مانگنے کا بڑھتا رجحان

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

انسان کی بنیادی ضروریات میں روٹی ، کپڑا اور مکان شامل ہیں۔ انہی کی حصول کی تگ و دو میں انسانی زندگی گردش کرتی نظر آتی ہے۔وہ کاروبار ، تجارت ، ملازمت ، کھیتی باڑی ، مزدوری اور کاری گری وغیرہ سے اپنے اور اہل و عیال کی ضروریات کا سامان کرتے ہیں ۔ان سے ہٹ کر کچھ لوگ پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہوتے ہے جو بہت کچھ پاس ہونے کے باوجود مانگنے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں جو انہیں وراثت میں ملی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن سے یہ عادت مرتے دم تک نہیں چھوٹتی۔ ہمارے پڑوس میں شیلا نامی عورت رہتی تھی، اُس کو یہ عادت اپنے سہل پسند والدین سے منتقل ہوئی تھی۔بزرگوں کے مطابق اُن کے والدین محنت مزدوری سے جی چراتے، کبھی کبھار گھر کے حالات سخت خراب ہوجاتے تو کچھ ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیتے لیکن سہل پسندی ان کی رگوں میں پھر جاگ جاتی ، سر تا پا خون میں دوڑ پڑتی اور پھر ہمسائیوں سے کھانا پینا اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مانگنے لگ جاتے۔بس یہی وجہ تھی کہ والدین سے یہ عادت شیلا کو بھی منتقل ہوئی ۔شیلا کے چند واقعات پیش خدمت ہیں۔ (۱) ایک دفعہ شیلا ہمارے گھر آئی اور کہنے لگی کہ قیمہ ہوگا ، وہ رفعت ( شیلا کی چھوٹی بہن ) کی سہیلی آئی ہے اُس کے لئے کوفتے بنانے ہیں۔ (۲) یوں ایک مرتبہ وہ دہی مانگنے آئی۔ اُن سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ موصوفہ مچھلی بازار سے لائی ہے اور اسے پکانے کے لئے دہی چاہیے۔ (۳) ایک دفعہ ہانپتے ہوئے آئی اور کہا کہ ڈاکٹر سے آئی ہوں۔ گھر پر مرچیں موجود ہیں اگر آپکے پاس گوشت اور دیگر سبزی مل جائے تو مہربانی ہوگی ۔ (۴) اکثر وہ استری مانگنے آتی تھی۔ ایک دن وہ آئی لیکن ہماری استری اپنی خراب طبیعت کی بناء پر مستری کے پاس تھی۔ جب اُسے حقیقت احوال بتایا گیا تو کہنے لگی کہ کوئی بات نہیں، میں اپنی استری صندوق سے نکال لوں گی۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد میں بڑھتا ہوا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے حالاں کہ اُن کے گھروں میں ضرورت کی ہر چیز دستیاب ہوتی ہے، اﷲ تعالیٰ کا دیا بہت کچھ اُن کے پاس ہوتا ہے لیکن عادت سے مجبور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ شرم و حیا سے عاری اور عزت نفس کو بالائے طاق رکھ کر مانگنے کے عادی بن جاتے ہیں۔ ایسے مانگنے والوں کو مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا اور اُن کی اپنی غیرت و حمیت ختم ہوجاتی ہے حتیٰ کہ خودداری اور شرم و حیا صفر کی سطح پر پہنچ جاتی ہے کیوں کہ اُن کی اُمیدیں انسانوں سے وابستہ ہو جاتی ہیں اور وہ یہ بھلا وفراموش کر بیٹھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ سے مانگنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا ہے ۔اس صورت حال میں معاشرے کے باشعور افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور اگر اس معاملے میں کوتاہی اور غفلت برتی گئی تو یہ لوگ پیشہ ور بھکاریوں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے۔یہاں یہ لکھنے میں انتہائی افسوس اور دکھ ہو رہا ہے کہ جس دین نے بھیک مانگنے سے سب سے زیادہ منع فرمایا ہے اور محنتی کو اﷲ کا دوست قرار دیا ہے ، اسی دین کے نام لیواؤں میں بھکاریوں کا تناسب سب سے زیادہ پایا جاتا ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

جیسا کہ اوپری سطور میں بیان کیا جاچکا ہے کہ یہ لوگ پیشہ ور بھکاری نہیں ہوتے بلکہ معاشرے میں ہمارے اردگرد رہتے ہیں اور اُن کو مانگنے کی عادت پڑ جاتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ پختہ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ان کی اصلاح باشعور افراد پر فرض بنتی ہے۔ اس کے لئے ہمیں اسلام کی روشن تعلیمات پر نا صرف خود عمل پیرا ہونا ہوگا بلکہ ان کو گھر گھر پھیلانا ہوگا۔ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے۔ ’’ اے قبیصہ ! تین آدمیوں کے علاوہ کسی کے لئے مانگنا جائز نہیں ۔ایک وہ آدمی جو کسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو تو اس کے لئے مانگنا جائز ہے ۔یہاں تک کہ بقدر قرض پالے پھر باز رہے۔دوسرا وہ آدمی جس کی بے چارگی نے اسے زمین پر ڈال دیا ہو تو اس کے لئے اپنے گزر بسر تک یا گزر اوقات کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے۔ تیسرا وہ آدمی ہے جس کے تین دن فاقہ میں گزر جائیں اور اس کی قوم کے تین کامل العقل آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں آدمی کو فاقہ پہنچا ہے تو اس کے لئے گزر بسر کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے۔اے قبیصہ ! ان تین کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگ کر کھانے والا حرام کھاتا ہے۔ ‘‘ ( صحیح مسلم ، سنن دارمی)۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خاتم النبیین آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔ ’’ جو شخص اپنے مال میں اضافہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ (حقیقت میں جہنم کے ) انگاروں کا سوال کرتا ہے خواہ کم سوال کرے یا زیادہ ۔ ‘‘ ( صحیح مسلم )۔ ایک مرتبہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’ کون مجھے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ لوگوں سے کبھی کوئی سوال نہیں کرے گا ، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیاکہ میں ضمانت دیتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتے تھے۔ ‘‘ ّ( ابو داؤد ، نسائی )۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ سے سوال کیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے ؟ جواب دیا ۔ ہاں ! ایک ٹاٹ ہے جس کے کچھ حصے کو ہم پہنتے اور اوڑھتے ہیں ، کچھ کو بچھاتے ہیں اور ایک پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دونوں چیزیں لے آؤ۔ وہ دونوں چیزیں لے کر آئے۔ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے ان چیزوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا۔ انہیں کون خریدے گا؟ ایک شخص نے کہا کہ میں ان دونوں چیزوں کو ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ ایک درہم سے زیادہ کون دے گا ؟ آپ ﷺ نے یہ بات دو تین مرتبہ فرمائی۔ گویا آپ ﷺ یہ چیزیں نیلام فرمارہے تھے۔ ایک دوسرے شخص نے کہا کہ میں ان دونوں کو دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ﷺ نے بولی اسی پر ختم کردی اور سامان اس شخص کو دے دیا اور اس سے دو درہم لے کر انصاری صحابی کو دیے اور فرمایا۔ ایک درہم کا کھانا وغیرہ خرید کر گھروالوں کو دے دواور دورے درہم کا کلہاڑی کا پھل خرید کر میرے پاس لاؤ۔ چناں چہ انہوں نے آپ ﷺ کی ہدایت پر عمل کیا۔ خاتم النبیین رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس اس میں لکڑی کا دستہ اپنے دست مبارک سے لگایااور فرمایا۔ جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کر لاؤ ، بیچو اور دیکھو! پندرہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں۔ چناں چہ وہ جنگل سے لکڑیاں لاکر فروخت کرتے رہے۔ جب پندرہ دن پورے ہوئے تو وہ دس درہم کما چکے تھے۔ کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا کھانا۔ آپ ﷺ نے محنت مزدوری کی کمائی دیکھ کر فرمایا کہ یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں بُرا نشان ہو۔

ان تمام احادیث مبارکہ ﷺ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام مانگنے اور ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ محنت مزدوری کرکے کمانے پر زور دیتا ہے ۔ دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی اگر اجازت ہے تو وہ بہ درجہ مجبوری ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات کو گھروں اور معاشرے میں پھیلائیں تاکہ مانگنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جاسکے۔ دعا ہے کہ اﷲ ہمیں صرف اپنے دَر کا سوالی بنائے۔ امین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 166 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 106041 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: