ہوائی فائرنگ کے خلاف اعلان جنگ

(Muhammad Saleem Afaqi, Peshawar)

شزہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ اپنی ممتا کی ٹھنڈک اور باپ کی آنکھوں کا تارا تھی بلکہ یہ اپنے گھر کی کل کائنات تھی جب وہ مسکراتی تو پورا گھر مسکراتا اور جب وہ روتی تو پورا خاندان روتا۔جب چاند رات عروج پر تھی تو یہ گھر کی چھت پر اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی والدہ گھر میں عید کی تیاریوں میں مصروف تھی والد سودا سلف کے لئے بازار گئے ہوئے تھے۔لوگ عید کے چاند کی خبر کے انتظار میں تھے کل عید ہو گی یا پھر روزہ ہو گا ہر کوئی خوشی کی نیوز سننا چاہتا تھا۔بازار عوام سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ٹل دھر نے کی جگہ نہ تھی۔ یکایک چینلز پر بریکنگ نیوز جاری ہوئی جیسے عوام کی سانسیں رک گئی ہوں اور یکدم اعلان ہو گیا جس کا انتظار تھا شوال کا چاند نظر آگیا کل عید ہو گی۔رکی سانسیں چل پڑیں منچلے خوشی سے جھومنے لگے۔ڈھولک کی تھاپ پر رقص شروع ہو گیا۔آن کی آن میں ہوئی فائرنگ شروع ہو گئی۔ چاروں اطراف سے گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے سارا شہر گونج اٹھا اسی اثنا میں ایک ہوائی گولی شزہ کو لگی ۔ وہ الٹے منہ گر گئی اور گڑیاں ہوا میں بکھر گئیں پھر اس بچی کی جگہ خون ہی خون تھا ماں دوڑتے ہوئے آئی اور جب دیکھا کہ اسکی لا ڈلی خون میں لت پٹ ہو گئی ماں کا کلیجا منہ کو آگیا۔اس پر غشی کے دورے طاری ہو گئے اطلاع ملتے ہی والد دوڑتا ہوا آیا وہ بھی غم سے نڈھال ہو گیا۔ یوں ہنستا بستا گھر جہنم کدہ بن گیا-

نہ جانے اس جیسے کتنے گھرانوں کے چراغ گل ہوئے ہوں گے کتنی ماوں کی گود اجڑی ہوں گی۔کتنی دلہنوں کے سہاگ اجڑے ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ایف آئی آر کس کے خلاف کاٹی جائے۔
کیا اس ہوائی فائرنگ کرنے والے جنونی قاتل کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے یا اس ظالم سماج کے خلاف جو نیک لوگوں کے خلاف تنقید کے نشتر تو چلاتا ہے اور ہوائی فائرنگ والوں کی پھر حوصلہ افزائی کرتا نظر آتا ہے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا اپنے ضمیر کو ٹٹولنا ہو گا کہ آخر قصور وار کون ہے

کیا اس کی ذمہ داری محکمہ پولیس پر عائد ہوتی ہے کیا حکومت کی رٹ کمزور ہے کیا سول سوسائٹی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتی کیا میڈیا والے اس کے خلاف مہم نہیں چلاتے کیا علمائے کرام عوام کو اس مسئلے کی طرف متوجہ نہیں کرتے-

یقینا یہ ہمارے لئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آخر اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے میں نے ایک ہوائی فائرنگ کرنے والے سے سوال کیا کہ آخر اس سے آپ کو ملتا کیا ہے تو اس کا جواب بڑا عجیب تھا کہ ہمیں عوام کی طرف سے عزت ملتی ہے اور یہ ہمارے آباواجداد کی طرف سے ورنہ میں ملی ہوئی ثقافت ہےاور یہ ہماری عزت اور افتخار کی نشانی ہے۔

ان ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے اذہان میں یہ بات ڈالنی جایئے کہ روز محشر میں کہیں آپ کا نام انسانیت کے قاتلوں کی فہرست میں نہ آجائے کیوں کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔
معاشرے کو چاہئے کہ اس قبیح فعل کی بیخ کنی کے لئے ایک ہو جائے اسلحہ کی نمائش کرنے والوں، ہوائی فائرنگ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں انہیں کسی قسم کا پروٹوکول نہ دیں۔آو ایسی جدوجہد شروع کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایک مہم چلاتے ہیں کہ کلاشنکوف کی بجائے قلم کا راستہ اختیار کرنے ہیں اور ان منچلوں کو بتا جائے کہ ہوائی فائرنگ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں جی ہاں قرآن عظیم الشان میں فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔منگنی،شادی بیاہ،چاند رات یا کسی بھی خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنا ایک قبیح اور قابل گرفت عمل ہے آو اس کے خلاف من حیث القوم مشترکہ جدوجہد کرتے ہیں۔```
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Afaqi

Read More Articles by Muhammad Saleem Afaqi: 15 Articles with 13025 views »
PhD Scholar in Education
MA International Relations
MA Political Science
MA Islamiyat
.. View More
21 May, 2020 Views: 392

Comments

آپ کی رائے
Aerial Firing is an inhuman act so it must be stopped by society
By: Ahsan khan, Mardan on May, 22 2020
Reply Reply
0 Like