اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

(Aqib Shafiq Pirzada, )

میں گزشتہ دو تین ہفتوں سے ایسے سکون میں ہوں کہ یاد نہیں پڑتا ماضی میں اس قدر راحت میسر آئی ہو۔یہ سکون نہایت گہرا اور دل کو طمانیت بخشنے والا ہے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور حتیٰ کہ سوتے جاگتے مجھے خوش ذائقہ سانسیں نصیب ہو رہی ہیں۔ زندگی میں بالکل پہلے جیسی خوشیاں اور اتنے ہی دکھ درد ہیں لیکن یہ قلبی راحت بڑے بڑے امتحانات میں بھی بالکل آسانی سے کامیاب کرواتی جا رہی ہے الحمدللہ میں نے سوچا کہ یہ تجربہ ضرور آپ سے شیئر کروں اور اس اطمینانِ قلب کی منزل کو جاتے سہل ترین راستے کی نشاندہی کر دوں۔

تقریباً ایک ماہ قبل میں شمشاد کیساتھ چائے پی رہا تھا۔شمشاد کو پیار سے ہم شمو بلاتے ہیں ۔ شمو کے ساتھ میرا تعلق پانچ برس پرانا ہے لیکن کبھی اسے پریشان نہیں دیکھا وہ اپنا کام ہمیشہ مسکراتے ہوئے کرتا ہے بلکہ اوروں کو بھی خوش رکھنے کا منفرد انداز جانتا ہے۔ جو لوگ غموں کا اظہار نہیں کرتے حضرتِ انساں انہیں غموں سے پاک سمجھتا ہے۔ جو اپنے رنج و آلام آئے روز بتاتے پھرتے ہیں حضرتِ انساں ان کیساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے چلتا بنتا ہے۔ یہ محترم حضرتِ انساں بھول جاتا ہے کہ اس کے ارد گرد پائے جانے والے تمام لوگ دنیا میں ہیں اور دنیا امتحان گاہ ہے۔ ہر شخص کو اس کی سکت اور برداشت کے مطابق پروردگار امتحانات سے گزار رہا ہوتا ہے ۔ امتحان کے سلسلے میں ہم سب باہمی ربط میں ہیں یعنی اگر آج شمو امتحان میں ہے تو اسکا مطلب اس کے ارد کے لوگ ، اس کے دوست اور حتیٰ کہ اس کے رشتہ داروں کا بھی یہ امتحان ہے کہ وہ کیسے اپنے روئیے ، الفاظ ، نصائح اور اسباب سے شمو کی راہنمائی اور مدد کریں گے۔

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ خالی ہاتھ ہوتا ہے اور جب اسکا انتقال ہوتا ہے تو خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ ان دو واقعات کا درمیانی دورانیہ اصل امتحان ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس خالی ہاتھ دنیا میں آئے انسان کو اپنے خزانوں سے مال دیتا ہے، اولاد دیتا ہے، آسائیشیں دیتا ہے تا کہ اسکا امتحان لے سکے۔ ۔ وہی خدا انسان سے مال لے بھی لیتا ہے، اولاد واپس بھی لے لیتا ہے، آسائیشیں چھین بھی لیتا ہے کیونکہ پروردگار امتحان لے رہا ہے اور اس نے قرآن میں واضح طور پر کہہ دیا ہی کہ " اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر ، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے، ان حالات میں جو لوگ صبر کریں، انہیں خوش خبری سنا دو" (البقرہ 155)۔

یہ بات تو طے ہے کہ ہم پر جتنی بھی پریشانیاں، تکالیف اور رنج آتے ہیں وہ امتحان ہے اور اس امتحان کی کامیابی صبر کرنا ہے۔ نہ تو غیراللہ کے در پر حاضریاں اس امتحان سے خلاصی دلوا سکتی ہیں اور نہ کوئی دولت سے مالا مال انسان۔ اگر ہم صبر کر کے اللہ کے حضور حاضر ہو جائیں تو درست وگرنہ اپنے تئیں لاکھ کوششیں کی جائیں تو اس مشکل سے نکلنا تو دور الٹا اس امتحان میں بھی ناکام۔

امتحان میں ناکامی کا مطلب اخروی زندگی کا اجیرن ہو جانا ہے۔ الحفیظ والامان۔ تو کیوں نہ ہم اس بات کو سمجھ لیں کہ اللہ نے جب کہہ دیا ہیکہ " ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے" تو اس بات میں کیا شُبہ رہ جاتا ہے کہ ہر قسم کی آزمائش کے پیچھے میرا پروردگار ہے جو براہِ راست مجھے آزما رہا ہے۔ ۔ ۔ جو براہِ راست مجھے دیکھ رہا ہے کہ میں اس پریشانی میں کیا رد عمل ظاہر کرونگا۔ جو آزمائش میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ منتظر ہیکہ کب میرا بندہ صبر و تشکر کے ساتھ میری طرف مڑے اور مجھ سے مدد مانگے۔ ۔ تو میں اس کی پکار سنوں "ادعونی استجبلکم" (القرآن)

اس دن بھی شمو مسکراتے ہوئے میرے ساتھ چائے پی رہا تھا۔ شمو نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے چھ افراد پر مشتمل کنبے کا واحد کمانے والا فرد ہے اور اسکی چھوٹی بہن کی عید الاضحیٰ کے بعد شادی ہے اس کی بہن نابینہ ہے۔ اور تاحال اس کے پاس اسباب کے نہ ہونے کے سبب کوئی رقم جمع نہیں ہو سکی۔
شمو دراصل مجھ سے بینک لون لینے کا طریقہ پوچھ رہا تھا۔ جو کہ میں نے نہیں بتایا کیونکہ بینک سود زدہ قرض دیتے ہیں ۔

لیکن وہ بالکل مطمئن تھا ۔ اس نے رمضان میں مکمل تراویح کا اہتمام کیا تھا اور اللہ سے اپنے تمام حالات بیان کرتا رہا کہ خداوند! تیری بندی ہے۔ دیکھنے سے عاری ہے تو اسکی شادی اپنی غیبی مدد سے کر دے اور اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑی عید قریب آتی جا رہی تھی لیکن کیا مجال کہ شمشاد کے چہرے کے اطمینان میں زرہ برابر بھی فرق پڑا ہو۔

میں واپس کمرے میں آیا تو میں عجیب کشمکش کا شکار تھا درحقیقت مجھے شمشاد کا اطمینان حیران اور پریشان کر رہا تھا۔ ہم تو ٹھہرے گناہگار اور مادہ پرست ۔ جب تک ظاہری اسباب نہ ہوں تو ایمان اور عقائد بس باتیں لگتی ہیں لیکن شمشاد ۔ ۔ ۔ جسے میں آج تک " ان پڑھ ویٹر" سمجھ رہا تھا وہ آج مجھے اللہ کا قریبی دوست (ولی اللہ) نظر آ رہا تھا ۔

اسی کشمکش میں، میں نے اس ملاقات کے احوال کو تحریر کیا اور چھپوانے بھی بھیج دیا۔

واللہ مجھے نہیں علم کہ کہاں کہاں سے اور کن کن لوگوں نے ۔ ۔لیکن بیس روپے۔ ۔ ۔ تیس روپے سے لیکر ہزاروں روپے تک کے میرے اکاؤنٹ میں جمع ہونے کے پیغامات بینک کے نمبر سے موصول ہوتے رہے۔ ۔ المختصر چند ہی روز میں لاکھوں روپوں پر مشتمل خطیر رقم میرے اکاؤنٹ میں تھی۔ کچھ فرشتہ صفت افراد نے براہِ راست شمو کو رقم دی، کچھ نے شادی کے کپڑوں کا عہد کیا، کچھ نے کراکری وغیرہ۔
یہ کامیابی کی لاثانی مثال ہے ۔شمو نے زندگی بھر صبر سے کام لیا اور شکرگزار رہا جب اسے لگا کہ معاملہ گھمبیر لگ رہا ہے اور ظاہری مسائل زائد از وسائل ہیں تو اللہ کی طرف رجوع کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے غیب سے۔ ۔ ۔ واللہ غیب سے۔۔۔ مدد کی۔ کیونکہ جن افراد نے یہ منتقل کیں۔ان میں سے بیشتر کو نہ میں جانتا ہوں اور نہ نام یا شہر کا علم ہے۔

شمو نے بہن کی شادی کی تیاریاں تقریباً مکمل کر لی ہیں اور وہ اب بھی اسی طرح مطمئن ہے جیسے پہلے تھا ۔ یہ پہاڑ جیسی ذمہ داری بھی شمو کو پریشانی کے کنویں میں نہ دھکیل سکی اور نہ اس شمو کا توکل لڑکھڑایا۔

یہ واقعہ مجھے زندگی کے بہت قیمتی اسباق سکھا گیا۔ شمو کے ساتھ چائے پینے سے لیکر اب تک مجھے منفرد سا اطمینان قلب نصیب ہوا ہے۔ جیسے دور کہیں خاموش سبز پہاڑوں میں بہتی آبشار کی خنکی میں بیٹھ کر سکون ملتا ہے۔ جیسے آبشار کے کنارے بیٹھ کر پاؤں پانی میں اتارنے سے راحت ملتی ہے۔ جیسے دور کہیں کسی جھیل کنارے کیمپ لگا کر چاند کا عکس پانی میں دیکھ کر تسکین نصیب ہوتی ہے۔ جیسے بیماری کی تکالیف کے بعد شفا ملتی ہے ، جیسے محبوب کی ناراضگی کے بعد رضا ملتی ہے جیسے بدحال کرتی پیاس کے بعد ٹھنڈا پانی مل جائے۔

یہ ساری خوشیاں حاصل کرنا نہ صرف ناگزیر ہے بلکہ نہایت آسان بھی ہے ۔ اس کے لیئے پیسے جمع نہیں کرنے بلکہ جو تھوڑے بہت پاس ہیں وہ دینے ہیں۔ واللہ ! خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے کبھی رقم کم نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ تو راہِ الٰہی میں شاندار سرمایہ کاری ہے جس کے عوض رقم تو "سود" سمیت وصول ہوتی ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ جو خوشیاں اور سکون ملتا ہے وہ پروردگار کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ایسا شاندار اطمینان کہ زندگی جینے کا مزہ آتا ہے۔

آپ ایک بار یہ سرمایہ کاری کر کے تو دیکھیں رب کے ساتھ معاملات ایسے سلجھتے ہیں کہ زندگی کی الجھنیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ہمارے اڑوس پڑوس میں ہزاروں بچے غربت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ۔ کسی ایک کنبے کو ڈھونڈیئے اور بچے کے تعلیمی اخراجات اٹھائیے یہ بظاہر تو ماہانہ ہزار دو ہزار کی بات ہے۔ لیکن درحقیقت یہ ایک" انسان" کی تعمیر کی بات ہے۔ جی ہاں! ایک انسان ۔

رقم اکٹھی کرتے وقت لاشعوری طور پر دل کے کسی کونے میں جہاں بےچینی سی ہوتی ہے رقوم کے خرچ کرتے وقت دل کے اسی گوشے میں اطمینان اور سکون ہوتا ہے۔ زندگی جینے کا مزہ آنے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتے ہیں "جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے کے جیسے ہےجس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہےبڑھا چڑھا کر دےاور اللہ تعالیٰ کشادگی والااور علم والا ہے" البقرہ 261 ۔
وما علینا الا البلاغ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqib Shafiq Pirzada

Read More Articles by Aqib Shafiq Pirzada: 7 Articles with 2647 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2020 Views: 167

Comments

آپ کی رائے