تعلیم اور علاّمہ محمد اقبالؒ کا نظریہ تعلیم_قسط ۱

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
تعلیم اور علاّمہ محمد اقبالؒ کا نظریہ تعلیم_قسط ۱
افضل رضویؔ-آسٹریلیا
تعلیم کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود نسل انسانی کی تاریخ قدیم ہے۔قرآن پاک میں ہے کہ:
اور یاد کرو جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے کہ یقینا میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ تو انہوں نے کہا تھا کہ کیا تو مقرر کرے گازمین میں (خلیفہ) اس کو جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خون ریزیاں کرے گا جب کہ ہم تسبیح کرتے ہیں تیری حمد وثنا کے ساتھ اور تقدیس کرتے ہیں تیری۔ اللہ نے فرمایا:یقینا میں جانتا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں جانتے٭ اور سکھائے اللہ نے آدم کونام سب چیزوں کے،پھر پیش کیا ان کو فرشتوں کے سامنے اورفرمایا بتاؤ مجھے نام ان کے،اگر ہو تم سچے٭انہوں نے عرض کیا: پاک ہے تیری ذات،نہیں ہمیں علم مگر اسی قدر جتنا تو نے سکھایا ہمیں۔ بے شک تو ہی ہے سب کچھ جا ننے والا، بڑی حکمت والا٭اللہ نے فرمایا: اے آدم! بتاؤ ان کو نام ان کے پھر جب بتا دیے آدم نے فرشتوں کو نام ان سب کے، تو فرمایا: کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ بے شک میں ہی جانتا ہوں سب راز آسمانوں کے اور زمین کے بھی؟اور جانتا ہوں ہر اس چیز کوجو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپا رہے ہو۔1
گویا اللہ نے آدم کو ان تمام اشیا کا علم عطا کیا جو خلافت ِارضی کے لیے ضروری تھیں۔اسی علم کو بنیاد بنا کر انسان نے ترقی کی منازل طے کیں۔جوں جوں انسانی آبادی بڑھتی رہی مختلف اقوام مختلف خطوں میں آباد ہوتی رہیں اور ہر قوم اپنی ضرورت کے مطابق آنے والی نسلوں کو تعلیم دیتی رہی۔یہ تعلیم عام طورپر تجارت، زراعت، دست کاری اور اس قسم کی دوسری صنعتوں سے متعلق ہوتی تھی لیکن جب انسانی تہذیب نے ترقی کی اور مسائل بھی کسی قدر پچیدہ ہونے لگے تو فن تحریر معرض وجود میں آیااور تعلیم کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
تعلیم کے معانی:
تعلیم کے لغوی معانی مختلف لغات میں مختلف ہیں۔مثلاً: پڑھانا،سکھانا، تلقین،ہدایت،تربیت،ناچنے گانے کی مشق کرانا، گھوڑا سدھانا،علم پڑھانا،کسی کو کچھ سکھانا،تادیب،تہذیب، آراستگی،خوش خطی کا نمونہ جس کو دیکھ کر طالب علم سیکھتا ہے،تفہیم،پڑھانا لکھانا پس عربی میں کسی کو کچھ سکھانا اور فارسی میں کچھ سیکھنا،تعلیم ہے۔2 جب کہ تصوف میں مرشد کا مرید کو اذکار وافکار وغیرہ سکھانا تعلیم کہلاتا ہے۔
اب میں سطور ذیل میں قدیم نظا م ہا ئے تعلیم کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
سب سے پہلے سپارٹا کا نظام تعلیم:”اہل سپارٹا نے تعلیم کا مقصد تندرست وتوانا افراد تیارکرنا قرار دے رکھا تھا۔ سات سال کی عمرتک گھر پر ہی تعلیم دی جاتی تھی“۔3
”اہل ایتھنز نے بھی اہل سپارٹا کی طرح تعلیم کا ایک مقصدفوجی تیار کرنا مقرر کر رکھاتھا۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں اعلیٰ تعلیم کاانتظام بھی تھاچناچہ طلبہ کو علم جغرافیہ،فصاحت و بلاغت، علم جراحت اور علم طبقات ا لا رض کی تعلیم دی جاتی تھی البتہ عورتوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلاتے تھے“۔4
ُافلا طون تعلیم و تربیت کا مقصدروح کی نشو و نما اور بالیدگی بیان کرتا ہے۔وہ ابتدائی تعلیم کو تین درجو ں میں تقسیم کرتا ہے۔5
درجہ اول: چھے سال کی عمر تک کے بچے
درجہ دوم: چھے سے اٹھارہ سال کی عمرتک کے بچے۔
درجہ سوم: ا ٹھا رہ سال سے بیس سال کی عمر تک کے بچے
افلاطون نے اعلیٰ تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا تھا:
جسمانی ا علیٰ تربیت اور اعلیٰ فوجی تربیت
وہ سوسائٹی کو بھی تین طبقات میں بانٹنے کا قائل تھا:
حکمران طبقہ ، فوجی طبقہ ، مزدور اور پیشہ ور لوگ
ارسطو کے نزدیک تعلیم کا مقصد انسان کو تہذیب سکھانا ہے۔وہ عقل انسانی کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے:
عقل فعال اور عقل انفعال
اس نے عمر کے لحاظ سے تین درجے بنا رکھے تھے:
بچپن سے تیرہ سال تک
تیرہ سے اکیس سال تک
اکیس سے باقی زندگی تک
اسلام میں تعلیم کا مفہوم:
تعلیم کے معنی و مفہوم سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کو علم سیکھنے اور اسے استعمال کرنے کی جو صلاحیت ودیعت ہوئی ہے وہ نہ صرف اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی تلافی کرتی ہے بلکہ اس کی عظمت کا سبب اور علامت بھی ہے ا سی لیے رب کائنات نے علم کا حصول ہر مردوزن پر فرض کیا اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجے جو لوگوں کو خداکی عبادت کی تعلیم دیتے یہی نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کو حکم دیا کہ”پڑھو“ ،اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو،جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو۔ اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا۔6
ان دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیم ایک ایسا سلسلہ ہے جو روز ِازل سے جاری ہے،جو ہر دور میں ہر امت اورہر فرد کی ضرورت رہا ہے اور اس کا مقصود یہی رہا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہی دلائی جائے انسان کا انسان سےاور انسان کا خدا سے جو تعلق ہے اسے سمجھایا جائے اور انسان کو فطرت کے ان اسرار و رموزسے واقفیت دلائی جائے جن سے یہ و اقف نہیں ہے۔
پس یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قرآنی احکامات کے مطابق علم روشنی ہے اور تعلیم وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان کو علم حاصل ہوتا ہے،ارشاد ربانی ہے:
”وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لائے۔“7
روشنی اپنی ماہیت کے اعتبار سے موجودات کو ان کے اصل رنگ وروپ اور خدوخال میں پیش کرتی ہے جب کہ علم کی روشنی انسان میں موجودات واحساسات کا ادراک پیدا کرتی ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے:
”جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے کیا برابر ہو سکتے ہیں؟“ 8
اور ارشاد ربانی ہے:
”کیا برابر ہو سکتا ہے اندھا اور آنکھ والا“9
پیغمبر ﷺ نے فرمایا:
عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے۔10
قرآن حکیم جگہ جگہ یوں خطاب کرتا ہے:
کیا تم غوروفکر نہیں کرتے؟ کیا تم نہیں دیکھتے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ 11
اسلام میں تعلیم کی بہت اہمیت ہے نبی ﷺ کا ارشاد ہے: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وزن پر فرض ہے۔12
اسلام میں تعلیم کی بہت اہمیت ہے نبی ﷺ کا ارشاد ہے:گود سے لے کر گور تک علم حاصل کرو ۔ 13
امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ اسلاف کا کہنا ہے کہ عالم کی دو رکعت نماز جاہل کی سال بھر کی عبادت سے افضل ہے اس واسطے کہ جاہل اپنے عمل کی آفتو ں کو نہیں پہچان سکتا اور اغراض سے سے عمل کی آمیزش کیسے پاک ہو،اسے معلوم نہیں وہ بے چارہ سب ہی اعمال کو خالص سمجھتا ہے اس لیے کہ عبادت کاکھوٹا پن سونے کے کھوٹے پن کی مانند ہے اور کبھی صراف بھی سونا پرکھنے میں غلطی کرگزرتا ہے البتہ کامل صراف اسے پرکھ لیتا ہے، رہ گئے جاہل تو اتنی بات وہ بھی جانتے ہیں کہ سوناوہی ہے جو زرد رنگ کا ہو اور عبادت کا کھوٹا پن جس سے اخلاص ضائع ہوتا ہے اس کے چاردرجے ہیں بعض ان میں سے بہت پوشیدہ ہیں ان درجات کو ہم ریا کی صورت پر فرض کرتے ہیں۔اس معاملے میں کہ کون سا علم حاصل کرنا فرض ہے اہلِ علم میں اختلاف ہے،متکلیمین کا کہنایہ ہے کہ اس سے مراد و ہ علم ہے جس سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو،فقہا کا خیال ہے کہ اس سے مراد خالصتاً علمِ فقہ ہے کیونکہ یہی وہ علم ہے جس کی بدولت انسان حلال اور حرام میں تمیز کرسکتاہے،محدث کہتے ہیں کہ تفسیر و حدیث ہیکہ علومِ دینیہ کی اصل یہی ہیں،صوفیا کے نزدیک اس سے مراد احوالِ دل کا علم ہے کیونکہ دل اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہو تا ہے کہ تمام علوم اپنی اپنی جگہ اہم اور خاص ہیں اور سب کا حاصل کرنا واجب ہے۔ 14
پس اسلام جس قسم کے انسانی معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے ا س کا مکمل قیام تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔دور نبویﷺ میں اسلام کا نظام تعلیم قرآن و حدیث کی تعلیم پر مشتمل تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں اس میں وسعت آئی اور فقہ،ادب،لغت اور شعر و سخن بھی تعلیم کا حصہ قرار دے دیے گئے۔مختصر یہ کہ مسلمانوں نے ہر شعبہ علم میں ترقی کی اور نئے نئے علوم بھی ایجاد کیے۔
امام غزالیؒ پہلے ماہر تعلیم ہیں جنہو ں نے باقاعدہ نظام و نصابِ تعلیم مرتب کیا۔انہوں نے علم کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
1) علم محمود: وہ علوم جو ہر لحاظ سے پسندیدہ ہیں جیسے: مذہبی علم، ارکان اسلام وغیرہ اور
2) علم مذموم: ایسے علوم جن سے نقصان کا اندیشہ ہوجیسے:سحر، نجوم وغیرہ۔
امام صاحب نے علم محمود کی بھی دو قسمیں بتائیں ہیں:فرض عین اور فرض کفایہ؛ پس ان کا خیال ہے کہ طلبہ کو ذہنی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔ 15
علامہ ابن خلدون تعلیم کو فطری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایک صنعت قرار دیتے ہیں۔انہوں نے تعلیم کی درج ذیل دو قسمیں بیان کی ہیں:عقلی علوم اور نفلی علوم16
شاہ ولی اللہؒ کا خیال ہے کہ دینی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جانی چاہیے اور طلبہ کو ایسے فنون یا پیشے سکھائے جائیں کہ جن سے ان کے معاشی مسائل بھی کسی قدر کمہوجائیں۔سرسید احمد خاں کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو انگریزی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جب کہ علماء اس کے خلاف تھے۔17
اس تمہیدی گفتگو کے بعد اب میں علامہ اقبالؒکا نظریہ تعلیم آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ علامہ اقبا ل ؒکے نظریہ تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان کے دور کے سیاسی حالات و واقعات کو مدنظر رکھنا ہو گا جن سے حضرت علامہ اقبال ؒ کا واسطہ پڑا۔ اس دور میں مسلمان زبوں حالی کا شکار تھے اور انہیں ہر طرف مایوسیو ں کے گہرے بادل نظر آ تے تھے۔ایسے مایوس کن اور غیر یقینی دور میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی نگاہیں ان ہی کی طرف اٹھتی تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی اس حالت کو سمجھتے ہوئے ایک مکمل فلسفہ تعلیم پیش کیاکہ جسے اگر من وعن مملکت ِ خداداد میں نافذ کردیا جاتا تو آج ہم جن مسائل کا شکار ہیں، ان سے بچ جاتے کیو نکہ افراد کی زندگی کی عمارت تعلیم وتربیت ہی سے تعمیر ہوتی ہے اور قومیں اپنے تعلیمی فلسفے کی پختگی کی بد ولت ہی عروج حاصل کرتی ہیں۔
علامہ اقبال ؒکے دور میں دو نظام ہائے تعلیم مروج تھے، ایک قدیم دینی مدارس کا نظام جس میں قرآن و حدیث،فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن علومِ جدیدہ کما حقہُ نہیں پڑھائے جاتے تھے دوسرا انگریز کا نظام ِ تعلیم تھا جس میں یہ خامی تھی کہ اسلامی علوم و فنون کو کلیۃً نظر انداز کیا جاتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمارا نظام تعلیم ایسا ہو کہ جس سے نئی نسل اسلام کے نصب العین کے مطابق دنیا کی رہنمائی کے قابل ہو سکے اور مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز ہو سکیں اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام علوم میں ہمارا نقطہ نظر اسلامی نقطہ نظر ہواور اس کی روشنی میں عملی زندگی میں اپنے لیے روشن مستقبل کے لیے اسلامی انقلاب برپا کیا جا سکے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کو یہ بات اور کرائی جا سکے کہ علو م جدیدہ دراصل اسلام ہی کی بدولت معرض وجود میں آئے ہیں۔محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ دہلی اپریل 1911ء میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے حکیم الاّمت نے فرمایا:
میں دعوے سے کہ سکتا ہو ں کہ اسلام مغربی تہذیب کے تمام عمدہ اصولوں کا سر چشمہ ہے۔پندرہویں صدی عیسوی میں جب سے کہ یورپ کی ترقی کا آغاز ہوا،یورپ میں علم کا چرچا مسلمانوں ہی کی یونیورسٹیوں سے ہواتھا۔۔۔۔کسی یورپین کا یہ کہنا کہ اسلام اور علوم جدیدہ یکجا نہیں ہو سکتے سراسر ناواقفیت پر مبنی ہے اور مجھے تعجب ہے کہ علوم اسلام اور تاریخ اسلام کے موجود ہونے کے باوجود کیونکر کہ سکتا ہے کہ علوم جدیدہ اور اسلام ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ بیکن، ڈی کارٹ
اور مل یورپ کے سب سے بڑے فلاسفر مانے جاتے ہیں جن کے فلسفہ کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر ہے لیکن حالت یہ
ہے کہ ڈی کارٹ کا میتھڈ امام غزالیؒ کی احیا العلوم میں موجود ہے اور ان دونوں میں اس قدر تطابق ہے کہ ایک انگریزی مؤرخ نے لکھا ہے کہ اگر ڈی کارٹ عربی جانتا ہو تا توہم ضرور اعتراف کرتے کہ ڈی کارٹ سرقہ کا مرتکب ہوا ہے۔ بیکن خود ایک اسلامی یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ تھا۔جان اسٹیوارٹ مل نے منطق کی شکل اوّل پر جو اعتراض کیا ہے بعینہ وہی اعتراض امام فخرالدین رازی ؒنے بھی کیا تھا اور مل کے فلسفہ کے تمام بنیادی اصول شیخ بو علی سینا کی مشہورکتاب شفا میں موجود ہیں۔ غرض یہ کہ تمام وہ اصول جن پر علوم جدیدہ کی بنیاد ہے مسلمانوں کے فیض کا نتیجہ ہیں بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ کہ نہ صرف علوم جدیدہ کے لحاظ سے بلکہ انسان کی زندگی کا کوئی پہلو اور اچھا پہلو ایسا نہیں ہے جس پر اسلام نے بے انتہا روح پرور اثر نہ ڈالا ہو۔18
۔۔۔جاری ہے۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 97 Articles with 34246 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
02 Jun, 2020 Views: 165

Comments

آپ کی رائے