کاشانہ ھوم کی یتیم بچیوں کو انصاف کب ملے گا؟

(Mian Khalid Jamil {Official}, Lahore)

یتیم اور بےسہارا بچیوں کے ادارے کاشانہ ویلفیئر ہوم میں جنسی ہراسگی و عصمت دری سے متعلق "کاشانہ اسکینڈل" انصاف کے حصول کے عنوان سے مسلسل خبروں کا حصہ ہے۔ یتیم بےسہارا بچیوں پر ہونے والے مظالم کو منظرِ عام پر لانے والی اس کی بہادر سپرنٹینڈنٹ افشاں لطیف ہیں۔

غیرت کے نام پر سگی بہن بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دینے والے معاشرے میں غیرت کے نام پر انصاف کا حصول کس قدر مشکل ہے، اس کا اندازہ کاشانہ سکینڈل سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

کاشانہ ویلفیئر ہوم 1970ء کی دہائی میں یتیم و بےسہارا بچیوں کے تحفظ کے لیے وجود میں آنے والا معروف تربیتی ادارہ تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن اور ہوس کے عفریت نے یہاں بھی اپنے پنجے گاڑ دیے۔ سالہا سال سے متعلقہ حکام کی سرپرستی میں ہوس کے شیطانی پنجے یتیم بےسہارا بچیوں کی عصمتیں تار تار کرتے رہے۔

ظلم کے اس سلسلے میں وقفہ اس وقت آیا جب یہاں کی انچارج/سپرنٹنڈنٹ ایک غیرت مند بہادر خاتون افشاں لطیف تعینات ہوئیں۔ کاشانہ کے مشکوک ماحول سے انہیں جلد ہی حالات کی نزاکت کا احساس ہو گیا۔ فوری علم میں آنے والا واقعہ رات کے آخری پہر میں غیر مردوں کا بچیوں کے کمروں میں چوری چھپےداخل ہونا تھا۔ یہ بات کاشانہ کے قوانین کے بالکل خلاف تھی، انہوں ان فوری طور پر وہاں کی اعلیٰ انتظامیہ کو آگاہ کیا۔

اس آگہی کا کوئی فائدہ تو نہ ہوا بلکہ مذید شرمناک حالات سامنے آئے۔ ان کی ایک ہلکی جھلک انہیں افسران کی جانب سے ملنے والے احکامات ہیں۔ جن کے مطابق یہاں کی نوعمر/نوجوان بچیوں کی شادیاں کروانا تھا۔ اس مقصد کے لیے نوعمر لڑکیوں اور کاشانہ کے ہی کمروں کو بیڈروم کی صورت میں سجانا ان کی زمہ داری میں شامل تھا۔

یہ تمام انتظامات محکمہ سوشل ویلفیئر کے وزیر اجمل چیمہ کی سرپرستی میں تھے۔ بچیوں اور عروسی خواب گاہوں کی تیاری کے دوران بچیوں کی آنکھوں میں آنسو اور خوف کے سایوں نے انہیں فوراٙٙ ہی ہوشیار کر دیا اور انہوں اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں دیر نہ کی۔ سب سے پہلے کاشانہ کے ہی اعلیٰ انتظامیہ سے رابطہ کیا اور یتیم بےسہارا بچیوں کے لیے مدد کی اپیل کی۔

آواز بلند کرنا تھا کہ ان کے خلاف ناروا مزاحمتی سلوک کا آغاز ہو گیا۔ دوسرے ہی دن سوشل ویلفیئر کے وزیر نے انہیں ہراساں کیا اور اور دور دراز تبادلے کی دھمکی دی۔ کاشانہ اسکینڈل کے واقعات پر شفاف انکوائری کی درخواست کے جواب میں انکوائری کی زمہ داری ملوث افراد کو ہی سونپ دی گئی۔ ان عیاش سرکاری وزراء نے بجائے فریاد رسی کے الٹا حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا۔ کاشانہ میں جارحانہ طور پر داخل ہو کر بچیوں کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کے ساتھ ان سے شرمناک سلوک بھی کیا۔

افشاں لطیف کے پریس ریلیز کے مطابق انکوائری کے لیے مامور وزیرِاعلیٰ معائنہ ٹیم کا وزیر اجمل چیمہ اور اس کے ساتھی عیاش سرکاری افسران کاشانہ اسکینڈل کے زمہ دار ہیں۔ ملک میں اعلیٰ ترین عدالتوں کی موجودگی میں کرپٹ وزیرِاعلیٰ معائنہ ٹیم کی تعیناتی کاشانہ جیسے اداروں کے خلاف سازش ہے۔

ان ہی ظالم عیاشوں کی سرپرستی میں یتیم بےسہارا بچیوں کی نام نہاد شادی درحقیقت جنسی دردندگی کا کھیل تھا۔ جس میں معصوم نوعمر بچیوں کو سکا سنوار کر عیاش سرکاری افسروں کے حوالے کیا جاتا، نشہ آور دی جاتیں، حیاسوز فلمیں دکھا کر انہیں اپنے وحشت و درندگی کی تسکین کی غرض سے تیار کیا جاتا۔

انصاف کے تمام فورمز سے مایوس ہونے کے بعد افشاں لطیف نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ 29 نومبر 2019 کو کاشانہ اسکینڈل عوام کے سامنے آیا۔ اس کے بعد ہی ان
تمام واقعات کہ چشم دید گواہ اقراء کائنات کو 16دسمبر 2019 کو اغوا کر لیا گیا۔ اغوا سے قبل اس کا تمام ریکارڈ بھی غائب کر دیا گیا۔ اسے دو ماہ تک پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن کسٹڈی میں رکھنے کے بعد پانچ فروری کو قتل کر کے ایدھی سرد خانے پہنچا دیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ لے مطابق اسے بھوکا پیاسا رکھ کر قتل کیا گیا۔ وزیرِ قانون راجہ بشارت کے بقول وہ اس قتل میں ملوث نہیں، تو پولیس ان کے حکم پر قتل کی ایف آئی آر درج کرنے گریزاں کیوں ہے؟ واضح ثبوت کے باوجود ایف آئی آر کا درج نہ ہونا پشت پر طاقتور ظالموں کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔

کاشانہ اسکینڈل کی چشم دید گواہ کائنات کو قتل کرنے کے بعد بھی وزیر اجمل چیمہ کی دردندگی کے ثبوت باقی بچیوں کی گواہیاں ہیں جو ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ان سے بچنے کی غرض سے نہ صرف بچیوں کو ادارے سے ہی غائب کر دیا گیا بلکہ گارڈ کے علاوہ تمام عملہ بھی فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا۔

اس ضمن میں اجمل چیمہ کا یہ بھی الزام ہے کہ افشاں لطیف سے فنڈ کے غلط استعمال پر انکوائری کا نتیجہ ان کے خلاف ردِعمل ہے یہ سب۔ جب کہ حکومت اور سوشل ویلفیئر کے محکمے پر اتنے سنگین الزامات کے باوجود بھی متعلقہ حکام نے میڈیا کو کاشانہ کے اندر گواہ بچیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کے لیے دی گئی تمام درخواستوں کے ساتھ مستند ثبوت بھی میڈیا پر موجود ہیں۔

مظلوم بچیوں کے انصاف کے حصول کی خاطر افشاں لطیف نے 12 جولائی 2019 کو پہلی بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ، وزیرِ اعظم ڈی جی رینجرز کو مدد کے لیے درخواستیں بھیجیں۔ یہاں کوئی شنوائی نہ ہوئی تو وزیرِ اعظم کے سٹیزن پورٹل سمیت انصاف کی امید کے ہر فورم پر گئی۔ اس دوران یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آئی کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی ساری فعالیت غریب اور کمزوروں پر الزام کی صورت میں ہی ہے۔ امیروں اور طاقتوروں سے مقابلہ، ان کو عدالت کے کٹہرے میں لانا ان کی منصوبہ بندیوں میں شامل نہیں۔ اس کی وجہ ان تنظیموں کو ظالموں کی جانب سے ملنے والے فنڈز اور مراعات ہیں۔

سوشل میڈیا کے مطابق پاکستان کے یتیم خانوں، دارلامان اداروں اور جیلوں سے نوعمر لڑکیوں اور خواتین کی امیر عیاشوں حکومتی وزراء اور بیرونِ ممالک فراہمی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ معصوم بچیاں عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر کاشانہ جیسے اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں جہاں محافظ ہی ان عصمتوں کے لٹیرے بن جائیں تو انصاف بھی تماش بین رہ جاتا ہے۔

اس ضمن میں اجمل چیمہ کا یہ بھی الزام ہے کہ افشاں لطیف سے فنڈ کے غلط استعمال پر انکوائری کا نتیجہ ان کے خلاف ردِعمل ہے یہ سب۔ جب کہ حکومت اور سوشل ویلفیئر کے محکمے پر اتنے سنگین الزامات کے باوجود بھی متعلقہ حکام نے میڈیا کو کاشانہ کے اندر گواہ بچیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کے لیے دی گئی تمام درخواستوں کے ساتھ مستند ثبوت بھی میڈیا پر موجود ہیں۔

ایک سال سے زائد جاری کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کے لیے باہمت افشاں لطیف مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کے خلاف لگاتار انتقامی کاروائیاں بھی انہیں مظلوم بچیوں کے لیے انصاف کی جدوجہد سے نہ روک سکیں۔ حکومتی ضمیر کو جگانے کی کوششیں آئے دن کے مظاہروں کی صورت میں میڈیائی افق کا حصہ ہیں۔ وزیرِاعلیٰ، وزیرِ اعظم اور تمام متعلقہ حکام کاشانہ اسکینڈل کی صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ غائب ہونے والی بےسہارا کمزور بچیوں پر جو بیت رہی ہو گی اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔

تبدیلی کے نام پر وجود میں آنے والی حکومت میں دو سال گذر جانے کے باوجود قانون کی عملداری خواب ہی ہے۔ کاشانہ ہوم اور اس جیسے مجبوروں و کمزوروں کے نام نہاد حفاظتی مراکز طاقتوروں کی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، "ریاستِ مدینہ" کے خواب گر کب خوابِ غفلت سے جاگیں گے؟

ہماری باپردہ حیادار خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے اپنے ایک انٹرویو میں فرمایا تھا کہ وہ یتیم و بےسہارا بچوں، بچیوں کے حوالے سے اقدامات کا جذبہ رکھتی ہیں ۔
بشریٰ بی بی ! آپ کی بیٹیاں بھی آپ کی طرح حیا اور پاکدامنی کی منتظر ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Khalid Jamil {Official}

Read More Articles by Mian Khalid Jamil {Official}: 321 Articles with 163760 views »
Professional columnist/ Political & Defence analyst / Researcher/ Script writer/ Economy expert/ Pak Army & ISI defender/ Electronic, Print, Social me.. View More
22 Aug, 2020 Views: 438

Comments

آپ کی رائے
The killers of the orphan girl Kainat should be arrested and the High Court should give justice to Afshan Latif۔
By: Ilyaas Mirza, Multan on Aug, 27 2020
Reply Reply
1 Like
Afshan Latif should get full justice۔
By: Majid hassan, Lahore on Aug, 27 2020
Reply Reply
1 Like