باپ سراں دے تاج

(Huzaifa Ashraf Asmi, Lahore)

عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگِ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے

آپ کو اس دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ملیں گے جو خود سے بھی زیادہ آپکو کامیاب دیکھنا چاہیں گے۔یہ تو ہو گئی بات لوگوں کے متعلق، لیکن میں بات کرنے جا رہا ہوں ایسی ہستی کی جس کا رتبہ بہت بلند ہے میں بات کررہا ہوں باپ کی جی ہاں باپ ہی ایسی ہستی ہے جو آپکو خود سے بھی ذیادہ کامیاب دیکھنا چاہتی ہے۔باپ ایک ایسی کتاب کا نام ہے جس پر بہت سے تجربات تحریر ہوتے ہیں جو زندگی گزارنے میں رہنمائی فرمانے کے ساتھ ساتھ زندگی کا اصل مطلب بھی بتایا کرتے ہیں۔

والدین میرے اﷲ کی عطاء کردہ ایک ایسی انمول نعمت ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ کی شفقت و سرپرستی اور ماں کا سایہء آغوش انسان کو زندگی کی معراج تک لے جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عموماً ماں کی شان میں بے شمار الفاظ لکھے اور بیان کیے گئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ماں کی خدمت اور اطاعت کرنے پر زور دیا جاتا ہے جو کہ یقیناً درست بھی ہے۔ لیکن اس دوران باپ کی ذات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ آفاقی کتاب قرآن مجید میں جگہ جگہ لفظ ’’والدین‘‘ استعمال ہوا ہے۔ جس سے مراد ماں اور باپ دونوں ہیں۔یہاں ایک بات واضح رہے کہ میرا مقصود ماں اور باپ کے درجات کا تقابل نہیں ہے بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ باپ کا درجہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماں کا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ماں اور باپ کی یکساں طور پر خدمت کی جائے خصوصاً جب وہ بڑھاپے کی عمر میں پہنچیں تو ان کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

باپ کا دل اور سینہ بہت وسیع ہوتا ہے اسکے سینے میں اولاد کے لیے موجزن پدرانہ شفقت، اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے عمر بھر کی ریاضت، ان کی بہترین تربیت اور بحیثیت باپ اولاد کی تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سعی۔ یہ وہ عوامل ہیں جو ایک باپ کو بہترین اور مثالی باپ کے عہدے پر فائز کرتے ہیں۔

ایک باپ جو صبح سے شام تک اولاد کی پرورش ان کی تربیت کے سلسلہ میں بے چین رہتا ہے وہ اس خیال میں محو رہتا ہے کہ اخراجات کی تکمیل کیسے ہو؟ اس کا مقام بیان کرتے ہوئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ ہے، اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے۔ ایک اور موقعہ پر ایک صحابی رسولﷺ آکر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کرنے لگے کہ میرے والد میرے مال سے خرچ کرنا چاہتے ہیں، ایسے موقع پر میں کیا کروں؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جواب دیا، ’’تو اور تیرا مال تیرے والد ہی کے لیے ہے‘‘۔ یعنی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے والد کا مقام ومرتبہ بیان کرتے ہوئے اولاد کے مال میں والد کا استحقاق قرار دیا۔

یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ والدین کی خوشنودی اﷲ کی خوشنودی ہوتی ہے۔انسان کی پیدائش کا مقصد ہی یہ ہے کہ اﷲ کو راضی کرے، اس کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: بندے سے اﷲ کا راضی ہونا بندے سے اﷲ کا ناراض ہونا والدین کی رضا مندی وناراضگی کے ساتھ معلق ہے۔ایک اور حدیث میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:رب کی رضامندی والد کی رضا مندی میں ہے، رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔ والدین کی رضامندی کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کتنا اہم قرار دیا کہ ان کی رضامندی پر اپنی رضامندی موقوف کردی، والدین کو ناراض رکھ کر اﷲ کو راضی کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

ہماری جتنی کامیابیاں ہیں وہ سب باپ کی ہی بدولت ہوتی ہیں اور انہی کے لئے ہوتی ہیں میں اگر اپنی بات کروں تو مجھے میرے والد صاحب نے بولنے اور چلنے ساتھ ساتھ لکھنا بھی سکھایا.مجھے اس معاشرے میں سانس لینا سکھایا. میرے کندھے پر تھپکی دے کر مجھے منزل تک پہنچایا.ہر قدم پر آنے والی مشکلات سے بچایامیں گر جاتا تو مجھے اُٹھنا سکھایامیں ہار کے ڈر سے اگر پیچھے ہٹ جاتا تو مجھے حوصلہ و ہمت دیا میں یہاں اگر وغیرہ لکھ دوں تو کچھ غلط نہ ہو گا کیونکہ والد صاحب ہمیں وہ کچھ سمجھا دیتے جو بیان کرنا مشکل ہوتا ہے وہ کچھ سکھا دیتے جسے دوسروں تک پہنچانے کے لئے الفاظ ختم ہو جاتے۔ہماری خواہشات کا اتنا خیال ہوتا ہے کہ ہمارے چہرے پر اداسی آنے سے پہلے ہی من چاہی چیز ہاتھ میں تھما دیتے۔اﷲ نے ماں اور باپ جیسا رشتہ محبت کا رشتہ بنایا ہے یہ اخلاق سکھاتے ہیں یہ جینا سکھاتے ہیں یہ محبت اور محنت کرنا سکھاتے ہیں۔بدترین ہیں وہ لوگ جو والدین جیسی نعت پاس ہوتے ہوئے بھی ان کی قدر نہیں کرتے ان کو خوش کر کے اپنے اﷲ کو راضی نہیں کرتے۔

ماں باپ سے رشتہ تو کسی لالچ کے بغیر ہوتا ان سے انس ہوتا ہے باپ رازدان ہوتا ہے.ان سے دل کی باتیں کرکے سکون محسوس ہوتا۔جب ہم باہر سے گھر آتے ہیں تو ماں کا چہرہ دیکھنے کے لئے بے چین ہوتے ہیں اور جب والد صاحب گھر آتے ہیں تو انکا چہرہ دیکھ کر سکون پاتے ہیں۔

میرا یہاں ایک سوال ہے کہ ایک باپ جو تھکن سے چور بھی ہو جائے تو بھی ہمارا پیٹ پالنے کے لئے ہار نہیں مانتا اسی باپ کے آگے آنکھیں دکھانا کہاں کا انصاف ہے آج کا یہ دور یہ بے حیائی کا دور جس میں باپ کی عزت کی لاج نہیں رکھی جاتی کئی باپ تو اپنی عزت بچانے کے چکر میں منہ چھپاتے پھرتے ہیں کیونکہ انکی اولادکوئی اتنا اچھا کام نہیں کر رہی ہوتی جس پر باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہو سکے اولاد تو چالوں اور باتوں میں آکر والدین کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے چند دن کی خوشی کے لئے باپ کی سالوں کی محبت بھلا دیتے ہیں کیا ہم ایسا ہی نہیں کرتے؟بے شک سب ایسا نہیں کرتے مگر جو کرتے ہیں انہیں یہ سمجھنا ہو گا خدا کی یہ نعمت آج بھی اگر آپ کے پاس موجود ہے تو اسکی قدرکریں کیونکہ میں نے بہت سے لوگ ایسے بھی دیکھے جو کہتے ہیں کہ کاش ہم اپنے والدین کی عزت کر لیتے انکی خدمت کر لیتے آج وہ ہم میں نہیں رہے۔پھر یہ پچھتاوا کسی کام کا نہیں رہتاہمیں انکو خوش رکھنا ہو گا جب ہم بڑے ہو جائیں تو انکی ذمہ داری اُٹھانا ہمارا فرض ہے جیسے کہ انہوں نے ہماری اُٹھائی۔

ماں اور بیٹی آپس میں سہیلی جیسی ہوتی ہیں تو باپ اور بیٹا بھی ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یار بن جاتے ہیں.باپ کی زندگی اس کا فخر اپنے بیٹے کی کامیابی میں پنہاں ہوتا ہے. ماں کے آنسو بھی انمول ہوتے ہیں.ہم نے دیکھا ہے کہ ماں کی شان کے شایان شان ہزاروں صفحات دنیا کے ہر ادب میں موجود ہیں لیکن باپ کی آنکھ کے آنسو اس کی محنت اس کی مشقت اس کی تلخی ایام کو بیان کرتے وقت ہر شاعر و ادیب کا قلم حق ادا کرنے سے محروم نظر آتا ہے. دفتروں کے جنگل میں سر جھکائے اولاد کے لئے رزق حلال کی جستجو میں محو انسان جس کو ہم باپ کہتے ہیں وہ اپنی اولاد کے نوالوں کی خاطر کہاں کہاں جھک جاتا ہے کہاں کہاں اپنی عزت نفس بھی پس پشت ڈال دیتا ہے ہم میں سے اکثر لوگ یہ تب تک نہیں جان پاتے جب تک ہم خود باپ کے عظیم درجہ پر فائز نا ہو جائیں. بھوکا تھاکہ ہارا کمزور باپ سارے زمانے سے جھوجھ کر جب خالی ہاتھ گھر آتا ہے تو اس کے پاس سوائے اپنی اولاد کی فکر کے کوئی دوسری فکر نہیں ہوتی.
بقول شاعر
شام کو خالی ہاتھ جب گھر جاتا ہوں میں
مسکرا دیتے ہیں بچے اور مر جاتا ہوں میں

باپ سارا دن کرب سے گزر کر بچوں کے لئے رزق تن ڈھانپنے کے لئے لباس اور تعلیم کی خاطر اپنی جوان ہڈیوں کو بوڑھا کرتا ہے تو اس وقت اولاد نہیں جان پاتی کہ کہاں کہاں ایک باپ اپنے ضمیر کا سودا کر جاتا ہے تمام مسائل جھیل کر باپ خود جل کر مٹ کر بچوں کے چہروں پر خوشی لانے کی کوشش میں باپ کب بوڑھا ہو جاتا ہے اس کا اندازہ خود باپ کو کبھی ہو ہی نہیں پاتا. باپ زمانے کی تند و تیز دھوپ میں ایسا شجر سایہ دار ہے جو دھوپ کی تمام تمازت سہہ کر اپنے بچوں کو چھاؤں عطا کرتا ہے. اس کے چہرے کے جھریاں اس کے بچوں کو جوانی نصیب کرتی ہیں. اسکی جھکی کمر کی بدولت اولاد کا سینہ چوڑا اور سر بلند ہوتا ہے. یہ وہ سمندر ہے جس کی ہر بوند اس کے اپنوں کے لئے ہوتی ہے خود پیاسا رہ کر اولاد کے حلق تر کرتا ہے. خود بھوک برداشت کر کے اولاد کے شکم کی آگ ٹھنڈی کرنے والے کمزور سے فولادی انسان کو دنیا باپ کہتی ہے. یہ ایسا سہارا ہے جو بیٹی ہو یا بیٹا ان کے کی نیند کی خاطر اپنی بھرپور جوانی رت جگہوں کے حوالے کر دیتا ہے.اسے خبر ہوتی ہے کہ وہ سودا نہیں فرض ادا کرتا ہے پر اسے کسی صلے کی تمنا ہوتی ہے نا ستائش کی آرزو. وہ تو بنا ہی قربانی ایثا کی مٹی سے ہوتا ہے جو خود ڈھے کر اولاد کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے.

کاش اولاد باپ کی زندگی میں اس کو سمجھ کر اس کو وہ مقام دے سکیں جس کا وہ حقدار ہوتا ہے. یہ واحد ہستی ہوتی ہے جو خود مٹ کر اولاد کو وجود عطا کرتی ہے. اپنے والدین کی قدر کریں اس کے سے قبل کے ہاتھ میں پچھتاوا اور آنکھوں میں بس آنسو رہ جائیں.

آج فادرز ڈے کے موقع پر میں نے اپنی عقیدت کا اظہار شاعری سے بھی کرنا چاہا ہے میرے والد صاحب کے لیے تحفہ اور آپ سب کی نذر کرتا ہوں۔

چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں،جب الجھنے لگتا ہوں
باپ تھپکی دیتے ہیں اور میں ہنسنے لگتا ہوں

میری ہستی اجڑے بھی گردشِ زمانہ میں
دیکھ باپ کو اپنے پھر سے بسنے لگتا ہوں

باپ سایہ بن کر ہی رہتا ہے ہر اک سر پر
سایہ باپ کا نہ ہو خود سے ڈرنے لگتا ہوں

باپ ہی تو چاہتا ہے آگے نکلوں دنیا میں
تھپکی دیتا کندھے پہ آگے بڑھنے لگتا ہوں

ہو حذیفہ سر پہ جب اپنے باپ کی شفقت
کتنی مشکل آجائے اس سے لڑنے لگتا ہوں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Huzaifa Ashraf

Read More Articles by Huzaifa Ashraf: 26 Articles with 16547 views »
صاحبزادہ حزیفہ اشرف کا تعلق لاہور کے ایک علمی وروحانی حاندان سے ہے۔ حزیفہ اشرف14اکتوبر1999کو پیدا ہوئے۔حزیفہ اشرف کے والد قانون دان میاں محمد اشرف عاص.. View More
25 Jun, 2020 Views: 505

Comments

آپ کی رائے