پاکستان میں تعلیم برائے فروخت کیوں۔۔۔۔۔ ؟

(Tahir Mehmod Aasi, Shaikhupura)

کسی ملک کی تعمیر و تر قی میں تعلیمی ادارے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔چین ،جاپان،برطانیہ ،روس،جرمنی،اوردیگرترقی یافتہ ممالک کی جامعات اور بنیادی تعلیمی ادارے اس بات کے مظہر ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی معیار کے ساتھ اپنے اپنے ممالک کی خدمت کی ہے ۔اگر گریڈ نگ کی بات کی جائے تو یہی ممالک ساری دنیا پر چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سائنس ،ٹیکنالوجی اور میڈیکل کے میدان میں منفرد معیار کو قائم کر کے بہت نام کمایا ہے۔بلکہ اب بھی کمارہے ہیں۔ابتدائی بنیادی تعلیم میں بھی ممالک ثانوی حیثیت کے حامل ہیں ہم پاکستانی ہیں کیوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں ۔ ہمارے آقاء مولا حضرت محمد مصطفیـؐؐؐؐؐ انبیا کے سردار ہیں۔معلم بن کراس دنیا میں تشریف لائے ہیں۔بے شک ہر علم قرآن مجید فرقان حمید میں موجود ہے ۔ہر مخفی علم کا خزانہ قرآن پاک ہے۔ قلم کے زریعے علم سکھانے والے رب نے ہمیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ ہوا ہے مگر آج ہم کیوں کھڑے ہیں ـ؟کسی لیئے کھڑے ہیں ـ؟ ہم زندہ قوم ہیں اس لیئے کہ ہم اپنے اسلاف کی رویات ،خدمت اور کارناموں کو یکسر بھول چکے ہیں ساڑھے سات سو سال حکومت کرنے والوں کا شیرازہ آج بھی بکھرا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس لیئے کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔کیا زندہ قومیں اپنے ماضی کو بھول جاتی ہیں ؟کیا بھول جانا اچھا ہے اگر ہمارے آباء واجد بھول جاتے تھے تو ہمیں ایسا کرنا چائیے اگر نہیں تو ہمیں اپنا راستہ اور تخیل بدلنا ہو گا ۔ کیوں کہ اس یو ٹر ن میں ہماری تعلیمی نرسری کا فائدہ ہے اور یہ عمل مفاد عامہ کے لیئے ناگزیز ہے۔جہا ں بہتری کی بات ہو یوٹرن لینا کوئی گناہ ہے ۔ یوں تو سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی سہولیات کا فقدان ہے۔ مگر پرائیو ٹ تعلیمی ادارے اس میں بہت آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔پانچ مرلے اور دس مرلے کے سکولون کو جورات کو رہا ئش کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ۔نہ جانے کسی اتھارتی نے ان کو رجسٹر یشن سے نوازا ہے ۔نہ لیٹرین نہ گارڈن نہ پلے گراؤنڈ نہ لائبری نہ رجسٹر پورے ۔پتا نہیں یہ کس طرح یہ تعلیمی ادارے رجسٹریشن کروانے میں کامیاب ہوائے ہیں ۔ ہیڈ معلم کو پتہ تک نہیں کہ ایک مدرسے میں کتنے رجسٹر ہوتے ہیں ۔اور کس رجسٹر میں کیا لکھا جاتا ہے ۔میٹرک پاس ہیڈ معلم یا ٹیچر کو کیا پتا کہ تعلیم کیا ہے۔بچوں کی نفسیات کیا ہو تی ہے ۔اور کس طرح بچوں کو زیو ر تعلیم سے آرستہ کیا جائے ۔دو یا تین ہزار میں معلمہ کہلانے والے کو اس بات کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔ہم نے بالکل اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا شروع کر رکھا ہے ۔والدین کی مجبوی کو وہ اپنے بچوں کو دور سکولوں میں نہیں بھیج سکتے کیوں کہ آج کے اس دہشت گردی کے دور میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔والدین پر خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور تعلیم کے فروخت کا راس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔بچے بھی ہمارے ہیں اور تعلیم کو کاروبار سمجھ کر کرنے والے بھی ہم ہی ہیں ۔
بیتے ہوائے لمحوں کی تصویر ہے آنکھو ں میں
کھوئی ہوئی جنت کی دہلیز پہ بیٹھاہوں

کسی تعلیمی ادارے کو سکیورٹی کا کوئی علم نہیں ۔صرف یہی علم ہے کہ فیسوں کو کس طرح جمع کرنا ہے اور کون کون سے حیلے بہانے کر کے اپنے کاروبار کو فروغ دینا ہے ۔بالکل یہ لوگ تعلیم برائے فروخت کا لیبل لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔کیا تعلیم ایک کاروبار ہے ؟میرے خیال سے ایسے تعلیمی اداروں کے مالکان کا تعلق یا تو اساتذہ برادری سے ہے یا کسی نا کسی طرح اساتذہ اس میں حصہ دار ضرور ہیں ۔یا پھر دوسرے لفظوں میں محکمہ تعلیم کا کوئی نا کوئی اہل کا راس کی آبیاری میں مصروف عمل ہے۔کیا یہ زندہ قوموں کی علامت ہے؟سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک شخص نے کئی کئی سکول کھو ل رکھے ہیں ۔والدین اپنے بچوں کے اخرجات کے بوجھ سے بہت پریشان ہیں۔ آئے دن فیسوں میں اضافے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔مختلف قسم کے فنگشنز کے ذریعے طلباء وطالبات کے وقت اور پیسے کا ضیاع کیا جا رہا ہے۔کتابوں کا پیو ں کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ اس عمل کو صرف چھوٹی سطح پر ہی نہیں بلکہ بڑی سطح پر بھی دھرایا جاتا ہے۔قوم کو حضرت شاہ ولی ﷲ۔ابن خلدون ،علامہ اقبال اور قائداعظم کے تعلیمی نظریات سے بہت دور کر دیا گیا ۔بڑے بڑے کالجز جامعات چاہے ان کا تعلق میڈیکل سے ہویا ٹیکنالوجی یا کمپیوٹر سائنس سے سبھی لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔چشمت میڈیکل کالج کا واقعہ حال ہی میں نظر سے گزرا ہے۔سب مالکان نیچے سے اوپر تک والدین اور طلباء کو سبز باغ دکھا کر تعلیم کے نام پر تعلیم کے پاکیزہ شعبے کو رسوا کر رہے ہیں۔ سر ٹیفکیٹ اور ڈگریا ں فروخت ہو رہی ہیں ۔قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کے ساتھ یہ کس کا مزاق کیا جا رہا ہے۔برائے فروخت ڈگریا ں ہمارے بڑے بڑے نامی گرامی سیا ستدانوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز بیورو کر یٹس کے پاس موجود ہیں ۔جب کھبی ان کی ویری فیکشن کی بات چھڑتی ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں ۔راتوں کی نیندیں اــڑ جاتی ہیں ۔زرا سوچیے تو یہ سب زندہ قوموں کی علامت ہے ۔ہمیں دل کی اتھا گہرائیوں سے سوچنا ہو گا ۔کیا اس وقت سوچیں گے جب چڑیا ں چگ جائیں گی۔گھمبیر مسائل میں گھرا ہوا تعلیمی نظام کس طرح ریا ست مدینہ کے خواب کو پورا کرنے کے قابل ہو گا ۔ہمارے ملک میں تربیت یافتہ ذہین وفطین اور درد دل رکھنے والے افراد کی کوئی کمی نہیں ہے ۔جس قوم کی رہنمائی کے لیئے حدیث رسول ﷺ اور قرآن قریم موجود ہوں اسے کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے ۔گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگ رہی ہے ۔اور ہم تباہی کی طرف گامزن ہو رہے ہیں ۔اور یہ سلسلہ نہ تھمنے والے اور گہرے تکلیف دہ اہدف کی طرف بڑھ رہا ہے ۔دینی تعلیم کے مدرسے بھی اپنے معیار کو کھو بیٹھے ہیں ۔شاید کہ ہم بھٹک چکے ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے ۔کہ ان سب کالی بھیڑوں کو جو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔نکال باہر کرنا چائیے ۔ہمیں ہر وہ کام کر گزرناچائیے جس سے ہماری نسل نو کا مستقبل محفوز ہاتھوں میں چلا جائے ۔ہمارے اہل اقتدار بہت سمجھد ار ہیں معیار اور مقدار کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں اور ہمیں بہتری کی امید ہے ۔کیونکہ امید پر دنیا قائم ہے ۔بطور مسلمان اور پاکستانی مجھے یقین ہے کہ حکمر ا نوں کو اس نظام کو بہتر کرنے کا ادراک ضرور ہے ۔بڑے ذہین اور فطین لوگوں کا قافلہ ملک کی باگ ڈور سنبھا لے ہو ائے ہے ۔غریب والدین بچوں کے تعلیمی اخراجات کے بوجھ کو اٹھا ضرور رہے ہیں لیکن بلبلا تے ہوئے ۔جو والدین لٹ چکے ہیں ۔ان کی تکالیف کا ازالہ تو شاید نہ ہو سکے مگر آئندہ کے لیئے ایسی حکومت عملی واضح کی جائے کہ کسی تعلیم کے فروخت کار کو غریبوں کی قسمت کے ساتھ کھیلنے کی جراء ت نہ ہو گی ڈگریا ں سر ٹیفکیٹ تعلیمی اخراجات کی رسیدیں بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان کو حاصل کرنے والے ملک و قوم کی اس طرح خدمت کریں ۔کہ یہ قوم واقعی ایک زندہ قوم کہلانے کے قابل ہو جائیں ۔تعلیمی عمل سے منسلک ہر فرد کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ۔بچوں کو قوم کا سرمایہ سمجھ کر اس کی حفاظت کرنی ہو گی ۔اگر ہم ایسانہ کر سکے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم ذلت کی چکی میں پستے ہوائے نظر آئیں گے ۔ہم ضرور خود کو بدلیں گے ۔یہ وقت کا تقاضا ہے ۔یہ مستقبل بہتری کا سوال ۔
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Mehmod Aasi

Read More Articles by Tahir Mehmod Aasi: 3 Articles with 954 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2020 Views: 233

Comments

آپ کی رائے