بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل

(Abdul Quddus Muhammadi, )

ذوالحجہ کا چاند جب سے طلوع ہوا دل کی بے کلی اور بے تابی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ……گزشتہ برسوں کی یادیں بارات کی صورت قطار درقطار چلی آتی ہیں ……حرمین شر یفین کی مبارک فضائیں ……لبیک اﷲم لبیک کی صدائیں ……اجلے سفید لباس ……نورانی چہرے ……ایک ایک…… حوالہ ایک ایک منظر ایسا ہے کہ دل کی دھڑکن بے ترتیب کیے دیتاہے ……حرمین شریفین کے اس مبارک حوالے میں ایک حوالہ حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی ؒ بھی تھے……ایک مستقل حوالہ ،ایک مکمل باب،ایک مکمل داستان ……حضرت ہزاروی ؒ کی رحلت کے بعد سے ایسی کیفیت ہے کہ باوجود کوشش کے کچھ لکھا نہیں جارہا ……جیسے انسان اچانک سکتے میں آجاتاہے حضرت کاسائباں سرسے اٹھنے پر قلم تاحال سکتے میں ہے ……حضرت ہزاروی ؒ کو اﷲ رب العزت نے بہت صفات سے نوازا تھا…… ان کی خدمات ہمہ جہت تھیں لیکن آج ماہ ذوالحجہ کے حوالے سے حضرت ؒکا کچھ تذکرہ کرنے کا جی چاہ رہاہے ……میرے جیسے بہت سے بھٹکے ہوئے بھٹکے ہوئے آہو حضرت اپنی دعاؤں ،اپنی فکر ،اپنی ترغیب ،اپنی نوازشات ،اپنے تعاون سے سوئے حرم لے گئے ……اﷲ اﷲ ……کیا انسان تھے ؟……حرمین شریفین حاضری کا شوق تو سدا ہی دل میں موجزن رہا لیکن عملی زندگی کے آغاز کے بعد بھی تقریبا پانچ چھے برس تک جب حرمین شریفین حاضری کی کوئی سبیل نہ بن پائی تو اﷲ کریم نے حضرت ہزاروی ؒ کو اس راستے کا رہبر بنایا ……سب سے پہلے ڈاکٹر احمد علی سراج ہماری مسجد تشریف لائے ……مسجد میں جماعت آئی ہوئی تھی جس میں بنوں سے بھائی گلفرازبھی شامل تھے ان سے مل کر حرمین شریفین حاضری کا تذکرہ چلا تو مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج یہ سن کر حیران رہ گئے کہ میری ابھی تک حرمین شریفین حاضری نہیں ہوسکی …… بیان کے دوران بھی دعائین دیں ……نجی مجلس میں بھی دعا کی ……کھانے کے دسترخوان پر فرمایا’’ اﷲ رب العزت آپ کو اسی سال حج کے لیے بلائیں گے…… اﷲ رب العزت میری دعائیں رد نہیں فرماتے‘‘ ……یقین تو اگرچہ نہیں آیا لیکن امید اور آس کا ایک ننھا سا دیا جل اٹھا …… چند دنوں بعد حضرت ہزاروی ؒ کی خدمت میں عرض کیا’’ حضرت !حرمین شریفین کی حاضری سے محروم ہوں دعافرمائیے ……اپنے مخصوص انداز سے دونوں ہاتھ اٹھائے ……ہاتھ ہی نہیں نگاہ بھی آسمان کی طرف اٹھائی…… ڈھیرساری دعائیں دیں اور پھر جیب سے ایک سو روپے کا نوٹ نکا لا ……عنایت فرمایا ……حکم دیا کہ یہ پیسے اپنے پاس رکھ کر لو مزید جتنے پیسے کرسکوان میں شامل کرتے جاؤاﷲ رب ا لعزت کرم فرمائیں گے ……اور تاکید فرمائی درود شریف کثرت سے پڑھا کرو…… درود شریف پڑھنے کا طریقہ بتلایا کہ عشاء کی نماز کے بعد باوضو ہوکر، خوشبو لگا کر قبلہ رخ بیٹھ کر یکسوئی سے 500 بار درود شریف پڑھنا اور پھر دعا کرنا ……پیسے لے کر رکھ لیے ،جومزید کر سکا ان میں شامل کرنے لگا……درود شریف بھی چلتے پھرتے پڑھناشروع کیا لیکن وہ کیفیت ،وہ اہتمام ،وہ ترتیب نہ بن پائی جو ہونی چاہیے تھی …… دو دن بعد فون آیا ……پوچھا درود شریف پڑھتے ہو؟ رات پڑھا تھا ؟ عرض کیا نہیں پڑھ سکا ……ترغیب دی کہ پڑھا کرو ……دو دن بعد پھر فون آیا ……آج بھی وہ منظر یاد ہے مظفرآباد سے واپسی پر مری سے گزررہا تھا ……درود شریف کا ورد زبان پر جاری تھا…… پوچھا درود شریف پڑھا رات ؟……عرض کیا جب موقع ملتا ہے پڑھتاہوں لیکن رات کو نہیں پڑھ سکا…… ایک دفعہ پھر ترغیب دی ……اس شب سے عشاء کے بعد بتائے گئے طریقے کے مطابق پڑھنا شروع کیا ……عجیب کیفیت ……حیران ہوگیا…… یوں لگتا تھا…… اسے آپ جو بھی نام دیں لیکن یوں لگتا تھا جیسے ہاتھ بڑھاوں گا اور گنبد خضراء تک جاپہنچے گا ……اور پھر اﷲ رب العزت نے درود شریف پڑھنے کی توفیق عنایت فرمادی ،بس جتنا اہتما م اور ذوق و شوق سے درود شریف پڑھتا رہا دل میں اطمینا ن پیدا ہوتا چلا گیا …… اور حضرتؒ کامعمول بن گیا…… ہر دوسرے تیسرے دن فون کرتے…… حال احوال پوچھتے ،درود شریف پڑھنے کے بارے میں پوچھتے اوراکثرتو سلام دعا کے بعد براہ راست پوچھتے ’’ہاں جی !کیا بنا حرمین شریفین کے سفر کا ؟‘‘میں حیران ’’یا اﷲ! میں کہاں اور حرمین شریفین کا سفر کہاں؟……نہ وسائل ……نہ گنجائش…… نہ امکان ……نہ کوئی صورت ……حیرت ہوتی اور بہت ہوتی لیکن حضرت کے لہجے کا یقین اور ان کے لفظوں کاوثوق حوصلہ دیتا ……جس دن ان کا فون آتا اس دن امید کی کتنی ہی کلیاں کھل اٹھیں ……چند دنوں بعد ہمارے علاقے میں ایک پروگرام تھا…… تشریف لائے ……حاضر ہوا…… مجھے ساتھ لے لیا،کتنی محبت ،شفقت اور اکرام کا معاملہ کرتے تھے انسان پسینہ پسینہ ہوجاتا ……کھنہ پل کے پاس ایک حجرہ تھا ……وہاں کچھ پختون دوستوں نے کھانے کا انتظام کررکھا تھا…… اپنے پہلو میں بٹھایا…… پوچھا کتنے پیسے ہوگئے؟ ……بالکل ایسے پوچھا جیسے ایک باپ اپنے بیٹے سے پوچھا کرتا ہے……میرے پاس کتنے پیسے ہونے تھے ؟……مگر جتنے ہوئے تھے عرض کردیا…… ارشاد فرمایا 25000 روپے میں بھی دوں گا لیکن کسی کو بتانا نہیں ……یہ اس وقت کی بات ہے جب عمرہ کا مکمل خرچ تقریبا 60 سے 70 ہزار روپے میں ہواکرتاتھا ……حیران ہوگیا ان کی اس نوازش پر ……نہ میرا ان سے اس وقت کچھ خاص تعلق تھا ……بس پتہ نہیں کیوں انہوں نے میرے جیسے مادیت پرست کا 25000 روپے سے علاج کرنا ضروری سمجھا…… ورنہ انہوں نے اپنی ترغیب سے…… اپنے انداز سے…… اپنے فونوں سے…… اور سب سے بڑھ کر درود شریف پڑھنے کی ترغیب دے کر حرمین شریفین حاضری کا جودیا میرے دل میں جلادیا تھا اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے میرا حرمین شریفین جانا یقینی ہوگیا تھا…… لیکن ہوسکتا ہے میرا جیسا ظاہر بین حوصلہ نہ کرتا ……میرے جیسا کم عمر نوجوان یہ بات سمجھ نہ پاتا تو 25000 روپے عنایت فرمائے ……مجھے تو جیسے پر لگ گئے…… گھر آیا…… تذکرہ کیا ……درود شریف ،دعاؤں اوراعمال میں رفیقہ حیات پہلے سے ساتھ تھیں…… اب تیاری میں بھی ساتھ ہوگئیں…… رمضان المبارک کے عمرہ کا شوق تھا ……حضرت نے ہی مجاملہ ویزہ لینے کی ترتیب سمجھائی،کبھی سنانہ تھا ،خبر نہ تھی ……اﷲ رب العزت نے پروفیسر محی الدین صاحب کو ذریعہ بنایا ……ان سے سفیر صاحب کو خط لکھوایا لیکن منظوری نہ تھی ……ہر دن بے تابی بڑھتی رہی ……رمضان المبارک کی راتوـں میں عجیب رقت طاری رہی ……خاص طور پر آخری عشرہ تو روتے دھوتے ہوئے گزارا لیکن ویزہ نہیں لگا ……عمرہ کے لیے نہ جاسکا ……منظور ی نہ ہوئی ……بلاوا نہ آیا ……بہت دکھی ہوگیا ……بہت پریشان ہوگیا ……ایسے لگا جیسے مسلسل دستک دیتا رہا لیکن دروازہ نہ کھلا…… رمضان گزرا ،شوال گزرا، ذی قعدہ کی ابتداء میں پروفیسر صاحب کا فون آیا ’’مولوی صاحبـــ! حج کے لیے جانا ہے ؟‘‘اس سوال کے جواب میں بھی بھلا کوئی نہ کہہ سکتا ہے ؟……ہاں کردی…… پروفیسر صاحب نے کہا صرف اپنے کاغذات لانا ،گھر والوں کے نہ لانا ،کوشش کرتے ہیں ،اﷲ کوئی صورت مقدر فرمائیں گے۔ان شاء اﷲ…… گھر آیا ،جب بتایا کہ صرف میرے کاغذات مانگے گئے تو اہلیہ کی عجیب کیفیت ہوگئی ،اتنی عجیب کہ مجھے بھی ترس آگیا ……ان کے بھی کاغذات ساتھ لیے ……پروفیسر صاحب کو دئیے انہوں نے ذرا ڈانٹ کرکہا کہ آپ سے کہا نہیں تھا کہ صرف اپنا پاسپورٹ اور اپنے کاغذات لانے ہیں ……انہوں نے میرا پاسپورٹ الگ کیا،میرے کاغذات اپنے پاس رکھے اور اہلیہ کے واپس کردئیے…… جب اٹھ کرآنے لگا توپتہ نہیں کیا خیال آیا اہلیہ کا پاسپورٹ اور کاغذات بھی واپس لے لیے اور پھر چند دنوں بعد اﷲ رب العزت کے فضل وکرم سے میرے اور اہلیہ کے پاسپورٹ پر حج کا ویزہ لگ چکا تھا …… قرض ادھا ر کرکے ،کچھ کمیٹیوں سے نکلنی والی رقم ملا کر زاد راہ ساتھ لیا …… عجیب والہانہ پن تھا ……عجیب وارفتگی تھی ……آج بھی سوچتا ہوں تو عقل تسلیم نہیں کرتی لیکن بس اﷲ رب العزت کا کرم ہوا اور الحمداﷲ ہم دونوں مکہ مکرمہ پہنچ گئے…… حالت یہ کہ نہ رہائش کا بندوبست ……نہ ہوٹل لیا ……نہ کچھ اور انتظام کیا ……ہمارے لیے تو یہی بات بہت تھی کہ حج کے لیے جارہے ……اور کچھ نہ یاد تھا نہ کسی بات کا خیال ……ایک ایک لمحہ یاد آتا ہے تو عجیب کیفیت نصیب ہوتی ہے ……حضرت ؒنے تاکید فرمائی تھی کہ وہاں جاکر سب سے پہلے سم لینی ہے اور جو نمبر ہو اس سے مجھے فون کرنا ہے…… رات کے وقت جدہ پہنچے نمبر لیا ……حضرت کو کال کی…… خوشی سے کھل اٹھے ،دعائیں دیں ،مبارک دی ،حوصلہ دیا،ہوٹل اور رہائش کا پوچھا…… عرض کیا ابھی تو کوئی انتظام نہیں مکہ مکرمہ جاکر دیکھیں گے…… فرمایا اﷲ انتظام کردیں گے ……مکہ مکرمہ پہنچے سچ مچ ایک بھٹکے ہوئے آہو جیسی کیفیت ……اسلام آباد سے جانے والے کچھ احباب سے عرض کیا اپنے ہوٹل میں ہمارا سامان رکھ دیں ہم ہوٹل کا بندوبست کرکے لے لیں گے انہوں نے انکار کردیا ……نماز کے لیے مسجد گئے فجر کا وقت ہوچکا تھا نماز فجر ادا کی اﷲ سے مانگنا شروع کیا ……اتنے میں موبائل کی گھنٹی بجی…… دوسری طرف بھائی گل نوازتھے انہوں نے حضرت کے حوالے سے بات کی ،پوچھا کہاں ہیں ؟بتایا کہنے لگے ابھی آپ کو لینے آرہاہوں ……حیران…… یا اﷲ! یہ ماجرا کیا ہے؟…… تھوڑی ہی دیر میں آگئے…… ساتھ لے گئے ……ذرا فاصلے پرکبری کے نیچے بھائی سعید صاحب کھڑے تھے ……سامان ان کی گاڑی میں رکھوایا ……ہم نے کچھ نہیں پوچھا کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟……کہاں جارہے ہیں ؟……بس چپ چاپ ان کے ساتھ چلے گئے…… گھر پہنچے تو بہت پرتکلف ناشتے سے دسترخوان سجا تھا ……بھوک اور تھکن سے براحال تھا…… ناشتہ کیا…… پھر آرام کیاپھر دن کا کھانا پہلے سے زیادہ پر تکلف……سعید صاحب نے صبح ہی بتادیا تھا کہ آپ آرام کریں…… ظہر کے بعد آپ کو حرم لے جائیں گے عمرہ کرلینا ……سعید صاحب اور ان کے اہل خانہ نے ہم اجنبی مسافروں کا ایسا اکرام کیا کہ نہ پوچھیے……پتہ نہیں حضرت نے ان کو کتنی دفعہ فون کیے ……کتنی تاکید فرمایا……کیا کچھ کہا…… آج بھی یہ لکھتے ہوئے آنکھوں سے بے ساختہ آنسو برس رہے ہیں کہ آج کے اس دور میں کون ایسے کرتا ہے ؟……یہ سب حضرت پیر صاحب رحمہ اﷲ کی عنایات تھیں…… سعید صاحب اور ان کے اہل خانہ کے انداز سے لگ رہا تھا کہ حضرت نے کس تاکید ،محبت ،خلوص ،شفقت اور ذرہ نوازی سے ہدایات دی تھیں……ظہر کے بعد سعید صاحب حرم لے گئے…… عمرہ ہوا اور پھر اﷲ کریم نے ہر چیز کا انتظام فرمادیا ……عجیب ہی کہانی ہے ……ہر بات ہی عجیب ہے …… ہم نے ابھی ہوٹل نہیں لیا تھا اورحرم شریف میں بھائی گل فراز مل گئے ……جی وہی بھائی گل فراز جو اس کہانی کے شروع میں آئے تھے ،جو جماعت میں آئے ہوئے تھے اورڈاکٹر احمد علی سراج صاحب نے میرے لیے حرمین شریفین حاضری کی دعا کی تھی ……مجمع میں لوگوں سے کہا کہ آپ عجیب لوگ ہیں اپنے امام صاحب کو ابھی تک عمرہ نہیں کروایا ……وہ حرم شریف میں مل گئے ……اپنی بلڈنگ لے گئے اور رہائش کا پنے ہاں ہی انتظام کردیا اور ہوٹل بھی نہ لیناپڑا،اب تو بھائی گلفراز اسلام آباد میں ہمارے پڑوس میں شفٹ ہوگئے مگر اس وقت بنوں میں تھے……خیر عجیب ہی داستان ہے ……کیا کیا سناوں ؟کیا کیا لکھوں ؟
پیر عزیزالرحمن صاحب کی شفقتوں کی تذکرہ کیا تو جس رحمن نے…… جس رب نے پیر صاحب کو پیدا کیا اور ان کو اتنا بڑا دل دیا تھا خود اندازہ کیجیے کہ اس رحمن رب کی رحمتوں کی کیا شان تھی ……کیا بات تھی ؟……کیا بات ہے ؟……جیسے اﷲ والے کسی بگڑے ،بھٹکے ہوئے کو لاکر مصلے پر کھڑا کردیتے ہیں اور پھر اﷲ کے سپرد کر دیتے ہیں ایسے میرے محسن حضرت پیر صاحب ؒ نے مجھے دھکا لگا کر ……حوصلہ دے کر ……ترغیب دے کر ……خرچہ دے کر…… اکرام کرکے ……اپنے متعلقین سے خدمت کرواکر اپنے رب کے دروازے پر لاچھوڑا تھا ……اور میں ہر ہر لمحہ اپنے اﷲ کی عنایات سے مستفید ہوتارہا…… شاید مجھے اندازہ نہ ہوتا ……شاید مجھے راستہ نہ ملتا ……شاید یہ ذوق نصیب نہ ہوتا…… یہ صرف پہلی حاضری کی کہانی ہے اور اس کے بعد میرے کریم رب نے میرے ساتھ کتنا کرم فرمایا ……نہ پوچھیے !……ہر سفر ایک کہانی ہے……ہر لمحہ ایک داستان ہے…… ہر بات کی کیا ہی بات ہے؟ ……اﷲ کریم نے اس پہلے سفر کے بعد بارہا حاضری کی توفیق بخشی ، شاہی مہمان کے طور پر بلایا ،رابطہ عالم اسلامی کے ساتھ حج کیا، وفاق المدارس کے قائدین کی معیت میں حاضری ہوئی ،اسلام آباد راولپنڈی کے اکابر کے ساتھ جانا نصیب ہوا ،حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری، حضرت مولانا فضل الرحمن خلیل صاحب کو اﷲ کریم نے اپنے در پر حاضری کا سبب بنایا……برادرگرامی طارق آفریدی صاحب اور قاری یونس صاحب کے ذریعے اﷲ رب العزت نے حرمین شریفین حاضری کو مزید سہل فرمادیا ……سوچتاہوں اﷲ کریم کی کیا شان ہے…… رب ذوالجلال کا کیا انتظام ہے ……سبحان اﷲ ……سبحان ﷲ

بارہا حاضری ہوئی مگرحرمین شریفین کا سفر اور مولانا پیرعزیزالرحمن ہزاروی لازم وملزوم ہو گئے تھے…… تقریبا ہر بار ہی حضرت پیر صاحب کی رفاقت اور معیت نصیب ہوجاتی ……اتنی شفقت ،ایسا انداز کہ سبحان اﷲ……گزشتہ چند برسوں سے حضرت اقدس مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب رحمہ اﷲ کی خانقاہ میں قیام کا نظم تھا ……حضرت مکی ؒ بھی عجیب انسان تھے اور ان کا پورا خانوادہ ہی’’این خانہ ہمہ آفتاب است ‘‘کا مصداق ہے……اﷲ رب العزت اس گھر کو آباد رکھیں ……اس کی رونقوں کو دوبالا کریں ……حضرت مکی صاحب ؒ کے ہاں حضرت پیر عزیزالرحمن ہزاروی صاحب کی معیت نصیب ہوتی ……بھائی اویس عزیزصاحب ،مفتی شاہد مسعود صاحب ،سید قاسم شا ہ صاحب ،مفتی مسعود صاحب ،گزشتہ برس غلا م نبی مدنی صاحب اور دیگر بہت سے دوست ان اسفار کا حصہ رہے……حرمین کے سفر کی برکت سے حضرت پیر صاحب سے بہت کچھ سیکھا ،بہت کچھ پایا،حج کے دورا ن ان کی عجیب کیفیت ہوتی……دعا ایسے مانگتے کہ سراپا عجز ونیاز ہوجاتے ……پوری محفل پر رقت طاری ہوجاتی ……ریاضت ایسی کرتے کہ ہم نوجوانوں کے لیے مہمیز ثابت ہوتے ……ترغیب ایسی دیتے کہ سفر حرمین کی حلاوت نصیب ہوتی …… دس اور گیارہ ذی الحج نصف شب کے وقت طواف زیارت ان کی معیت میں کرنے کا معمول تھا اس کا اپنا ہی لطف ہوتا ……اورطواف کے بعد حرم شریف کے صحن میں جو ٹھنڈی آئس کریم کھلاتے تھے ناں وہ آج دل جلارہی ہے ……اور مدینہ طیبہ میں تو وہ سراپا عشق ومحبت ہوجاتے …… ادب اور عقیدت سے بچھے چلے جاتے ……بارہا ایساہوا کہ مدینہ طیبہ سے روانہ ہوتے وقت دل کی جو کیفیت ہوتی اس پر مرہم رکھوانے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے ……وہ چھتریوں تلے بیٹھے ہوتے ا ن سے الوداعی معانقہ کرتے ہوئے ان کے کندھوں پر سر رکھ کر روتے ……وہ حوصلہ دیتے …… وہ آس دلاتے …… وہ دعائیں دیتے ……پھر امید جاگتی …… پھر لوٹ آنے کی توقع لے بوجھل قدموں سے لوٹ آتے ……اب پیر صاحب ہمیشہ کے لیے چلے گئے……اﷲ رب العزت ان کے ساتھ جو برکتیں تھیں ان سے محروم نہ فرما دیں ……بہت عجیب حالت ہے ……بہت اداس ذوالحج کا مہینہ ہے……سب کچھ خالی خالی سا……سب کچھ ادھورا ادھورا سا……سب کچھ بے کیف بے کیف سالگتا ہے …… اب کی بار حرم نہیں جا سکے وہ ہوتے تو ان کی خدمت میں جا کر دل کا بوجھ کچھ ہلکا کر لیتے ……لیکن کبھی ایسی بھی بے بسی ہوتی ہے کہ آپ کو رونے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں ہوتا……آنسوپوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا……دل کی بے تابی کوقراردینے کا سامان نہیں ہوتا …… آج ویسا ہی ہے ……بس اﷲ رب العزت حضرت پیر صاحب کی اگلی منزلیں آسان فرما دیں ……ان کی فیض کو عام فرما دیں ……ان کے بیٹو ں کو ان کی صفات سے مزین فرما دیں ……اﷲ ر ب العزت ہماری طرف سے انہیں اپنی شان کے مطابق اجرعطا فرما دیں ……آمین


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Quddus Muhammadi

Read More Articles by Abdul Quddus Muhammadi: 115 Articles with 77887 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Aug, 2020 Views: 292

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ