خاموشی

(Muhammad Arshad, Sahiwal)
"خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے خاموشی جب کسی وجود پہ اترتی ہے تو اسے ہر چیز سنائی دیتی ہے"

"خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے خاموشی جب کسی وجود پہ اترتی ہے تو اسے ہر چیز سنائی دیتی ہے"

میں چند دن سے خاموشی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیا phenomena ہے
خاموشی کہاں سے آتی ہے۔ کوئی انسان کیوں کر خاموش ہوتا ہے اس کے کیا عوامل ہوسکتے ہیں انسانی کردار میں خاموشی کی کیا اہمیت ہے یہ مثبت ہے یا منفی ہے ۔
جو لوگ بولتے ہیں وہ کیوں بولتے ہیں وہ کیوں خاموش نہیں ہو پاتے (بولنے پر علیحدہ مضمون لکھا جائے گا سرِدست خاموشی میرا موضوع ہے)
کیمبرج ڈکشنری کے مطابق خاموشی ایسا لمحہ ہے جس میں کوئی آواز نہ ہو یا ایسی حالت جس میں آپ بولنے سے اجتناب کرتے ہیں یا خاموشی کا مطلب کسی آواز کا نہ ہونا ہے-
اس کا مطلب ہے خاموشی کو سمجھنے کیلئے
ہمیں آواز کی تعریف دیکھنا ہو گی کہ آواز کیا ہے-
" آواز لہروں کے ارتعاش کی صورت میں ہمارے کانوں کے پردہ سماعت سے ٹکراتا ہے وہاں سے سگنلز پیدا ہوتے ہیں یہ سگنلز دماغ کے مخصوص حصے میں پہنچتے ہیں اور ہمیں آواز سنائی دیتی ہے"
ہر آواز کی مخصوص فریکوئنسی ہوتی ہے ایک خاص فریکوئنسی سے کم یا زیادہ ہم سن نہیں سکتے۔
آواز کی شدت کو ناپنے کے لیے ڈیسیبل dB یونٹ کا استعمال کیا جاتا ہے اس کے مطابق خاموشی کا مطلب ہے 0 dB. یعنی کوئی اواز ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔
ہوائی جہاز جب ٹیک آف کرتا ہے تو اس کی آواز 120 dB ہوتی ہے- ٹرین کی آواز 100 dB ' ہماری روزمرہ کی نارمل گفتگو 50 dB ,سرگوشی 30 dB اور ہمارے سانس لینے کی آواز 10 dB ہوتی ہے-

اب آتے ہیں خاموشی کی طرف ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ''کیا absolute silence یا خاموشی کو پیدا کیا جا سکتا ہے؟

خاموشی یا سائلنس پیدا کرنے کے لیے یا تو آواز کے ذرائع ختم کرنا ہوں گے۔ یا کسی طرح سے آواز کو ہماری سماعت تک پہنچنے سے روکنا ہوگا--
یہ عملی طور پر کرنا ناممکن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ "absolute silence "یعنی خاموشی کو پیدا نہیں کیا جاسکتا-
لیکن ایک چھوٹے سے کمرے یا چیمبر میں ایک محدود پیمانے پر بیرونی آوازوں کو انسان سماعت کے لیول سے نیچے لایا جا سکتا ہے تب ہمیں لگے گا کہ یہاں بلکل خاموشی ہے۔
دنیا کا سب سے خاموش کمرہ یا چیمبر anechoic chamber کہلاتا ہے اسے مائیکروسافٹ کارپوریشن نے 2015ءمیں واشنگٹن میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر میں بنایا ہے جہاں پر پروڈکٹ ٹیسٹنگ یعنی موبائل کی آواز یا پرفارمنس کو جانچا جاتا ہے-
حیران کن بات یہ ہے کہ کمرہ اتنا خاموش ہے کہ یہاں رکنے کے کچھ دیر بعد انسانی ہمت جواب دے جاتی ہے انسان خود سے بیزار ہو جاتا ہے یہاں اتنی خاموشی میں ہم اپنے دل کی دھڑکن خود سن سکتے ہیں اپنی سانس اور بعض دفعہ جسم میں ہونے والے تبدیلیاں بھی سنائی دیتی ہیں-
اس خاموش چیمبر میں جہاں کسی آواز تک کا شائبہ نہیں ہو سکتا وہاں انسان خود اپنی آواز بن جاتا ہے جب انسان بیرونی آوازوں کی بجائے خود اپنے اندر کی آوازیں سن سکتا ہے اسے "خاموشی کی آواز" کہا جاتا ہے

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی گزارنے کے زریں اصول فراہم کرتا ہے۔ حضوراکرم ﷺ کے بہت سے فرامین مبارکہ خاموشی کی بارے میں ہیں جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ کَانَ يُؤمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الآخِرِفَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
’’جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات منہ سے نکالے یا خاموش رہے۔‘‘
(بخاری، الصحيح، کتاب الأدب، باب مَنْ کَانَ يُؤمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، 5 : 2240، رقم : 5672)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر! میں تجھے ایسی باتیں نہ بتاؤں جو نہایت سبک (کم وزن) اور ہلکی ہیں لیکن اعمال کے ترازو میں بہت بھاری ہیں؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ضرور فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
طُوْلُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمْلُ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِهمَا.

’’طویل خاموشی اور خوش خلقی، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ان دو خصلتوں سے بہتر مخلوق کے لئے کوئی کام نہیں ہے۔‘‘(بيهقی، شعب الإيمان، 6 : 239، 8006)
حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’اﷲ تعالیٰ کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کرو کیونکہ ذکرِ الٰہی کے بغیر کثرتِ کلام دل کی سختی (کا باعث ہے) اور سخت دل آدمی اﷲ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے۔‘‘(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الزهد، باب ماجاء في حِِفْظ للِّسان، 4 : 211، رقم : 2411)

حضرت عبد اﷲ الثقفي رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟
فَأَخَذَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا.’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کا۔‘‘(ابن ماجة، السنن، کتاب الفتن، باب کفِّ اللِّسَانِ فی الْفِتْنَةِ، 4 : 382، رقم : 3972)

تصوف میں خاموشی سے مراد صرف چپ رہنے کی بجائے باطنی توجہ ہے یعنی صرف ایسی بات کی جائے جس کی ضرورت ہو اور دینی و دنیاوی منفعت سے خالی باتوں کو ترک کر دیا جائے۔
علامہ ابن العربی (۶۳۸ھ) کے مطابق خاموشی کی دو اقسام ہیں
(۱) زبان کی خاموشی (۲) دل کی خاموشی
زبا ن کی خاموشی سے مراد ایسی تمام باتوں کو چھوڑ دیا جائے جن کا تعلق غیر اللہ سے ہو اور دل کی خاموشی سے یہ ہے کہ دل کو شیطانی وساوس سے خالی کیا جائے۔ شیطانی وسوسہ حتی المقدور بچا جائے۔ جس شخص کی زبان اور دل دونوں خاموش ہوں اس پر تجلیاتِ ربانی کا نزول ہوتا ہے، اور اس پہ مخفی اصرار کھلنے لگتے ہیں۔ ایسا شخص جس کی نہ زبان خاموش رہے اور نہ دل، شیطان کا غلام اور تابع ہوتا ہے۔
خاموشی بہت بڑی نعمت ہے جس کی بدولت اللہ اپنے بندے کو صحیح علم اور راہِ نجات کا شعور عطا فرماتا ہے۔ اور اپنے انعامات سے نوازتا ہے۔ اسی لیے اہل معرفت اس پہ خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
خاموشی اہل معرفت کا شیوا ہے۔

خاموشی بڑی طاقت ہے۔ کچھ لوگ پرسکون اور خاموش ماحول پسند کرتے ہیں۔اور اسے تنہا رہنے کے مترادف سمجھتے ہیں ۔ اس کے برعکس خاموش ماحول میں اپنے خیالات کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اپنی کمزوریوں کا محاسبہ کرتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی کو پا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
زندگی کے بہترین لمحات وہ ہوتے ہیں جب خاموشی وجود پہ طاری ہو جاتی ہے۔
خاموشی انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا دیتی ہے ۔ منتشر خیالات کو یکسوئی میسر آتی ہے تو بہت سے دیرینہ اور دشوار مسائل کا حل سجھائی دینے لگتا ہے۔ ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور ذہن کسی نہ کسی ممکنہ نتیجے پر پہنچ جا تاہے۔
خاموشی خود شناسی ہے۔ جو آپکو اپنے اور ارد گرد کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔
خاموشی نعمت خداوندی ہے
خاموشی صبر کا مظہر ہے
خاموشی مضبوط قوت ارادی کی علامت ہے
خاموشی سارے بھرم رکھ لیتی ہے
خاموشی حکمت ہے
خاموشی ہار کو جیت میں بدل دیتی ہے۔
خاموشی عقلمندی اور فراست کی علامت ہے۔۔۔ (ڈاکٹر محمد ارشد)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jul, 2020 Views: 274

Comments

آپ کی رائے