صبح بخیر(۲)!!!

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

گزشتہ ماہ کے دوران دوستوں کو بھیجے گئے برقی پیغامات ملاحظہ ہوں۔
(۱) اے ایمان والو! اﷲ کے حضور خالص توبہ کر لو۔
(۲) بے شک تیرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
(۳) اے اﷲ ! بے شک میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ، پاک دامنی اور بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔
(۴) دنیا والے چہرے اور مال کو دیکھتے ہیں جب کہ عرش والا دل اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
(۵) اے ہمارے ربّ ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرمااور ہمارے معاملات میں اصلاح پیدا فرما۔
(۶) دوسروں کا مزاج چاہے تمہیں پسند آئے یا نہ آئے ، اپنا اچھا مزاج چھوڑنا نہیں چاہیے۔
(۷) میرے ربّ کی محبت کا انداز کتنا نرالا ہے ، سب کچھ عطا کرکے بھی کہتا ہے۔ ’’ ہے کوئی مانگنے والا ‘‘۔
(۸) ماں کی گود بچے کی اولین درس گاہ ہوتی ہے ۔ آج تک دنیا میں تعلیم و تربیت کے لحاظ سے اس کی متبادل درس گاہ نہیں بنی ہے۔
(۹) انسان کے لئے حافظے کی نعمت سے بڑی نعمت نسیان کی ہے کیوں کہ اگر نسیان نہ ہو تو انسان کبھی بھی اپنی مصیبت اور دکھ بھول نہ پائے۔
(۱۰) تھے اُن کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں
پلٹنے آئے تھے یہ دنیا بھر کی تقدیریں
نہ تیغ و تیر پہ تکیہ نہ خنجر پر نہ بھالے پر
بھروسہ تھا تو اک سادی سی کالی کملی والے پر
(۱۱) ہر رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ اس میں دنیا و آخرت کی جو خیر مانگتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتے ہیں۔
(۱۲) اعلیٰ علم وہ ہے جو اخلاق و کردار سے ظاہر ہو۔
(۱۳) جب اﷲ کی مدد اور فتح آجائے اور تُو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اﷲ کے دین میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں تو اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ ، یقینا وہ ہمیشہ سے توبہ قبول کرنے والا ہے۔
(۱۴) تنقید وہ ہے جس کے ذریعے دوسروں کی انا کو نہیں بلکہ ضمیر کو جگایا جائے۔
(۱۵) لوگ مرتے ہیں ، اہل ِ علم نہیں مرتے۔
(۱۶) ٹھنڈا دماغ ، میٹھی زبان ، نرم دل اور مسکراتا چہرہ انسان کو باکمال بناتا ہے۔
(۱۷) دوست کو عزت دو اگر بدلے میں وہ تمہیں بھی عزت دے تو وہ ہیرا ہے۔
(۱۸) دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتاہوں ۔۔۔ کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے۔
(۱۹) جیدی ( ہاہاہا۔۔۔نام دہراتے ہوئے ) : چراغ دین گورکن، بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔
گورکن : کیا کہہ رہے ہیں آپ۔ آپ پہلے جیندہ آدمی ہیں جس کو گورکن کے ساتھ مل خوشی ہوئی۔
(۲۰) جو خوشی تمہارے قریب ہو ، وہ صدا تمہارے نصیب ہو ۔۔۔ تجھے وہ خلوص ملے کہ جو ، تیری زندگی پر محیط ہو۔
(۲۱) لفظوں کے بھی ذائقے ہوتے ہیں۔ بولنے سے پہلے چکھ لیا کریں۔
(۲۲) انسان کا کردار اس کی پہچان ہوتا ہے ورنہ ایک نام کے لاکھوں انسان ہوتے ہیں۔
(۲۳) دعائیں رد نہیں ہوتیں بلکہ اپنے بہترین وقت پر قبول ہو جاتی ہیں۔
(۲۴) اَن گنت دعاؤں ، نیک تمناؤں اور پُرخلوص جذبوں کے ساتھ ’’ عید مبارک ‘‘۔
(۲۵) مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی۔۔۔ ابھی یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں۔
( ۲۶) جس گھڑی دوزخ پکارے ھل من مزید ۔۔۔ عید ِ مومن روزِ محشر ربّ کی دید۔
(۲۷) لفظ کہنے والے کا کچھ نہیں جاتا البتہ سہنے والے کمال کرتے ہیں۔
(۲۸) توبہ روح کا غسل ہے۔
(۲۹) اے اﷲ ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے۔
(۳۰) اﷲ کے پاس بہترین سفارش بہترین ’’اعمال ‘‘ ہیں۔
(۳۱) وہ کیا بد نصیب انسان ہے جس کے دل میں اﷲ نے جان داروں پر رحم کی صفت پیدا نہیں کی۔

اُمید ہے آپ کو میری یہ ادنیٰ کاوش پسند آئی ہوگی۔آپ بھی اپنے دوست احباب کو یاد کیا کریں اور اُن کا خیال رکھا کریں کیوں بقول حفیظ ہوشیار پوری کے ’’ دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے‘‘ ، پس ان کی قدر کریں ۔ اﷲ ہم سب کا ہامی و ناصر ہو۔ امین ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 124 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 105937 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: