درس قرآن 43

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

قرآن مجید ہمارے لئے مشعل راہ اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ قرآن مجید نے زندگی کے ہر پہلو اور گوشے سے متعلق رہنمائی عطا کی ہے ۔ جن قوموں نے قرآن پاک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا وہی عروج اور ترقی سے ہمکنار ہوئیں اور جن قوموں نے قرآنی تعلیمات پر عمل نہ کیا وہ ذلیل و خوار ہو گئیں۔قرآنی احکام زندگی کے ہر پہلو اور ہر گوشے پر حاوی ہیں ۔ معاشرت ، تجارت ، سیاست ، تعلیم غرضیکہ کونسا ایسا شعبہ ہے جہاں کلام الہٰی ہماری رہبری نہیں کرتا ۔ قرآن کریم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کے لائے ہوئے ضابطہ حیات میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم بالکل واضح ہے کہ ہم بغیر کسی استشنا کے اپنی زندگی کو اسلامی قوانین کے تحت لے آئیں ۔ ہمارے خیالات ، طرز زندگی ، رہن سہن ، طور طریقے ، لین دین اور تمام معاملات سب کے سب اسلامی احکامات کے مطابق ہوں۔
آئیے ہم سورۃ محمد کے بارے میں جانتے ہیں تاکہ اس سورۃ کو جب ہم تلاوت کریں تو ہمیں معلوم ہو کے ہم سے کیا خطاب کیا جارہاہے ۔۔سورئہ محمد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس سورت میں 4 رکوع، 38 آیتیں ،558کلمے اور 2475حروف ہیں ۔
اس سورۃ کی وجہ تسمیہ اس سورت کی دوسری آیت میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اسمِ گرامی’’محمد‘‘ ذکر کیا گیا ہے اس مناسبت سے ا سے’’سورۂ محمد‘‘ کہتے ہیں ،نیز اس سورت کا ایک نام ’’سورۂ قِتال‘‘ بھی ہے اورا س کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں کفار کے ساتھ جہاد کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔
آئیے :اب یہ جانتے ہیں کہ اس سورۃ میں کن کن عنوانات پر خطاب کیا گیا ہے تاکہ ہم ایک نظر میں اس سورۃ کا ادراک ہوسکے ۔ اس سورت میں مختلف انداز میں خطابات ہیں ۔
()… ابتداء میںتو بیان کیا گیا ہے کہ جو کافر دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردئیے جبکہ وہ لوگ جواللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے والی کتاب قرآنِ مجید پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیاں مٹا دیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کی اور مسلمانوں نے حق
کی پیروی کی۔(ؒ)…کفار کے ساتھ جنگ کے دوران انہیں قتل کرنے اورکافر قیدیوں کے بارے میں حکم دیا گیا ،جنگ کے دوران شہید ہونے والے مجاہدوں کا ثواب بیان کیاگیا اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جہاد کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنے کی بشارت دی۔()…کافروں کی رسوائی کی وجہ بیان کی گئی کہ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو ناپسند کرتے ہیں ا س لئے رسوا ہوئے ہیں ۔()…کفار ِمکہ کے سامنے سابقہ لوگوں کا انجام بیان کر کے انہیں بتایاگیا کہ ان کا انجام بھی انہی جیسا ہو سکتا ہے۔
()…پرہیز گار مسلمانوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف بیان کئے گئے ۔()…منافقوں کی صفات بیان کی گئیں اور انہیں بتایاگیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے چھپے ہوئے بغض اورکینے کوظاہر فرما دے گا۔()…اس سورت کے آخر میں دنیوی زندگی کی حقیقت اور بخل کرنے کی مذمت بیان کی گئی ۔
یعنی اس سورۃ میں ان عنوانات پر کلام ہے ۔جس پر غور و فکر اور عملی زندگی سے اس ک تعلق پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔آج ہمیں کلام مجید کی باتیں عملی زندگی میں کہیں نظر نہیں آتی ۔زندگی کے تمام مسائل میں قرآنی احکام ہماری رہنمائی کرتے ہیں مگر آج ہماری نظر میں روحانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں رہی ۔ زمانے کا ساتھ دینے کی خواہش سے ہماری اخلاقی قدریں پامال ہو گئیں ، غیروں کا شعار اپنانے کے شوق میں اپنے پرائے ، اچھے اور برے میں تمیز ختم ہو گئی ۔ اپنے اسلاف کی روایات کو قدامت پسندی کا نام دے کر ختم کر دیا اور تو اور تمام اخلاقی اور روحانی بندھنوں سے آزاد ہو گئے ۔ ان حالات میں کوئی بھی معاشرہ نا صر ف ترقی نہیں کر سکتا بلکہ اپنی تمام اخلاقی قدریں بھی کھو دیتا ہے ۔ قرآن حکیم کو جانتے بوجھتے نظر انداز کر کے ہم نے دوسروں کے قانون ، رسم و رواج اور روایات کو اپنا لیا ہے جس وجہ سے معاشرہ مسلسل انحطاط کا شکار ہو گیا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآنی احکامات پر عمل کیا جائے ۔ معاشرے میں اسلامی تصورات اور نظریات لاگو کئے جائیں۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درست اور سچ بات آپ تک پہنچانا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اسی کاروان کو لیے آگے بڑھ رہے ہیں آپ ہمارے لیے عظیم سرمایہ اور بہترین رفیق ہیں ۔اس کائنات میں اکیلا انسان کچھ بھی نہیں بلکہ مل کر ہی تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتاہے ۔بہتر معاشرے اور تابناک مستقبل کے لیے بنیں ہمارے رفیق سفر۔آپ کا شعوری ،فکری ،اور مالی تعاون بناسکتاہے بہت کچھ تو پھر آگے بڑھیے ۔جو ممکن ہو وہ ضرور کیجیے ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 143 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 315 Articles with 265363 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ