موجودہ حالات

(Ramsha Buksh, )

جیساکہ آپ سب جانتے ہیں آج کل ایک وبا آئی ہوئی ہے جسے کرونا وائرس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس وبا سے متعلق لوگوں نے مختلف رائے بنائی ہوئی ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ یہ امریکا کی سازش ہے وہ اس وائرس کو پوری دنیا میں پھیلاکر پوری دنیا کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ چین امریکا کو اپنی معیشت اوپر جانے کی بنا پر آنکھیں دکھا رہا تھا جس وجہ سے اس نے چین میں یہ وائرس چھوڑا،اور کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جب انسان اپنی اوقات بھول جاتا ہے تب اﷲ بھی اسے اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ تجھ سے بڑی طاقت بھی موجود ہے وہ طاقت جس نے خاک سے بنے انسان کو طاقت بخشی جب انسان ظلم کے بازار گرم کر دے تب اﷲ کا عرش لرز اٹھتا ہے۔یہ کشمیر کے مظلوموں جیسے کہیں اورمظلوموں کی آہیں بھی ہو سکتی ہیں جنہوں نے اﷲ کے قہر کو جوش میں آنے پر مجبور کر دیااور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تب کہیں نا کہیں سیانصاف کو جنم لینا ہی پڑتا ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے رب کا باغی ہو جاتا ہے تو اﷲ اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئی آزمائیش میں ڈالتا ہے۔اور اس بات کی گواہی تو قرآن بھی دیتا ہے۔ترجمہ:قیامت سے پہلے ہم انہیں چھوٹے عذابوں سے آزمائیں گے شاید وہ ہماری طرف لوٹ آئیں۔اور یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی ہے بہت سے لوگ اﷲ کی راہ میں مدد کے لئے نکلے ہیں اﷲ کو وہی لوگ پسندہوتے ہیں جو اکے بندوں کیلئے اچھے ہوتے ہیں۔مگر اس وبا کے اس بڑھتے ہوئے پھلاؤ کو روکنے کیلئے کچھ حکومتی اقدام اٹھاے گئے جن میں ایک تعلیمی ادارے بند رکھنا بھی ہے ۔اس سے تقریبا تمام بچے تعلیم سے بالکل لاتعلق ہو گئے ہیں اور سوشل میڈیا,ٹی وی جیسی برائیوں سے جڑ رہے ہیں لیکن افسوس یہ کہ پاکستان میں کوئی بھی چینل بچوں کے لئے نہیں ہے۔بچے ڈراموں اورفلموں سے وہ سب سیکھ رہے ہیں جو ان کیلئے ایک مخصوص عمر سے پہلے سیکھنا ناقص ہے۔وہ وقت سے پہلے بڑے ہو رہے ہیں۔معصومیت اور شرافت جیسی خوبیاں ختم ہوتی جا رہیں ہیں۔ان سب برائیوں کو روکنے کے لئے والدین کو چاہیے اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیں انہیں وقت دیں۔انہیں اخلاقیات وآداب ,اچھے برے میں تمیز کرناسیکھائیں معاشرے کی اچھائی برائی سے آگاہ کرائیں ان کے لئے کیا مفید ہے کیا ناقص ہے انہیں بتائیں۔یہ کام ایک ماں احسن طریقوں سے سر انجام دے سکتی ہے کیوں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ramsha Buksh

Read More Articles by Ramsha Buksh: 2 Articles with 646 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jul, 2020 Views: 168

Comments

آپ کی رائے