ہر چیز سے ماں کی خوشبو آتی ہے۔۔۔بیٹی کا میکہ ماں کے مرنے کے بعد بھی ’’امی کا گھر‘‘ ہی رہتا ہے

 
ماں بھی کیا رشتہ ہے۔۔۔بیٹیوں کے لئے ماں ایک ٹھنڈی چھاؤں ہے۔۔۔جس کے دامن میں وہ اپنی زندگی کے ہر درد کو باندھ دیتی ہیں اور ان کا دل پھر سے پرسکون ہوجاتا ہے۔۔۔اور وہ دامن کبھی اپنے اندر چھپے طوفان کو ظاہر نہیں کرتا۔۔۔
 
ماں بھی کیا عظیم تحفہ ہے اﷲ کا۔۔۔کسی تپتے ہوئے صحرا میں جیسے بارش کی ٹھنڈی بوند۔۔۔بیٹیوں کو رخصت کرنے والی ہر ماں ایک بار یا کبھی کبھی بار بار دنیا سے چھپ کر روتی ضرور ہے۔۔۔وہ یہ دعا ضرور کرتی ہے کہ میری زندگی میں اگر کوئی ایک پل بھی دکھ کا آیا ہے تو اس کا سایہ بھی میری بیٹی کو کبھی دیکھنا نصیب نا ہو۔۔۔اس کے چہرے کی مسکراہٹ پر رنج کی کوئی مہر نا ہو۔۔۔
 
جب بیٹیاں شادی کر کے گھر سے جاتی ہیں تو وہ ماں کے آنچل کی مہک اپنے ساتھ ہی لے جاتی ہیں۔۔۔کیونکہ اسی مہک کی مدد سے ان کو زندگی کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔۔۔ان کی تربیت کے سارے رنگ ڈھنگ اس آنچل کی نگرانی میں نظر آتے ہیں ۔۔۔وہ چلتی ہے تو ماں کا عکس، وہ بات کرتی ہے تو مامتا کی جھلک، وہ احساس کا روپ دھارتی ہے تو اپنی ماں کا ہی پر تو نظرآتی ہے۔۔۔
 
 
کیسی عجیب بات ہے کہ جب ماں دنیا سے چلی بھی جاتی ہے تو اس کا گھر بیٹی کے لئے سدا ’’امی کا گھر‘‘ ہی کہلاتا ہے۔۔گھر میں رکھے کپڑوں سے ماں کی خوشبو آتی ہے، بستر کی چادر سے، تکئے کے غلاف سے، کچن کے اطراف سے، لاؤنج کی درودیوار سے، آنگن میں رکھے پودوں سے، فریج میں رکھے ہر کھانے، ہر سبزی سے، گھر کے ایک ایک شو پیس سے، ہر یادوں کی تصویر سے۔۔۔ماں کی خوشبو آتی ہے۔۔۔
 
بیٹیاں ماں کی خوشبو کو لئے اپنی زندگی کے گلاب کو کھلاتی ہیں۔۔۔پھر ایک دن وہ خود اپنی بیٹیوں اور بچوں کے لئے خوشبو کا احساس بن جاتی ہیں۔۔۔
 
امی کا گھر بیٹیوں کے لئے ایک محل کی مانند ہوتا ہے۔۔۔اس محل کی وہ شہزادیاں ہوتی ہیں لیکن ان کی خدمت گزار صرف ان کی محبت کی چادر میں لپٹی ماں ہوتی ہے۔۔۔وہ جب اپنے محل میں قدم رکھتی ہیں تو دعاؤں کا حصار ان پر سایہ کردیتا ہے۔۔۔چہرے کی ایک ایک تھکن، ایک ایک درد کو چنتی ہیں۔۔۔ہر کہانی کو کہے بنا ہی آنکھوں سے پڑھ لیتی ہیں۔۔۔مائیں بہت بڑی سائنسدان ہوتی ہیں، مائیں بہت بڑی ڈاکٹر ہوتی ہیں، مائیں بہت بڑی عالم ہوتی ہیں، بہت بڑی ماہر نفسیات ہوتی ہیں، وکیل ہوتی ہیں، سپاہی ہوتی ہیں، پولیس ہوتی ہیں، غرض ایک ماں چاہے تعلیم سے کوری ہو لیکن اپنی بیٹی کے لئے دنیا کی سب سے قابل انسان ہوتی ہے۔۔۔
 
 
جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ ہر رشتہ غرض کا پابند ہے۔۔۔لیکن ایک رشتہ ہے جسے اﷲ نے اپنی محبت کی مثال کے لئے چنا۔۔۔تو بھلا بیٹیاں کیسے اپنی سب سے بڑی پناہ گاہ ’’امی کے گھر‘‘ کو بھلائیں۔۔۔جہاں ان کے جانے کے بعد بھی ان کی خوشبو آتی ہے۔۔۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: