درس قرآن 33

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ یس
تمام تعریفیں اللہ عزوجل کے لیے جوتمام جہانوں کا پروردگار ہے اور درود وسلام ہوں تمام رسولوں میں افضل ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر اور آپ کی آل اوراصحاب پر، امابعد!قرآن کریم وہ بلند رتبہ کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں،جسے اللہ تعالیٰ نے ایسے عظیم نبی پر نازل فرمایا جن کے ذریعے نبیوں کی آمد کا سلسلہ مکمل ہوااور وہ ایک ایسا دین لے کر تشریف لائے جو خاتم الادیان ٹھہرا ۔یہ وہ کتاب ہے جو مخلوق کی اصلاح کے لیے خالق کا دستور ہے۔زمین والوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے آفاقی قانون ہے، اس کو نازل فرمانے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ فرمادیا اور قیامت تک کے لیے صرف شریعت محمدی اور دین اسلام کے واجب القبول ہونے کا اعلان کردیا۔

قرآن مجید دین اسلام اور شریعت محمدی کی اساس اور برہان ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر دلائل ہیں، انبیائے سابقین اور سیدنا حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نبوت،رسالت اور ان کی عظمتوں کا بیان ہے، حلال اورحرام، عبادات اور معاملات، آداب اور اخلاق کے جملہ احکام کا تذکرہ ہے،حشرونشر اور جنت ودوزخ کا تفصیل سے ذکر ہے اور انسان کی ہدایت کے لیے جس قدر امور کی ضرورت ہوسکتی ہے اس سب کا قرآن مجید میں بیان ہے ۔سورۂ یٰسٓ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، سورۃ یس، ۴/۲)۔اس میں 5رکوع، 83 آیتیں ،729کلمے اور3000 حروف ہیں ۔( خازن، سورۃ یس، ۴/۲)

وجہ تسمیہ :
یٰسٓحروفِ مُقَطَّعات میں سے ہے ، اور چونکہ ا س سورت کی پہلی آیت میں لفظ ’’یٰسٓ‘‘ ہے اس وجہ سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یٰسٓ‘‘ رکھا گیا۔

حضرت عطاء بن ابی رباح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: ’’مجھے خبر ملی ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو دن کے شروع میں سورۂ یٰسٓ پڑھ لے تو اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی۔( دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل یس، ۲/۵۴۹، الحدیث: ۳۴۱۸)
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں قرآنِ پاک کی عظمت،اللہ تعالیٰ کی قدرت و و حدانیّت، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منصب اورقیامت میں مُردوں کو زندہ کئے جانے کو بیان کیاگیا ہے اوراس میں یہ چیزیں بیان ہوئی ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم کھاکر فرمایا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب جہانوں کوپالنے والے رب تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور ان کی رسالت سے لوگ دو
گروہوں میں تقسیم ہو گئے،ایک گروہ عناد اور دشمنی کرنے والا جس کے ایمان لانے کی امید نہیں اور دوسرا گروہ وہ ہے جس کے لئے خیر اور ہدایت حاصل ہونے کی توقُّع ہے،ان دونوں گروہوں کے اعمال محفوظ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قدیم اور اَزلی علم میں ان کے آثار موجود ہیں۔
(2)…ایک بستی انطاکیہ کے لوگوں کی مثال بیان کی گئی کہ جنہوں نے یکے بعد دیگرے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور جوا نہیں رسولوں کوجھٹلانے پر نصیحت کرنے آیا تو ان لوگوں نے اسے شہید کر دیا۔نصیحت کرنے والا تو جنت میں داخل ہوا اور اسے شہید کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ جہنم میں داخل ہوئے۔
(3)…کفارِ مکہ کو سابقہ امتوں کی ہلاکت کے بارے میں بتا کر ا س بات سے ڈرایا گیا کہ اگر انہوں نے بھی سابقہ کفار جیسی رَوِش نہ چھوڑی تو ان پر بھی عذاب نازل ہو سکتا ہے۔
(4)…مُردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ا س کی و حدانیّت پر بنجر زمین کو سرسبز کرنے،رات اور دن کے آنے جانے،سورج اور چاند کو مُسَخّر کئے جانے اور سمندروں میں کشتیوں کے چلنے سے اِستدلال کیا گیا اور ان حقائق کا انکار کرنے والے کافروں کو دنیا و آخرت میں عذاب کی وعید سنائی گئی ۔
(5)…اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شاعر ہونے کی نفی کی اور یہ بتایا کہ وہ تو قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں اور اس بات کی خبر دینے والے ہیں کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ:اپنے پیاروں کے لیے بہت سی دعائیں ۔ہم بھی آپ کی دعا کے طالب ہیں ۔آپ طبی ،تعلیم ،کیرئیر کونسلنگ کے حوالے سے ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں
 

06 Jun, 2020 Views: 173

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ