صبر کی تاکید

(Sheeraz Khan, Karachi)

آج میری انتہائی محترم بہن اور ہم جماعت ظاہرین حسن کا آرٹیکل “توکل“ نطر سے گذرا، اس کا آخری پیراگراف پڑھا تو دل واقعی عش عش کر اٹھا، اپنی ہم جماعت کی حیثیت سے میں ظاہرین سے واقف ہوں اور مجھے کبھی بھی نہیں لگا کہ میری انتہائی معصوم دکھنے والی بہن اتنی بڑی بات کہ جائے گی، میرے دل میں آج ظاہرین کی عزت میں اضافہ تو ہوا ہی ہے لیکن ایک احساسِ تفاخر بھی جاگا ہے کہ اس نسل میں تقویٰ اور صبر کی اہمیت موجود ہے۔
سورہ عصر میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو تمام انسانیت کے لیے بیان کیا ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے تو آپ کبھی بھی خسارے میں نہیں رہیں گے، ہم اپنی زندگی میں بارہا اس بات پر لوگوں کو شکوہ کناں دیکھتے ہیں کہ ہم اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی اس صلے سے محروم ہیں جس سے کوئی اور شخص بنا محنت کئے عطاء یافتہ ہے اپنی ذات، دوسرے لوگوں حتیٰ کہ لوگ خدا سے بھی شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں جس نے ان کو صبر کی تاکید کا فرمایا ہے، کہ تھوڑا صبر رکھو تم کبھی خسارے میں نہیں رہو گے۔
اس بات کو اگر آپ سوچنے بیٹھ جائیں اور اپنی عملی زندگی کے ساتھ نتھی کرتے جائیں تو یقین جانئے گا کہ آپ کہ اندر خود بخود ہی صبر و توکل کا احساس جاگزیں ہوتا جائے گا، اور آج کل معاشرے کہ لوگ جن نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں وہ اگر اللہ تعالیٰ کی اس بات کو سمجھ لیں گے تو یقین جانیے کہ ان کے ان مسائل میں نمایاں حد تک کمی آئے گی۔
توکل اللہ تعالیٰ کے انسان کو دئے گئے تحائف میں سے ایک ہے، توکل کا حامل شخص کبھی بھی پریشان نہیں ہو تا ہے، یہ شخص اپنے مسائل کو حل کرنے کا راستہ با آسانی نکال لیتا ہے اور ان کے حل کے لئے بھر پور کوشش کرتا ہے کیونکہ اس کے اندر یہ پریشان کن سوچ نہیں ہوتی جو اس کی آدھی توانائی کو پہلے ہی ضائع کر دیتی ہے کہ ایسا ہو گیا یا نہیں ہوا تو کیا ہو گا، پھر بھی اگر وہ شخص اپنے ارادوں میں ناکام ہو جاتا ہے تو بھی وہ جانتا ہے کہ وہ خسارے میں نہیں ہے کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اس کے مالک کا یہ وعدہ ہے اس کہ ساتھ۔۔
آئیے آج سے عہد کرتے ہیں کہ اپنی زندگیوں میں توکل کو داخل کریں، توکل ہی ہمارے شخصی اور معاشرتی مسائل کا حل ہے کم از کم یہ سوچیں ضرور کہ توکل ہے کیا اور اس کے اثرات ایک فردِ واحد کی زندگی اور اجتماعی زندگی میں کیا ہیں۔
شیراز خان ( جامعہ اردو کراچی)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheeraz Khan

Read More Articles by Sheeraz Khan: 13 Articles with 3475 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jul, 2020 Views: 123

Comments

آپ کی رائے