دوسروں کے ہاتھ سجانے کے لئے اپنے ہاتھ زخمی کرنے پڑتے ہیں۔۔۔چوڑی بنانے والوں کے معاوضے انتہائی کم ۔۔

 
دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمانے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ محنت طلب اور مشکل کام کرتے ہیں۔۔۔لیکن پاکستان میں اور ایشیائی ممالک میں ایسے لوگوں کا معاوضہ سب سے کم اور تکالیف سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔۔۔بات شاید کڑوی لگے لیکن اے سی میں بیٹھ کر سیاست کرنے اور چہ مگوئیاں کرنے والے لوگ بہت زیادہ کماتے ہیں لیکن دھوپ میں اور بھٹی میں جل کر بھی کچھ لوگ اپنی بھوک کا حل نہیں ڈھونڈ پاتے۔۔۔ایسی کئی نوکریاں ہیں جن کی تکلیف کا ہمیں اندازہ بھی نہیں اور معاوضہ سن کر تو آپ دانتوں تلے انگلیاں دبالیں گے۔۔۔لیکن
 
چوڑیاں بنانے کا کام
پاکستان کے شہر حیدرآباد میں چوڑیوں کے کام کی سب سے بڑی گھریلو صنعت ہے۔۔۔یہ شہر اپنی چوڑیوں کے لئے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔۔۔نا جانے کتنی دلہنوں کی کلائیوں میں رنگ بھرنے والی یہ صنعت بہت محنت طلب ہے اور بہت تکلیف دہ بھی۔۔۔یہ ایک سچ ہے کہ اس صنعت کی وجہ سے کئی لوگ نوکری پیشہ ہوئے ہیں لیکن یہ نوکری پھر بھی ان کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہے۔۔۔اس کام کے لئے گھر کے سارے افراد کو صنعت میں جانا پڑتا ہے تاکہ مہینے کے پانچ ہزار کما سکیں۔۔۔ایک شخص کو پندرہ دن بعد تین سو سے ساڑھے تین سو کی اجرت دی جاتی ہے۔۔۔اور اب ذرا اس کام کی تفصیل سنیں۔۔۔
 
کانچ چننا
سوچئے کانچ کی ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں سے کام کا کانچ چننا۔۔۔اور اسے علیحدہ کرنا۔۔۔نا تو دستانے اور نا ہی کوئی مشین۔۔۔پندرہ پندرہ سال سے کام کرتی خواتین اپنے زخمی ہاتھوں کو روزانہ سہلاتی ہیں اور دوبارہ اس کام میں جت جاتی ہیں۔۔۔اب تو ان کے ہاتھوں میں زخم کی اور جگہ بھی نہیں۔۔۔یہ روز ہاتھ کٹنے اور کانچ چبھنے کے درد کو سہتی ہیں۔۔ان میں کئی چھوٹی بچیاں بھی ہوتی ہیں۔۔۔جنہیں اس کام کا عادی بنایا جاتا ہے۔۔۔پورا دن کی اجرت کچھ کی روزانہ اور کچھ کی ہر پندرہ دن بعد ادا کی جاتی ہے۔۔۔
 
گرم کرنا
یوں تو چوڑی بنانے کے کئی مراحل ہیں لیکن ایک اور مرحلہ ہے انہیں پگھلانا اور مولڈ کرنا۔۔۔اس کے لئے چودہ سو فارن ہائیٹ درجہ حرارت پر گھمایا جاتا ہے۔۔۔اور کانچ کو پگھلایا جاتا ہے۔۔۔اس مرحلے کے لئے دن کے گیارہ سے بارہ گھنٹے اس دوزخ جیسے دہکتے ہوئے ماحول میں وقت گزارنا ہوتا ہے۔۔۔یہ ایک بھٹی ہے اور اس میں کام کرنے والوں کی جلد جھلسی ہوئی ہوتی ہے۔۔۔لیکن یہ مت سوچ لیجئے گا کہ اس کام کے لئے کوئی خاص معاوضہ ہوگا۔۔۔یہ بھی تین سو روپے والا ہی کام ہے۔۔۔محنت کش کا معاوضہ جو سانس اور دمہ جیسی تکالیف کا بھی شکار ہوجاتا ہے اور ان کے لئے کوئی پینشن، کوئی مراعات، کوئی سیکیورٹی بھی نہیں۔۔۔
 
جڑائی کا کام
یہ وہ کام ہے جو صرف خواتین ہی کرتی ہیں۔۔۔چوڑیوں کو جوڑا جاتا ہے اور یہ انتہائی حساس کام ہے جس میں انتہائی گرم کمرے میں لڑکیاں تیز آنچ پر چوڑی کے دونوں حصوں کو ملاتی ہیں۔۔۔اس کام میں کوئی جدید مشینیں نہیں ۔۔۔لڑکیوں کے پاس نا تو ہیلمٹ، نا آنکھوں کر بچانے کے لئے چشمے اور نا ہی گلووز ہوتے ہیں۔۔۔اس میں ا کثر کی بینائی بھی متاثر ہوتی ہے۔۔۔لیکن پیٹ کی بھوک انہیں اس محنت پر مجبور کرتی ہے۔۔۔
 
اب جب بھی چوڑیاں پہنیں تو ایک لمحہ کے لئے ان بیٹیوں اور محنت کشوں کے لئے ضرور دعا کریں جو انہیں بنانے کی خاطر روز بھٹی میں جلتے ہیں۔۔۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: