لوکل اور ریجنل اخبارات کے مسائل

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں عامل صحافیوں کو بہت سے چیلنجزدرپیش ہیں حدسے زیادہ مسائل کا سامناہے اور یہ مسائل اور چیلنجز ساری زندگی اس کی ذات کا حصہ بن جاتے ہیں کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے ورکرصحافیوں کی فلاح بہبود کے لئے کچھ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی ایک صحافی کی زندگی انپے ذاتی حالات اور زمین کے خداؤں سے لڑتے لڑتے گذرجاتی ہے لیکن وہ ہارنہیں مانتا اسے ہار ماننی بھی نہیں چاہیے کہ اﷲ تبارک تعالیٰ نے انہیں ایک ارفع و اعلیٰ مقصد کے لئے منتخب کیا ہے یہ کوئی چھوٹا اعزاز نہیں صحافیوں کی اکثریت کسی ستائش،لالچ اور صلہ کے بغیر اپنے فرائص ِ منصبی انجام دیتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے کسی کی مدد کرتے ہوئے، کسی کا حق دلاتے ہوئے یا پھر جیسے اسے کسی فرعون صفت طاقتور کو بے نقاب کرتے ہوئے روحانی خوشی ملتی ہے آج کے دور میں صحافیوں کا دم غنیمت ہے یقین جانئے اگر زمین کے خداؤں کو صحافیوں کا خوف نہ ہو تو وہ اس قدر من مانی کرتے ہوئے اتنی انھی ڈال دیں کہ جنگل کے معاشرے کو بھی مات دیدیں ہر حکومت نے آج تک اپنے من پسنداور بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز پر ہی عنایات کی ہیں جس سے وہ کھربوں کے مالک بن گئے ہیں یہ اتنے طاقتورہیں کہ جب چاہیں حکومتوں کو بلیک میل کرکے مزیدمراعات لے لیں وسائل کے بل بوتے پریہ چند میڈیا ہاؤسز پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیاکے ان داتا بن گئے ہیں اس کے برعکس پاکستان میں لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد کے مالکان اپنا خون ِ جگر دے کر اپنی بقا ء کی جنگ لڑنے کی جدوجہدکررہے ہیں چندبڑے میڈیا ہاؤسزکے مقابلہ میں لوکل اور ریجنل اخبارات کی تعداد ہزاروں میں ہے جن سے لاکھوں افرادوابستہ ہیں درحقیقت یہی لوگ اصل صحافی ہیں جو نامساعد حالات، سرکاری وغیرسرکاری افسران،بااثرشخصیات،پولیس اور سیاستدانوں کے دباؤ کے باوجود معاملے کی تہہ تک پہنچ کرحقائق کو بے نقاب کرتے ہیں اور عام آدمی کے دل کی آواز بنے ہوئے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ میں دو نہیں ایک پاکستان بناکراس قوم کی تقدیر بدل دوں گا اس خواب کو شرمندہ ٔ تعبیر کرنے کے لئے حکومت کو لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد کی بھرپور انداز میں سرپرستی کرناہوگی ان حالات کے تناظرمیں ایک مردِ قلندر جی ایم جٹ نے آل پاکستان ریجنل نیوزپیپرزسوسائٹی کا قیام عمل میں لاکر اس کچلے اور سسکتے طبقے کے حقوق کی جدوجہدکا فیصلہ کرکے انقلاب بپا کردیا وہ اپنے نمائندہ وفود کے ساتھ اہم حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کررہے ہیں تاکہ لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد کی ترقی کے لئے ایک مربوط حکمت ِ عملی ترتیب دی جاسکے اسی سلسلہ میں گذشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے صحافتی تنظیموں کے اہم عہدے داروں سے ویڈیو کانفرنس پر دوگھنٹے تک بڑے صبر اور تحمل سے میڈیا کے مسائل اور انکے حل کے لئے طویل مشاوت کی وفاقی وزیز اطلاعات شبلی فراز نے یقین دلایا کہ میڈیا کے تمام شعبہ جات کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ اس موقع APRNSآل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر غلام مرتضیٰ جٹ نے انہیں لوکل/ریجنل اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔تجاویزپیش کیں اور25% ریجنل کوٹہ فوری بحال کرنے کامطالبہ کیا.پی ایف یو جے ورکرز کے صدر پرویز شوکت ،سابق صدر pfujافضل بٹ ،pfuj دستور کے صدر حاجی نواز رضا ،آزاد گروپ کے قائد وسابق صدر Npcشکیل قرار،سابق صدر Npc شکیل انجم۔pra کے صدر بزدار سلیمی ،سابق صدر Riuj دستور مظہر اقبال ،ایپنک کے اکرام بخاری ،صدیق انظر ،Riuj کیآصف علی بھٹی اور میڈیا ورکرز کے جنرل سیکرٹری سمیت دیگر رہنماوں اور صحافتی تنظیموں کے اہم رہنماوں نے تجاویز پیش کیں۔ آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر غلام مرتضیٰ جٹ نے کہا ہم شفافیت کی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور بہتری کی امید رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ریجنل اخبارات کا قومی اخبارات سے مقابلہ نہ کیا جائے۔ریجنل اخبارات کو آج تک 10فی صد سے زیادہ اشتہارات کا کوٹہ نہیں دیا گیا اور جو ملا ان کے واجبات ایڈورٹائزنگ ایجنسیز ہڑپ کرگئیں جبکہ 25فی صد کوٹہ ریجنل اخبارات کا قانونی حق ہے یہ حق سیاسی مقاصد کے لئے بڑے اخبارات کو دے دیا جاتا رہا ہے اور اب غیر قانونی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اس کی شفاف تحقیقات کروائیں جائیں۔ریگولر چھپنے والے ریجنل اخبارات کو سپورٹ کیا جائے کیونکہ یہ ڈمی اخبارات نہیں ہیں ڈمی اخبارات صرف وہ ہیں جوسرکاری اشتہار لینے کے لئے کبھی کبھار ہی چھپتے ہیں جبکہ ریجنل اخبارات یوسی سطح تک محلہ سوسائٹیوں،سکولز،نمبردار، کونسلر ،ناظم،چیئرمین،کونسلر اور عام آدمی کی آواز ہیں۔ اور حکومت اور عام آدمی میں پل کا کردار ادا کر رہے ہیں ان کا مقابلہ کسی طورقومی اخبارات سے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر اخبارکا اپنا دائرہ ٔ اثرہے ۔آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر غلام مرتضیٰ جٹ نے گلگت بلتستان،آزاد کشمیر،سندھ،kpk,بلوچستان، جنوبی پنجاب،پنجاب کے لوکل/ریجنل اخبارات سے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی چل رہی ہے یہ اخبارات پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں اور گلی محلہ تک بلا معاوضہ شعور کی آگاہی کا کام کر رہے ہیں اگر ان میں کوئی کمی کوتاہی ہے تو حکومت ان کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرے وزارت اطلاعات تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرے اور ان کلم کاروں سے ملک وقوم کی نظریاتی تربیت سمیت دیگر تخلیقی کام لے۔حکومت پیرامیٹرز بنائے ہم اس پر پورے ملک میں عمل درامد کروائیں گے۔حالانکہ پریس آرڈیننس 2002میں تمام ضابطے موجود ہیں۔ حکومت ریجنل اخبارات کے لئے ABCسمیت میڈیا لسٹ کے طریقہ کار کو آسان بنائے۔پریس کونسل آف پاکستان کی فیس ختم کی جائے۔kpk میں رجسٹریشن فیس20,000روپے کا خاتمہ کیا جائے۔پنجاب میں عدالتی اشتہارات بحال کئے جائیں۔گلگت بلتستان کے اخبارات کے واجبات دلوائے جائیں۔ملک بھر کے ریجنل اخبارات کے لئے پرنٹنگ پریسز لگائی جائیں ،ایڈورٹائزنگ ایجنسیز سے تمام واجبات عید سے قبل دلوائے جائیں۔ریجنل اخبارات کے ذمہ داروں کو ریلوے میں خصوصی ڈسکاونٹ دلوایا جائے۔تمام صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بعد میڈیا کا قانونی ضابطہ اخلاق بنایا جائے اب یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس جدوجہد اور جی ایم جٹ کی ولولہ انگیزقیادت میں آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی اپنے مقاصدکے حصول کے لئے جدوجہدجاری رکھے گی حکومت کو بھی ٹھنڈے دماغ سےAPRNS کی سفارشات پرغورکرناہوگا لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد کو ایک اندسٹری تسلیم کیاجائے ان کو آسان شرائط پر قرضے دئیے جائیں اس کے لئے سمال انڈسٹریز اور اخوت کے پینل پر ریجنل و لوکل نیوزپیپرزکو رجسٹرڈکیاجائے تاکہ اس سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا مستقبل بھی روشن و درخشاں ہوسکے پاکستان کے 20ہزار سے زائد لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد اپنے حقوق کی جنگ لڑنے پر جی ایم جٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کو زبردست خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں اور لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد کی پرموشن کے لئے عمران کے ویژن، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز کی یقین دہانی اور موجودہ حکومت کے اقدامات کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس طرح عمران خان عام آدمی کی ترقی و خوشحالی کے لئے تہہ دل سے کچھ کرنا چاہتے ہیں اس طرح امیدہے کہ لوکل اور ریجنل اخبارات جرائد کی پرموشن کے لئے بھی ٹھوس پالیسی بنائی جائے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 259 Articles with 84491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2020 Views: 190

Comments

آپ کی رائے