لالچ سمِ قاتل

(Sahibzada Mian Huzaifa Ashraf, )

زیادہ قوت، ذیادہ دولت،ذیادہ سُستی، ذیادہ عزم و ہمت،ذیادہ نفرت،ذیادہ بھوک، ذیادہ لالچ اور ذیادہ پیاروغیرہ جب یہ سب حد پار کر جائیں تو یہ زہر بن جاتے ہیں۔انسان کسی حد تک ان سب کو قبول کر سکتا ہے۔ذیادہ کی لالچ انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ایک ہوس جنم لے لیتی ہے۔انسانیت اور احساس کی مقدار ذیادہ کی لالچ کے آگے پھیکی پڑ جاتی ہے۔حرص انسان کو ’’میں‘‘ کے علاوہ سب بھلا دیتی ہے۔حریص کبھی بھی سیر نہیں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر پوری دنیا کا مالک بھی بنا دیا جائے پھر بھی فقیر ہی رہتا ہے.

لالچ انسان کو ہلاک کرنے والی ایک اخلاقی بیماری کا نام ہے، جسکا لغت میں تمائل نفس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی کسی شئے کی شدید آرزو کرنا اور قرآنی اصطلاح میں بہت زیادہ توقع رکھنا اور لوگوں کے مال اور زندگی کے بارے میں حرص کرنا۔ شاید اگر حرص کا ’’زیاد خواہی’’ترجمہ کیا جائے تو بیجا نہ ہوگا لہذا زیاد خواہی اور لالچ باعث بن جاتی ہے اس بات کی کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے اس سے وہ لذت حاصل نہیں کر پاتا اور اس سے اور بھی زیادہ کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ اور لالچی انسان ذلت و خواری کو اپنی زندگی کے بدلے خریدنے پر آمادہ ہو جا تا ہے، اور نتیجہ کے طور پر اس سے عزت و کرامت انسانی دامن چھڑانے لگتی ہے۔

عقلمندی کے باب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ھشام سے فرمایا:
لالچ سے پر ہیزکرو اور جو لوگوں کے پاس ہے اس کی لا لچ نہ کرو۔ لوگوں کے مال سے حسد کرنے کے عمل سے پرہیز کرو۔ کیونکہ لالچ اور حسد تمام برائیوں کی کنجی ہے۔ جو عقل کو مفقود کردیتی ہے انسانیت کو ختم کر دیتی ہے۔ آبرو لے لیتی ہے اور عقل کو مار دیتی ہے۔

لالچ، لالچی انسان کے نفس کو اپنے کنٹرول میں کر لیتی ہے اور اپنی اس خصلت کی بناء پر انسان لالچ کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی وجہ سے روایت میں آیا ہے کہ ’’لالچ ہمیشہ کی غلامی ہے‘‘۔

حرص انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔ کیونکہ حریص انسان دنیا کی لالچ زرقیت و برقیت میں اندھا ہو جا تا ہے اور اپنے ارد گرد خطرات کو نہیں دیکھ پا تاہے اور ہر شئے کو جلدی حاصل کئے جانے کے نتیجہ میں ذلیل و خوار ہوتا رہتا ہے۔ حرص و لالچ انسان کی آبرو کو بر باد کر دیتی ہے اور اسکی عزت جو دوسروں کے نظر گرا دیتی ہے۔ کیونکہ لالچی انسان اپنی لالچ کے حصول میں دنیاوی اور سماجی ملاحظات کو بالائے طاق رکھ دیتا ہے۔ اور طمع و حرص کی گلے میں بندھی زنجیر میں ہر سو ذلیل و خوار ہوتا رہتا ہے۔

ایک اور سچ بھی بتائے دیتا ہوں کہ حرص و لالچ انسان کو ذلیل و خوار کر دیتی ہے مختلف گناہوں اور رزالت میں ملوث کر دیتی ہے مثلاََ جھوٹ، خیانت، ظلم اور اور دوسروں کا مال غضب کرنا۔ اگر انسان چاہے کہ خداوند کے حلال و حرام کو سامنے رکھ کر کام کرے تو کبھی بھی حرص کے معاملہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔

مرحوم شیخ عبدالحسین خوانساری کہتے ہیں، کہ کربلا میں ایک عطار تھا جو بیمار پڑ گیا اسنے اپنا سارا مال و اسباب معالجہ کی غرض سے بازار میں فروخت کر دیا لیکن کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ تمام طبیبوں اور ڈاکٹروں نے نا امیدی کا اظہار کردیا۔

کہتے ہیں ایک روز اسکی عیادت کے لئے اسکی منزل پر گیا کافی طبیعت خراب تھی اپنے بیٹے سے کہ رہا تھا گھر کے سارے سامان سمیٹو اور بازار میں جاکر بیچ آؤ جو درھم و دینار ملیں اسے لاکر معالجہ پر خرچ کرو تاکہ سکون مل جائیگا، ٹھیک ہونا ہو تو ٹھیک ہوجاؤں یا دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔

میں نے کہا! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ اس نے ایک آہ بھری اور کہنے لگا: ہمارے پاس بہت دولت تھی اور میرے ثروت مند ہونے کی وجہ یہ تھی جب کربلا میں ایک بار وبا پھیلی تو اطباء نے اس وبا کا علاج شیرازی لیموں کا پانی بتایا، لہذا لیموں کا پانی مہنگا ہونے لگا اور بڑی دقت کے بعد ملنے لگا۔ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی کہ اگر لیموں کی مصنوعی خوشبو تیار کرکے اسے پانی میں ملاکر بیچا جائے تو کافی آمدنی ہو جائیگی۔ میں نے یہ صورت اپنائی اور بہت جلد ہی کربلا میں صرف میری دوکان تھی، ہر طرف میرا ہی چرچہ تھا غرض اچھی خاصی دولت کمالی۔ لیکن زیادہ مدت نہ گذری تھی کہ اس مرض میں مبتلا ہو گیا جو کچھ تھا سب بک گیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اب آخر میں یہی چند چیزیں رہ گئی تھی کہا جاکر سب کو بازار میں بیچ آؤ یا صحت ہو جائیگی یا پھر اس موزی مرض سے نجات مل جائیگی۔

ایک حریص اور لالچی انسان کا اعتماد خدا سے زیادہ انسانوں پر ہوتا ہے وہ خدا پر توکل کرنے کی بجائے اپنی ساری خواہشات پوری کرلینا چاہتا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو وہ حریصانہ نگاہ سے لوگوں کو نہ دیکھے، بلکہ اپنی ہر خواہش کے لئے سوائے خداوند کے کسی اور سے توقع یا لالچ نہیں رکھے۔

اگر انسان خواہشمند ہے کہ اسکا احترام ہو خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے مکمل استفادہ کرسکے اور اطمینان اور سکون کی زندگی گزارنا چاہے تو اسے چاہئے کہ لالچ سے دوری اختیار کرے اور حرص و طمع کو اپنے قابو میں رکھے، اپنے نفس کی لگام کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے رکھے اور جو دوسروں کے پاس ہے اسے دیکھ کر اپنی حرص و لالچ کو بڑھاوا نہ دے.

انسان دنیا کے اس عارضی بازار میں نہایت قلیل وقت کا راہی ہے اسے جلد یا دیر اس جگہ سے کوچ کر جانا ہے اس لئے اسکو چاہیے کہ اپنی تمام خواہشات نفسی کو لگام ڈالے. انسان کی زندگی کا مقصد اتنا نیچ نہیں ہو سکتا کہ وہ ساری زندگی مال و زر کے پیچھے باولا ہو کر گزار دے. انسان اللّہ کی تخلیقات میں سے افضل ترین مخلوق ہے. اس لئے انسان کو اپنا آپ پہچاننا چاہیے تاکہ وہ دنیا کہ فرضی عارضی فریبوں میں نا آ سکے. یہ دنیا بہت بڑی لالچ ہے جو انسان کی رنگینی میں کھونے لگے اسکو پھر کہیں پناہ نہیں ملتی. اس لئے انسان کو اپنا دل دماغ کھلا رکھ کر اللّہ کی مخلوق سے محبت کرنی چاہیے دوسروں کی خوبیاں اور اپنے عیب نظر میں رکھنے چاہیے. تاکہ اس کا دل صاف ہوتا چلا جائے اور اس سے تمام دنیاوی فریب و فراڈ نکل جائیں. اور حرص و لالچ اور نفس کو قابو کیا جا سکے. تب ہی انسان فلاح کا راستہ پا سکتا ہے. جو آخری اور حقیقی راستہ ہے.

لالچ کی کالی پٹی کو آنکھوں سے اُتارنا ہو گا اس کو دل سے نکالنا ہو گا اور اﷲ کے خوف کو دل میں ڈالنا ہو گا. تب ہی کامیابی انسان کا مقدر بنے گی، بصورت دیگر انسان رسوا ہی ہوگا.
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 115 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Huzaifa Ashraf

Read More Articles by Huzaifa Ashraf: 24 Articles with 15132 views »
صاحبزادہ حزیفہ اشرف کا تعلق لاہور کے ایک علمی وروحانی حاندان سے ہے۔ حزیفہ اشرف14اکتوبر1999کو پیدا ہوئے۔حزیفہ اشرف کے والد قانون دان میاں محمد اشرف عاص.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: