عقلمندی کا مظاہرہ

(Ayesha Gulzar Malik, Karachi)

۔یاد رکھیے بادشاہت کو زوال آنے میں وقت نہیں لگتا اور فقیر کو بادشاہ بننے میں وقت نہیں لگتا۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ ویل سیٹلڈ ہوتا کیا ہے۔ زندگی میں اگر آپ کو دو وقت کی اچھے سے کھانے کو مل جائے عزت اور پردے میں رہ کر پہننے کو کپڑے مل جائے رہنے کو چھت مل جائے۔اور سب سے بڑی بات اس سب کے ساتھ سکون و خوشحالی عزت مل جائے۔میرے نزدیک پھر یہ زندگی دنیا کی سب سے خوبصورت ترین زندگی ہوتی ہے۔اس کے برعکس اس کا کیا فائدہ کہ بے انتہا دولت پیسہ ہونے کے باوجود آپ کی زندگی خوشی اور سکون سے محروم ہو ۔چیزیں آپ کے خلاف ہو زندگی آپ کی مرضی کے مطابق نہ ہو بس پیسا ہو ایسی زندگی گزارنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں پیسہ کونسا قبر میں لے جانا اس سے نہ تو دنیا میں سکون نہ آخرت میں۔ میرے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ میرا ایک کزن ہے جس کا ایک عرصے سے ایک لڑکی سے ریلیشن تھا دونوں دن رات باتیں بھی کرتے تھے ملاقات بھی کر تے گفٹ لینا دینا وغیرہ خیر آج وہ باجی یہ کہہ کر آگے نکل گئ ہیں کہ تم ویل سیٹلڈ نہیں ہو اور ہماری کاسٹ ایشو ہے۔سات سال سے باجی کو خیال ہی نہیں آیا مطلب یہ مذاق ہےاور جہاں تک کاسٹ کی بات ہے تو بھئی جب ہم نے مرنا ہے تو مرنے کے بعد فرشتوں نے یہ نہیں بولنا کہ سامنے آۓ سید آرائیں وغیرہ ہم صرف مسلمان کی حیثیت سے بلاۓ جائیں گے۔کسی کے سچے جذبات کے ساتھ کھیل کر ملتا ہی کیا ہے مجھے تو یہی لگتا ہے ہونا یہ چاہیے تھا کہ جب اس لڑکی کو پرپوزل ملا تو پہلے اپنے گھر پہ بات کرنی چاہیے تھی پھر اس بات کو آگے بڑھاناچاہیے تھا گھر والے مانتے تو ٹھیک ہے نہیں تو بھئی وہ اپنے راستے یہ اپنے راستے اگر ہم رشتہ شروع ہونے سے پہلے ہی سب کچھ طے کرلیں تو کسی کی زندگی برباد نہ ہو ۔اور آج کل کی لڑکیوں کے لئے بھولنا بہت آسان کام ہے کیونکہ ان کو اپنے معیار کا ملے تو وہ کسی سے بھی شادی کر کے سیٹ ہو جاتی ہےمگر اگر لڑکا سچی محبت میں پڑ جائے تو وہ تو ڈوب ہی جاتا ہے۔اللہ ہم سب کو ہدایت اور نیکی کے راستے پر چلنے کی توفیق دے پیارے نبی کی امت کو برائی کے رستے سے بچا کر رکھے امین۔


روایت کے مطابق حضرت علی کا تو اپنا ذاتی گھر بھی نہیں تھا پھر بھی خاتون جنت ان کا نصیب بنی۔

دراصل ہم دنیا والے اپنی اوقات بھول گئے ہیں۔📝
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 99 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ayesha Gulzar Malik

Read More Articles by Ayesha Gulzar Malik: 11 Articles with 11575 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: