۸۵ ) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان ماہ قرآن بھی ہے۔ رمضان میں ہمیں زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرنی چاہیے اور جتنا ہو سکے اسے خاص طور پر سمجھ کر بھی پڑھنا چاہئے اور اہل خانہ اور بچوں وغیرہ کو بھی تلقین کرنی چاہیے ۔ ہر سال ہم جس طرح روایتی انداز میں رمضان گزارتے تھے اس سے آگے بڑھ کر اس سال ہمیں الگ طریقے سے گزارنا چاہیے ۔ ہم نے رمضان کو کھانے پینے، سیر و تفریح اور خریداری کا تہوار بنا لیا ہے لیکن اس سال ہمیں ان تمام چیزوں سے گریز کرنا ہے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ان غریب، مزدوروں اور ضرورت مندوں کی بھی مدد کرنی چاہیئے جو لاک ڈاؤن کے دوران جگہ جگہ پھنسے ہوئے ہیں، یا جن کے پاس اناج اور دوسری ضروری اشیاء مہیا نہیں ہے ۔ ہم رمضان کے دوران کئی بری چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور پھر رمضان کے بعد ویسے ہی ہوجاتے ہیں جیسے پہلے تھے۔۔۔ تو ہمیں اس رمضان ایک نئے عزم و حوصلے کے اٹھنا ہے کہ ہم تمام احتیاطی تدابیر بھی اختیار کریں، روزے بھی رکھیں گے، با جماعت نمازیں بھی ادا کریں قرآن مجید کی تلاوت اور ترجمہ بھی پڑھیں گے، ذکر و اذکار بھی کریں گے، اللہ سے اپنے تعلق کو بھی مضبوط کریں گے اور جیسے ہم رمضان کے دوران تمام برائیوں، فحاشی و عریانی اور غیر ضروری چیزوں سے پرہیز کرتے تھے ویسے ہی رمضان کے بعد بھی اپنے کردار و اخلاق کو باقی رکھیں گے ۔

آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اس وبا کو رمضان المبارک کے صدقے دور فرمائے امت مسلمہ کے تمام مسائل کو دور فرمائے اور ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور ہدایت دے۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔

اسی کے ساتھ آپ تمام کو رمضان المبارک کی پر خلوص مبارک باد ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abu Aamir

Read More Articles by Abu Aamir: 2 Articles with 1430 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2020 Views: 248

Comments

آپ کی رائے