کرونا وائرس اور ہمارا کردار

(Muhammad Suleman Usmani, )

کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں پر ہمیں بھی بے نقاب کر دیا ہے جب چین میں کرونا وائرس کا حملہ ہوا تو ابھی کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد چند ایک تھی کہ پوری چینی قوم نے ماسک پہننے کے ساتھ ساتھ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دیں تھیں اگر کہیں کوئی غفلت نظر آتی تھی تو چینی پولیس پوری قوت سے قانون پر عمل کرا رہی تھی ڈاکٹروں نے رضاکارانہ طور پر خود کو کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے پیش کیا پڑوسی ممالک سے سرحدیں بند کر دی گئیں اور ذرائع آمد و رفت محدود کرنیکے ساتھ ساتھ ان راستوں پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ماسک ختم ہو گئے تو ہر شخص نے انفرادی طور پر ماسک کے متبادل کا انتظام کیا اور صرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے پر اکتفا نہیں کیا چینی قوم نے بھی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور اب حالات یہ ہیں کہ جہاں سے کرونا نے جنم لیا اب اس شہر میں ایک بھی کورونا وائرس سے متاثرہ مریض نہیں اس کے بر عکس ہمارے ملک میں حکمرانوں سمیت عوام نے یکسر مختلف ردعمل دیا ہے حکمرانوں نے چینی طلباء کو روکا اور دیگر ممالک سے لوگوں کی ملک آمد جاری رکھی جس سے کورونا نہ صرف تیزی سے پھیلا بلکہ صورتحال یہ ہو گئی کہ حکمرانوں کے پاس معلومات نہیں کہ بیرون ملک سے آنے والے اس وقت ملک کے اندر کن علاقوں میں ہیں صورتحال سنگین ہونے پر جب ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا اور عوام سے احتیاط کا کہا گیا تو جو پہلا ردعمل سامنے آیا وہ یہ تھا کورونا سے بچاؤ کے لئے استعمال ہونے والی تمام اشیاء بشمول ماسک سینی ٹائیزر صابن ڈیٹول اور جن اجزاء سے یہ چیزیں تیار ہوتی ہیں ان کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں,کرونا وائرس ایک موزی مرض جس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور دنیا اﷲ پاک کی مطلق العنانیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ سپر پاور ملک اور جدید سائنس لیبارٹریز والے ممالک بھی اس ان دیکھے وائرس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور اسی رب کی طرف متوجہ ہیں جو رب صلہ رحمی، ایثار و قربانی اور حقوق العباد کا حکم دیتا ہے۔ وائرس کے ملک میں پنجے گاڑھتے ہی حکومت وقت نے مجبورا فیصلہ کیا کہ ملک کو لاک ڈاون کیا جائے۔ حکومت وقت کے لیے یہ فیصلہ بہت ہی مشکل تھا کیونکہ ملک میں ایک کثیر آبادی دیہاڈی دار اور متوسط طبقہ کی ہے اسی طبقہ کی خاطر حکومت نے پیکجز دیئے ہیں۔ وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر شہری کو اپنے تئیں احساس کے جذبہ کو بروئیکار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ احساس جیسے انسانی جذبہ کے تحت ہر فرد کو اپنے طور پر کوشش کرنا ہوگی تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں وباء کے ساتھ ساتھ بھوک اور افلاس کے ساتھ بھی لڑا جا سکے۔ اس مرض سے بچنے کے لیئے جہاں احتیاط کی ضرورت ہے وہاں احساس بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ صرف خود کو قرنطینہ نہ کریں بلکہ اردگرد کے ہمسائیوں پر بھی نظر دوڑا لیں ہو سکتا ہے کہ کوئی ہمسائیہ ضرورت مند ہو اور صرف اپنی سفید پوشی اور بھرم کے لیے خاموش ہو۔ اپکا پہلا حق اپکے ہمسائیوں کا ہے انکا احساس کریں اور انکی مدد اور بھلائی کی بھی کوشش کریں۔ دیہاڑی دار طبقہ اسوقت سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہے انکا احساس کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ حکومت نے جو امدادی پروگرامز شروع کئے ہیں وہ بہتر ہیں لیکن جلد سے جلد ان لو گوں تک امداد پہنچ جا نی چاہیئے،یہ نہایت مناسب ہے اور وقت کی ضرورت ہے،کیونکہ پاکستان میں سفید پوش طبقہ بھی موجود ہے ان کی امداد بھی وقت کی ضرورت ہے ،کورونا وائرس اپنی جگہ اور جہاں لاک ڈاؤن ہے کاروبار زندگی معطل ہے وہاں پر حکومت دیہاڑی دار طبقہ ،غریب ،نادار،مستحق اور سفید پوش طبقہ کو فی الفور امداد فراہم کریں ان کی مدد کریں اس کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات بھی جہاں غرباء سے تعاون کررہے ہیں وہاں پر سفید پوش طبقہ کو بھی یاد رکھیں،اس کے علا وہ مساجد کے آئمہ کرام ،خطیب و مؤذنین حضرات کو بھی پیکجز دیئے جائیں،تاکہ وہ بھی عافیت سے سفید پو شی میں زندگی گزار سکیں،اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے پوری امت مسلمہ کو کرونا وائرس اور بے حسی کے وائرس سے محفوظ رکھے اور امداد باہمی، مہربانی، احساس، ایثار و قربانی جیسے جذبات سے سرشارفرمائے اور میرے پیارے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور مشکل کی اس گھڑی میں اس وائرس کے امتحان میں کامیابی عطاء فرمائے۔آخر میں فرنٹ لائن مجاہدین(ڈاکٹرز، پاک فوج، رینجرز، پولیس، پیرامیڈکس، فلاحی تنظیموں) کی سلامتی کے لیے ڈھیروں دعائیں اور نیک تمنائیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس آفت سے برسرپیکار ہیں۔ اﷲ پاک انکی حفاظت فرمائے۔ آمین۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Suleman Usmani

Read More Articles by Muhammad Suleman Usmani: 85 Articles with 38401 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Apr, 2020 Views: 148

Comments

آپ کی رائے