پب جی ہے سب جی

(Rida Bashir, Zafarwal)

کوئی بھی ایسی سرگرمی جو مقابلے کے طور پر شروع کی گئی ہو۔جس میں ذہنی آزمائش اور ایک حکمت عملی شامل ہوں جس میں اعصاب کا تناؤ اور ذہنی ہم اہنگی مقابلے کی تقسیم اور مقابلے کے ساتھ کھیلنےکا انداز شامل ہو اسے ہم "گیم "کہتے ہیں ۔

گیمز تجسس, امید پرستی, تخلیقی صلاحیتوں جیسے مثبت جذبات ابھارنے میں مدد دیتے ہیں ۔یہ جذبات کھیلنے کے بعد بھی کافی عرصے تک اثر انداز رہتے ہیں ۔ جب تک کہ کوئی آپ کے اعلیٰ سکور ہرا نہیں دیتا ۔۔۔۔یقیناً۔
کھیل اس لئے نہیں کہ یہ آپ کے لئے اچھا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تفریح کا باعث بنتا ہے۔دماغ اور اعصاب کو مضبوط کرتا ہے۔

مختلف ادوار میں مختلف گیمز آئیں۔ طرح طرح کے کھیلنے کے طریقے منظرعام پر آئے۔جب میں پل برھ رہی تھی ۔اس وقت گنی چنی گیمز تھی۔ زیادہ تر فزیکل ایکٹیویٹیز ہوا کرتی تھیں جن میں میں پیش پیش رہتی تھی۔کرکٹ، گلی ڈنڈا ،کنچے، برف پانی اور بھی بہت اسی طرح کی ۔لیکن عرصہ دراز سے ایک گیم نے نوجوان نسل کو اپنے مضبوط شکنجے میں لے رکھا ہے عورتیں، بچے،بڑے سبھی اس کے سحر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں

جسے آپ اور میں" پب جی" کے نام سے جانتے ہیں ۔۔لوگوں نے لاکھوں روپے اڑایا اور بہت سارا وقت اس پر صرف کیا۔ اور پھر اسکے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر گورنمنٹ نے اسے بین کرنے کی اپیل کی جو منظور کرلی گئی لیکن نوجوان نسل کے پرزور اصرار اور احتجاج کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے پابندی ہٹا لی ۔اور نوجوانوں میں خوشی کی لہر دیدنی تھی ۔

پب جی کیا ہے ؟
"برینڈن" آئرلینڈ کا رہنے والا تھا۔ یہ اس کا تخلیق کار سمجھا جاتا ہے۔ 2016 پب جی کے آغاز کا دور تھا ۔23 مارچ 2017 کو بالآخر وہ وقت آگیا جب لوگوں کی رسائی اس گیم تک ممکن ہو گئی۔ گیم آنے کے صرف ڈیڑھ سال بعد اس گیم کی پی سی اور ایکس باکس ون میں 50 ملین کاپیاں فروخت کی گئی ۔پب جی میں دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک یعنی جنوبی کوریا کا میپ استعمال کیا گیا۔بعد ازاں ایک نئی چینی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کی گئی ۔۔

سب سے زیادہ یہ کھیل بھارت میں کھیلا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے پاس ماہانہ 30 ملین سرگرم کھلاڑی ہیں اور بقیہ دنیا میں 13 ملین سرگرم کھلاڑی ہیں ۔اور پچاس ملین متحرک کھلاڑی ۔یہ گیم جنوبی کوریا کی کمپنی "بلیو ہول سٹوڈیو" کے ماتحت شائع کی گئی ۔یہ ایک متحد " گیمنگ برانڈ" ہے ۔جس کا نام" ٹیون کرافٹون یونین "ہے ۔جو 20 دسمبر 2017 کو ریلیز کی گئی۔اس کے ڈیزائن اور تصویر کی قیادت برینڈن گرین نئے کی ۔جس کو سماجی پلیٹ فارم پر "مسٹر ناواقف" کے نام سے جانا جاتا ہے اس سے قبل اس نے ARMA2 ,MOD D ،اور BATTLE ROY بھی بنائی ہے ۔

موبائل میں پب جی کو 19 مارچ 2018 کو جاری کیا گیا اس سے حاصل ہونے والی یومیہ رقم تقریبا 650000 ڈالرز ہیں موبائل کی پب جی سینسر ٹاور کے تخمینے سے پتا چلتا ہے کہ مجموعی آمدنی 30 ملین ڈالر ہے ۔پاکستان میں جب کرونا اپنے عروج پر پہنچا تو ایک ہی گیم تھی جس نے نوجوانوں کا دل بہلایا اور کورنٹائن پیریڈ کو اچھے سے گزرنے دیا لیکن پھر دیکھنے میں آیا کہ پی ٹی اے نے اس گیم کےبین کرنے کی اپیل کی اور کچھ عرصہ بعد یہ گیم بین بھی ہوگی احتجاج اور مظاہرے کیے گئے ۔بالآخر یہ کیس نوجوان نسل کے حق میں رہا اور نوجوان نسل کو ڈیجیٹل جہاد کی اجازت مل گئی ججز کا کہنا تھا کہ کرونا جیسا وائرس ہماری نوجوانوں کا کچھ نہیں بگاڑ پایا تو یہ پب جی کس کھیت کی مولی ہے۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rida Bashir

Read More Articles by Rida Bashir: 15 Articles with 3036 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2020 Views: 246

Comments

آپ کی رائے