ضمیر کی آواز

(Zahereen Hasan, Karachi)

ایک بہت ہی بڑے عہدے پر بیٹھ کر وہ غریبوں اور بے کسوں سے نفرت کرتا تھا,اسےغریبوں اور ناداروں سے نفرت تھی, وہ اکثر غریبوں کو دنیا پے بوجھ سمجھتا تھا, ایسا وہ کیوں کرتا تھاکیونکہ اس کی پرورش جہاں ہوئی تھی وہ سب اپرکلاس اور بے ضمیر لوگ تھے ۔ انھوں نے کھبی بھوک پیاس نہیں دیکھی تھی۔ اس نے پرورش ہی وہاں پائی۔جہاں صرف پیسے اور سٹیٹس کی باتیں ہوتی تھیں۔ وہ کسی کا بھی کام بغیر لالچ اور پیسوں کے نہیں کرتا تھا۔ ایک دن وہ رنگے ہاتھوں رشوت لیتے ہوئے پکڑاگیابہت چرچا ہوا کہ اب نہیں بچ سکتا۔ لیکن وہ کھلاڑیوں کا کھلاڑی تھا ۔ کچھ لے دے کے معاملہ طے کر لیا۔ وقت ایسے ہی گزرتا رہا۔ ایک دن اس کی زندگی بدل گئی۔ اس کی ماں بیمار ہوگئی۔ اور اسے خون کی اشد ضرورت تھی ۔ خون کا گروپ بہت لاحاصل تھا۔ خدا خدا کرکے ایک غریب آدمی کا خون ان سے میچ ہوگیا۔ اور یہ ان سے ڈیلینگ کرتا رہا کہ میں ایک لاکھ دونگا دو لاکھ ۔۔۔۔۔۔ لیکن غریب آدمی نے کہا کہ صاحب میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں کسی سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کے پیسے نہیں لے سکتا۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ میرا خون کسی کے کام آرہا ہے ۔ میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ تم پیسے اپنے پاس رکھو بس مجھے دعا دیا کرو۔ اس کرپٹ آدمی پر ان باتوں کا گہرا اثر ہوا اور وہ سوچنے لگا ۔ اللہ کی طرف آنے لگا اور ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اللہ کا محبوب ترین بندہ بن گیا۔۔۔۔۔

اس آدمی پر تو اللہ کا فضل ہوگیا۔ اللہ نے اسے ہدایت دی ۔ لیکن میرا اور آپ کا کیا ہوگا۔ آج ہم نے بھی اپنے ضمیر کو نرم گرم بستر پر سولا دیا ہے۔ آج ہم اپنے حکمرانوں اور افسروں کی رشوت اور کرپشن کے ان دیکھے گواہ ہیں۔ لیکن اپنااپنا احتساب کوئی نہیں کرتا ۔ اپنے ضمیر کی کوئی نہیں سنتا۔ بس دوسروں کے لیے جج ,گواہ اور وکیل ہم خود ہوتے ہیں۔ کسی پر فرد جرم عائد کرتے ہیں ۔ خود اپنے دل میں اس کا فیصلہ کرتے ہیں اور ان کو ایک سکینڈ میں برا ثابت کرتے ہیں۔ ہمارا ضمیر زنگ آلود ہوگیا ہے۔ جس نے ہمارے دلوں کو بھی زنگ لگا دیے ہیں۔ وہ ایدھی صاحب کا واقعہ تو آپ سب نے سنا ہوگا بلقیس آپا کہتی ہیں ایک دن ہم کسی دعوت پر جا رہے تھے صبح سویرے تو راستے میں ڈاکو نے روکا ۔ اور سب گاڑیوں کی تلاشی اور لوٹ مار کرنے لگے ۔ جب ہماری گاڑی تک پہنچے تو ایدھی صاحب سے بولے آپ ایدھی صاحب ہو ۔ وہ جو لاوارث لاشوں کو دفناتے ہیں ۔ ایدھی صاحب نے کہا جی وہ میں ہی ہو۔ ڈاکو کے سردار نے سارا مال واپس اپنے مالکوں کو دینے کا حکم دیا اور ایدھی صاحب کو پانچ لاکھ کا چندہ بھی دیا۔ یعنی ڈاکو ہو کے بھی ضمیر کا سودا نہیں کیا۔اللہ ایسے لوگوں کو بہت جلد ہدایت عطا فرماتے ہیں ۔ آج ہم ان ڈاکو سے بھی نیچے آگئے ہیں ۔ ضمیر چیختا چلاتا ہے یہ کام ٹھیک نہیں لیکن ہم نہیں سنتے۔ اور آخر کار ضمیر تھک ہار کے خاموش ہو جاتا ہے۔ اور ہم جو کرتے ہیں ہم کو ٹھیک لگنے لگتا ہے۔ چاہے کسی کو پلازمہ فروخت کرنا ہو ۔ یا دوسرا کوئی غلط کام یہ پھر کچھ نہیں بولتا.

پیارے دوستوں اس ضمیر کو بیدار کرنا ہوگا ۔ چلو آج سے وعدہ کرتے ہیں ۔ کہ آج سے اپنے ضمیر کی آواز سنیں گے۔ کوئی بھی غلط کام چاہیے جس سے کسی کو نقصان نہ بھی ہو ۔ چاہے کوئی بھی ہمیں نہ دیکھ رہا ہوں نہیں کرینگے۔ اپنی ضمیر کو ہمیشہ زندہ اور پاک رکھیں گے اور اپنی تنہایئوں کو پاک صاف رکھیں گے ۔ !

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 146 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahereen Hasan

Read More Articles by Zahereen Hasan: 9 Articles with 1498 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
nice
By: Sheeraz Khan, Karachi on Jul, 24 2020
Reply Reply
0 Like
Language: