ایک عظیم محقق‘ ادیب اور دانش ور سید قاسم محمود

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

سید قاسم محمود ادب و صحافت کے میدان میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں وہ 17نومبر 1928ء ہندوستان کے ضلع سونی پت کے ایک مشہور قصبے کھرکھودہ میں پیدا ہوئے ۔1947ء میں میٹرک کا امتحان بہترین نمبروں سے پاس کیا۔ حصول پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ حصہ لیا ۔ بعدازاں سب سے پہلی ملازمت مجدد طب اور عظیم دانش ور حکیم محمد سعید کے مطب میں کی ۔14اگست 1947ء کو جب پاکستان معرض وجود میں آیاتو نوجوان سید قاسم محمود بھی اپنی آنکھوں میں نئے خواب سجائے بذریعہ ٹرین لاہورآ پہنچے ۔ابتدائی طور ملازمت کے حصول کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن کچھ ہی عرصہ بعد انہیں اخبار "زمیندار"میں ملازمت مل گئی ۔ 1948ء میں وہ بطور منیجر عالمگیر( جو اپنے وقت کا ایک مشہور ادبی رسالہ تھا) میں ملازمت مل گئی ۔ بعد میں 9سال تک مشہور پبلشنگ کمپنی ( یونائیٹڈ پبلشر) میں بطور رائٹر ملازمت کی۔1963ء میں آپ کا پہلا ناول شائع ہوا۔1965ء میں بطور ایڈیٹر اردو انسائیکلوپیڈیا فیروز سنز میں ملازمت کا آغاز کیا ۔1966ء میں مشہور ادبی رسالے "ادب لطیف "کی ادارت سنبھالی ۔1966ء میں ہی ابن انشا کے اصرار پر نیشنل بک کونسل لاہور آفس کے انچارج بنے ۔1967ء میں سید قاسم محمود نے قائد اعظم ؒ کی تقاریر اور تحریروں کے قیمتی اور نایاب حصوں کااردو میں ترجمہ کیا ۔ 1969ء میں حکومت پاکستان نے مینا رپاکستان پر لگنے والے سنگ مرمر پر قرار دادلاہور کو اردو میں لکھوانے کا فیصلہ کیا ۔ اس اہم ترین منصوبے کے لیے بطور ایڈیٹرسید قاسم محمود منتخب ہوئے ۔قرارداد لاہور کا جو ترجمہ آپ نے کیا وہی عالمی شہرت یافتہ خطاط حافظ یوسف سعدی ‘ اقبال ابن پروین‘ صوفی خورشید عالم اور محمد صدیق الماس نے سنگ مرمر پر کندہ کیا ۔اس منصوبے کے نگران کمشنر لاہور مختار مسعود تھے ۔1975ء میں آپ نے شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا کو مکمل کیا جو اپنے وقت کا بہت بڑا کارنامہ تھا ۔1976-77ء میں آپ حکومت پنجا ب کی مجلس زبان دفتری کے رکن منتخب کرلیے گئے۔اس دوران کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ آپ نے سرکاری خط و کتابت ( انگریزی سے اردو ) کی پانچ سو صفحات کی لغت مرتب کی ۔کچھ عرصہ کے لیے آپ نے بطور ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت کراچی کو بھی جائن کیا ۔بعدازاں آپ نے کراچی میں شاہکار بک فاؤنڈیشن کے نام سے اپنا الگ ادارہ قائم کیا ‘اس ادارے کے تحت مختلف موضوعات پر 35کتابیں شائع کی گئیں۔1986ء میں آپ نے انسائیکلو پیڈیا آف فلکیات شروع کیا یہ منصوبہ 1987ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا ۔بعد ازاں انسائیکلو پیڈیا ایجادات کو مکمل کیا۔ 1995ء میں آپ نے انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا کو مکمل کیا اس میں تاریخ ‘ پاکستانی ثقافت ‘فنون لطیفہ ‘ سیاست ‘ جغرافیہ اور قابل ذکرشخصیات د وغیرہ کے بارے میں مواد شامل تھا ۔1998ء میں سید قاسم محمود ایک بار پھر لاہور تشریف لے آئے ۔1999ء میں آپ نے انسائیکلو پیڈیا آف ہیومن کنڈہسٹری کی تدوین کی ۔اس میں انسانیت کی مذہبی‘ سیاسی ‘ معاشی ‘ معاشرتی ‘ ثقافتی ‘ سائنسی ‘ ادبی اور تکنیکی تاریخ کے بارے میں تجزیاتی تحریریں شامل تھیں ۔2000ء میں آپ نے سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے انسائیکلوپیڈیا لکھنا شروع کیا جو 2004ء تک پایہ تکمیل کو پہنچا ۔2014ء میں اس انسائیکلوپیڈیا کو الفیصل پبلشرز نے شائع کیا۔ 2009ء میں انسائیکلوپیڈیا آف قرآن شروع کیا ابھی اس کی چھ قسطیں ہی تیار ہوئی تھیں کہ آپکو شوگر ‘ السر‘ دل اور گردوں کی موذی بیماریوں نے آگھیرا ۔31مارچ 2010ء کو پاکستانی قوم کا یہ عظیم محقق ‘ ادیب اور دانش ور موت کی وادی میں جاسویا ۔

آپ کے قابل ذکر ناولوں میں ‘دو شہروں کی ایک کہانی ، چارلس ڈکنز۔ سمندر کا گھاس ، کونراڈ ریکٹر۔ ووٹرنگ ہائٹس ، ایملی برونٹی۔ جواری ، فیوڈور دوستوفسکی۔ Une vie ، گائے ڈی ماؤپاسنٹ۔ زندگی کی ہوس ، آرنگ اسٹون۔ بھوانی جنکشن جان ماسٹرز۔ کیپٹن احتیاط ، کینتھ رابرٹس۔ ایوین الیچ ، لیو ٹالسٹائی کی موت۔تیمبورالائن ، کرسٹوفر مارلو۔ ایک گڑیا کا گھر ، ابیسن۔ جسٹس ، جان گالسافل۔ لا مورٹ ڈی ٹنٹاگلز ، مورس میترلنک انٹونی اور کلیوپیٹرا ، ولیم شیکسپیئر۔ میکبیتھ ، ولیم شیکسپیئر۔ اوٹیلو ، ولیم شیکسپیئر۔ ہیملیٹ ، ولیم شیکسپیئر۔ رومیو اور جولیٹ ، ولیم شیکسپیئر شامل ہیں۔ماہرین ادب‘ سید قاسم محمود مرحوم کے بارے میں کہتے ہیں کہ بظاہر یہ شخص ایک ہی دکھائی دیتاتھا لیکن اگر ان کے تحقیقی اور تدوینی کام کو دیکھا جائے تو وہ ایک بڑا اور حیرت انگیز ادارے کا کام بنتا ہے جس نے اپنی زندگی کو تحقیق‘ تخلیق ‘ ادب اور صحافت کو ہی اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ۔ زندگی بھر وہ شہرت سے دور ہی بھاگتے رہے ‘ یہی چلن ان کے بیٹے سید عاصم محمود کا ہے جو آجکل اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نت نئے موضوعات پر تحقیقی ‘ تہلکہ آمیز اور طویل قومی اور بین الاقوامی سطح کے مضامین تخلیق کررہے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 559 Articles with 280515 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2020 Views: 291

Comments

آپ کی رائے