لباس نہیں عمل

(Sami Ullah Malik, )
میرے قارئین میں سے کئی دوست تسلسل سے یہ سوال پوچھتے تھے اورمیں کسی نہ کسی بہانے سے انہیں ٹال دیتاتھالیکن جب ٹی وی کے ایک پروگرام میں بھی یہی سوال کیاگیاکہ”آپ اسلام کی اتنی وکالت کرتے ہیں،مسلمانوں عورتوں کے حجاب پر اعتراض ہوتاہے توآپ کاخون کھول اٹھتاہے،پھرآپ ٹائی کیوں پہنتے ہیں،یہ توصلیب کی علامت ہے؟“اورپھرمیرے ایک کالم کا حوالہ دیاگیاجس میں فرانس میں سکارف پرپابندی پرمیرے احتجاج کاذکرکیااوراس کے ساتھ یہ بھی کہاگیاکہ یہودی جوامریکا ویورپ میں رہتے ہوئے اپنے لباس پرٹائی نہیں لگاتے توآپ اس سے گریزکیوں نہیں کرتے۔ مجھے ایک قاری کایہ اعتراض بھی موصول ہواکہ ٹائی کااستعمال اگرچہ مسلمانوں میں بھی عام ہوگیاہے مگراس کے باوجود انگریزی لباس کا حصہ ہی ہےاگرانگریزی لباس تصورنہ کیاجائےلیکن فساق وفجارکالباس توبہرحال ہےلہٰذاتشبّہ بالفساق کی وجہ سے ممنوع قرار دیاجائے گا۔ دوسری بات یہ کہ اہلِ اصلاح اس لباس کوپسندبھی نہیں کرتےکیونکہ یہ علماءوصلحاءکے لباس کے خلاف ہے، تیسری بات یہ کہ اس کے علاوہ ٹائی میں ایک اورخرابی یہ بھی ہے کہ عیسائی اس سے اپنے عقیدہ”صلیب عیسیٰ علیہ السلام “یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جوکہ نص قرآنی کے خلاف ہے لہٰذا تشّبہ بالکفارکے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی مذہبی یادگاراورمذہبی شعارہونے کی وجہ سے بھی پہنناجائزنہیں۔

ٹائی کے بارے میں علمااوراہل علم کی دورائیں ہیں۔ایک یہ کہ عیسائیوں کاکوئی مذہبی نشان ہے اوردوسری یہ کہ عام لباس کی طرح ہے اس میں مذہب کاکوئی دخل نہیں ہے۔اب پہلی رائے کے مطابق اگریہ ثابت ہوجائے کہ عیسائیوں کے نزدیک اس کوکوئی مذہبی حیثیت ہے تونمازاورنمازکے علاوہ دونوں حالتوں میں اس کاپہنناجائزنہیں ہے اوراگراس کے بارے میں یہ یقین ہوجائے کہ مذہبی طورپراس کی کوئی اہمیت نہیں توپھرعیسائیوں کاخصوصی شعارہونے کے لحاظ سے اس کوناجائزنہیں کہا جائے گا۔

فتاوی محمودیہ میں واضح طورپریہ تحریرہے کہ” ٹائی ایک وقت میں نصاری کا شعار تھا اس وقت اس کا حکم بھی سخت تھا جبکہ اب غیرنصاری بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں اب اس کے حکم میں تخفیف ہے اس کوشرک یاحرام نہیں کہاجاسکتا، کراہت سے خالی اب بھی نہیں، کہیں کراہیت شدیدہوگی،کہیں ہلکی،جہاں اس کااستعمال عام ہوجائے،وہاں اس کے منع پر زورنہیں دیاجائے گا۔(ج،19،ص،289،ط،فاروقیہ)
اوّل تویہ بات طے ہے کہ ٹائی پہنناکوئی قابل فخربات نہیں اورنہ ہی اتناسہل لباس ہے کہ اسے پہننے کے بعدآدمی یہ کہے کہ میں نے بڑاآرام دہ کپڑا پہنا ہے ۔ایک لباس کاحصہ ہے اوراسی کے ساتھ پہناجاتاہے۔آیئے میں آپ کوچندلمحوں کیلئے ٹائی کے آغازکے ایک سفرپرصدیوں پیچھے لئے چلتاہوں۔
ملک چین میں221سال قبل مسیح جوبادشاہ حکمراں تھے،ان کی فوج کانام ٹیراکوٹاتھا۔یہ وہ دورتھاکہ جن میں بادشاہوں،ان کے درباریوں،فوجیوں اور عام سروس کے لوگ جنہیں وہ مینڈرنزکہتے ٹائی پہناکرتے تھے۔1970ءکی کھدائیوں میں چین میں سات ہزارٹیراکوٹافوجیوں کی قبروں کی کھدائی ہوئی توسب کے لباس کے ساتھ موزونیت کیلئے ٹائی موجودتھی لیکن پھرچین پرہن خاقان خاندان برسرِاقتدارآگیااورانہوں نے سابقہ حکومت کی باقیات کے طورپرٹائی کاخاتمہ کردیااورپھریہ ٹائی مازوئے تنگ کے زمانے تک چین واپس نہ آسکی لیکن حیرت ہے جب اس کاآغازہوا،اس وقت نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جنم لیا تھانہ صلیب کی داستاں بنی تھی اورنہ ہی ٹائی صلیب کی علامت ٹھہرائی گئی تھی۔

سلطنت ِروم میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے قبل101سے106قبل مسیح میں بادشاہ نے روم کی فوج میں تخصیص کیلئے ان کو ایک خاص قسم کی ٹائی پہننے کاحکم دیاجس پرمختلف اشیاءپینٹ کی جاتی تھیں جبکہ غیررومی فوجیوں کوسیاہ ٹائی پہننے کاحکم دیاگیاتھا۔یہ وہ زمانہ تھاکہ اس وقت نہ توحضرت عیسیٰ کے حواری سینٹ پیٹرزروم میں داخل ہوئے تھے اورنہ ہی روم کے بادشاہ نے عیسائیت قبول کی تھی بلکہ ابھی تک توحضرت عیسی پیداہی نہیں ہوئے تھے۔ پھراس کے بعد اسی ٹائی نے کیاکیا تبدیلیاں دیکھیں اورحالت یہ آگئی کہ سولہ سوسال بعدکنگ چارلس پنجم جواسپین کاحکمران تھا،نے اصلاح پسندوں کے خلاف جنگ کے دوران ٹائی باندھنے کولازمی قراردے دیا۔یہ سترھویں صدی میں لڑی جانے والی کئی سالہ طویل جنگ تھی۔اس جنگ میں قتل کرنے اورمارنے کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہی ٹائی تھی حالانکہ پہننے اورنہ پہننے والے دونوں عیسائی تھے۔

لباسوں فیشنوں اورتہذیبوں کایہ تصادم پورے یورپ میں رہااوریونہی چھوٹے چھوٹے فیشنوں کے نزاع پرسالوں سال جنگ چلتی رہتی،میں اس تفصیل میں نہیں جاناچاہتاکہ فیشن کی اس جنگ اورملکوں اور تہذیبوں کے تصادم میں کیاکچھ ہوتارہا، چونکہ یورپ کے سب ممالک اپنے آپ کوایک دوسرے سے برتر سمجھتے تھے اس لئے ایک دوسرے کے فیشن قبول کرنابھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔اسی لئے فرانس کے بادشاہ کنگ لوئی پندرہ نے حکم دیاکہ ٹائی صرف جنازوں میں پہنی جائے کیونکہ یہ اسپین کے لوگ پہنتے ہیں حالانکہ دونوں ممالک ایک ہی مذہب عیسائیت کوماننے والے تھے۔جس وقت اسپین کے زیرِ نگیں کالونیوں کارواج عام ہوگیاتھاٹھیک اسی وقت ایک حیران کن منظرنظرآتاہے۔آسٹریااوردیگرکٹرکیتھولک عیسائی ممالک کے حکمرانوں نے ٹائی پہننے پرپابندی لگادی اورفیشن کے طورپرایک ریشمی رومال گلے میں ڈالنے کارواج عام کردیا لیکن ادھراسپین نے اپنے ملک میں اس طرح کے فیشن یعنی ریشمی رومال کوگلے میں پہننے پرپابندی لگادی۔یوں ملک جنگوں،بحرانوں کشمکشوں کی بھینٹ چڑھنے کے بعد آخرکار قریب ہوئے اورایک دوسرے کے فیشنوں کوقبول کرنے کارواج جاری ہوا،اورگلے میں پہننے کاایک ہی کپڑازندہ رہ گیاجسے ہم آج کی زبان میں ٹائی کہتے ہیں وگرنہ پرانے فیشن کی تصاویرمیں آپ کوکئی طرح کے مفلر نمااورریشمی نماکپڑے ملیں گے جوقمیض اورکوٹ کے درمیان لٹکائے جاتےتھے۔

لباس کی جنگ دنیا کے ہرمعاشرے کی جنگ رہی ہے۔شہری،دیہاتی کی پھٹی جوتیوں پرہنستے ہیں اوردیہاتی شہریوں کے بے آرام لباس کی تضحیک کرنے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔عرب والے عجم پراوریورپ والے ایشیاپرہنستے رہے ہیں لیکن ایک سوال میں آپ سے بھی پوچھناچاہتاہوں کہ اگرآج پورے یورپ میں اللہ کے کرم سے کوئی ایسی لہرآئے کہ سب لوگ مسلمان ہو جائیں توکیایہ سب لوگ شلوارقمیض،دھوتی کرتاپہننا یاعربوں کاجبہّ شروع کردیں گے اورتاریخ میں مسلمانوں کی فتوحات کارخ برصغیرکی طرف نہ ہوتاتوآج شلوارقمیض ہندووں،سکھوں اوربدھ مت والوں کا لباس ہوتااوراگر یہی مسلمان یورپ اورامریکافتح کرنے چل پڑتے،آج پتلون قمیض مسلمانوں کا لباس ہوتا۔

لباس کاشوشااس طریقے سے مسلمانوں میں چھوڑاگیاتاکہ یہ لوگ اصل معاملات سے دوررہیں اورفروعی اختلافات میں الجھے رہیں۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جس ٹائی کوہم صلیب کی علامت سمجھتے ہیں وہ پاپائے روم یعنی پوپ کے لباس میں شامل ہی نہیں اورجس حجاب کوہم مسلمانوں کی علامت اورفخر سمجھتے ہیں وہ چرچ کی ساری راہبائیں پہنتی ہیں اور یہاں معاشرہ کا ہر فردان کودیکھ کرعقیدت سے سرجھکاکراپنی محبت کااظہارکرتاہے لیکن کسی مسلمان خاتون نے اپنےآپ کواسی طرح ڈھانپا ہوتو وہ اسی ترقی یافتہ قوم اورمہذب معاشرہ کودہشتگردنظرآتی ہے گویامسئلہ لباس کانہیں بلکہ کچھ اورہے۔قوموں اورعلاقوں کے لباس پرجنگیں اس لئے کروائی جاتی ہیں کہ نفرت کے گھپ اندھیرے میں لوگ اصل جنگ کا میدان بھول جائیں۔

سرکاردوعالمﷺنے خوداپنی زندگی میں رومی جبہ پہناحالانکہ روم توایک عیسائی ملک تھا،کسروانی قباپہنی،آخری عمرمیں ایران کی ایک مخصوص قسم کی شلوارتھی جوعرب میں نئی نئی آئی تھی،اسے خریدا،پسندفرمائی اوراستعمال میں بھی رہی اورآج بھی ان کے ترکے کی یہ اشیاٹوپ کاپی میوزیم استنبول ترکی میں محفوظ ہیں۔حضرت عمرنے برنس پہنی جوعیسائی درویش پہناکرتے تھے جبکہ شیروانی،ٹوپی اورایسے دوسرے لباس جن کے بارے میں ہماراگمان یہ ہے کہ صرف یہی اسلامی لباس ہیں،اس کو کبھی بھی ہمارے رسول اکرمﷺ یاکسی بھی صحابی نے استعمال نہیں کیالیکن میں اس کوغیراسلامی لباس بالکل نہیں گردانتا۔یہ دین ہراس لباس کوپسندکرتاہے جوسترپوشی کاحق اداکرے،موسم کے مطابق ہو،بخل یااسراف کا اظہارنہ ہو،عورتیں اپنی زینت چھپائیں اورمردسترکو۔ہمارامسئلہ یہ ہے کہ ہم اس ساری جنگ میں یہ بھول جاتے ہیں کہ فائر کہاں ہورہاہے اورریت کی بوریاں کدھررکھنی ہیں اورمورچے کہاں بنانے ہیں۔

قائد اعظمؒ نے ہمیشہ انگریزی لباس پہنالیکن ہندواورانگریزاسے ہمیشہ اپنادشمن سمجھتے رہے اورآج مہاتیرمحمد بھی بدیشی لباس پہنتاہے جس نیایک ایسی جدید مثالی حکومت قائم کرکے دکھا دی کہ اب اس کی قوم نے دوبارہ اس پیرانہ سالی میں اسے اپناحکمران منتخب کیاہیاوراس وقت ملائشیادنیامیں سب سے زیادہ ترقی یافتہ مسلمان ملک سمجھاجاتاہے لیکن مہاتیر محمدکوسارامغرب اورامریکااب بھی اپنادشمن سمجھتاہے اورکتنے ایسے مسلماں حکمراں ہیں جوجبہ ودستار اور عبابھی پہنتے ہیں لیکن مغرب انہیں اپنادوست کہتاہے کیونکہ مغرب مسلمان کولباس سے نہیں اس کی سوچ اورعمل سے پہنچانتاہے۔ہم وہ میدانِ جنگ اختیارکر لیتے ہیں جہاں ہمیں شکست ہوسکتی ہے اوراس میدان سے ہم دوربھاگتے ہیں جس میں کودنے سے مغرب لرزتا ہے۔

اس لئے میری موّدبانہ گزارش ہے کہ ہمیں اپنی بحث میں اپنی ان گم گشتہ تعلیمات کواوّلیت دینے کی ضرورت ہے جس کے مفقودہونے سے امت مسلمہ کوذلت ورسوائی کامنہ دیکھناپڑرہاہے۔ہمیں تواپنی ساری کاوشیں،توانائیاں تواس مسئلے پردینے کی ضرورت ہے کہ آخرکیوں ہماری خلافت عثمانیہ کوختم کردیاگیااورسقوط خلافت پر برطانیہ کے وزیراعظم اوراستعمارکے دوسرے ارکان نے کیوں گھی کے چراغ جلاتے ہوئے یہ عہدکیاکہ ہمیں اب پوری توجہ اس بات پر مرکوز رکھنی ہے کہ مسلمان آئندہ کہیں بھی خلافت کے نظام کوبحال کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ترکی سے پچاس سال کاجومعاہدہ ہوا،اس میں دیگرشرائط کے ساتھ آئندہ خلافت کی کوششوں کوممنوع قراردینے کی شرط بھی جلی حروف میں لکھی گئی۔اس لے آج یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپنی مجموعی طاقت قرآن کی حاکمیت کولانے میں خرچ کریں نہ کہ ایسے فروعی سوالات پراپناوقت ضائع کریں جوہمارے عدو کی خواہش ہے۔میں ہمیشہ دلائل سے قرآن کی حاکمیت کی بات اس لئے کرتاہوں کہ امت مسلمہ کاقرآن پرمکمل ایمان و اتفاق ہے اوریہ قرآن ہی بین المسلمین کوایک پلیٹ فارم پرلا کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ہم نے جب سے قرآن کوپس پشت ڈالاہے،ہم دنیامیں آج تک ہرجگہ ذلیل ورسواہورہے ہیں۔ یادرکھیں کہ قرآن کی حاکمیت سے پہلے یثرب تاریک تھا اور قرآن نے ہی یثرب کومدینہ المنوّرہ بنایاجہاں خوشحالی کایہ عالم تھاکہ کوئی زکوٰة لینے والا نہیں تھا۔

لوگو!ہم نے تم کوایک مرداورایک عورت سے پیداکیااورتمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔تاکہ ایک دوسرے کوشناخت کرواور اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والاوہ ہے جوزیادہ پرہیزگارہے۔ بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا(اور)سب سے خبردارہے۔
رہے نام میرے رب کاجس نے عزت کامعیارتقویٰ میں رکھا ہے!
یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
مگروہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے
وہ بات کہہ، جسے دنیا بھی معتبر سمجھے
تجھے خبر ہے ، زمانہ بدلتا جاتا ہے
کیٹاگری میں : آج کاکالم، آرٹیکلز، اہم کالمز، فیچر کالمز
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 187 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 384 Articles with 100076 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
behtreen
By: Sheeraz Khan, Karachi on Jul, 23 2020
Reply Reply
0 Like
Language: