اور اظہر علی کی جیب بھی خالی تھی

(Sami Chahdury, Karachi)
 
کپل دیو کہا کرتے تھے کہ میں کبھی بھی پلان بی یا سی نہیں بناتا، پلان صرف اے ہوتا ہے۔ پلان بی اور سی تو کمزور اور دفاعی ذہنیت کی ضرورت ہوتا ہے۔
 
پلان صرف اے ہو تو کبھی کبھار وارے نیارے بھی ہو جاتے ہیں جیسے پہلی اننگز میں پاکستانی بولنگ کے ہوئے۔ کوئی بھی ایسی تباہ کن بولنگ کی توقع نہیں کر رہا تھا اور انگلش بلے باز تو بالکل بھی نہیں۔
 
اظہر علی اور پاکستانی تھنک ٹینک کا پلان اے نہایت کامیاب رہا۔ تمام بولرز نے فُل لینتھ کو ٹارگٹ کیا اور سیم موومنٹ کا پورا فائدہ اٹھایا۔ انگلینڈ چاروں خانے چت ہوا اور ایک قابلِ فخر برتری پاکستان کے ہاتھ لگ گئی۔ یہ وہ برتری تھی کہ جہاں سے میچ گنوانے کے لیے پاکستان کو کوئی انتہائی درجے کی حماقت درکار تھی۔
 
دوسری اننگز میں وکٹ بھی بہت مشکل ہو چکی تھی اور انگلش بولر بھی شاندار ردھم میں تھے۔ طرہ یہ کہ پاکستانی بیٹنگ بھی پہلی اننگز کی برتری کے خمار میں تھی۔ پھر بھی کئی ایک حماقتوں کے باوجود پہلی اننگز کی برتری ہی اتنی تھی کہ پاکستان ایک مشکل ٹارگٹ دینے میں کامیاب رہا۔
 
یہاں پاکستان کے لیے پلان بھی واضح تھا کہ اسی ڈسپلن کے تحت فل لینتھ کو ٹارگٹ کیا جائے اور سپنرز وکٹ کی دراڑوں کو نشانہ بنائیں۔ ریورس سوئنگ کا امکان بھی تھا اور پھر یاسر شاہ پہلی اننگز میں جو کر آئے تھے، چوتھی اننگز تو ویسے ہی سپنرز کی گیم ہوتی ہے۔
 
 
یہ تھا وہ پلان اے جو اظہر علی لے کر چلے۔
 
بعد میں جوں جوں کھیل آگے بڑھا، یہ واضح ہوتا گیا کہ اظہر علی اپنی جیب میں صرف ایک ہی پلان لے کر آئے تھے اور جب ایک غیر متوقع پارٹنرشپ لگی تو اظہر علی کی جیب خالی تھی اور اسی بیچ کنڈیشنز اچانک انگلینڈ کے حق میں ہو گئیں۔
 
پاکستان کو یہ توقع تھی کہ دھوپ نکلے گی اور وکٹ مزید خشک ہو گی۔ یہ توقع بے جا نہ تھی، جس طرح صبح کے سیشن میں وکٹ پہ گرد اڑ رہی تھی اگر کھلی دھوپ لگتی تو شام تک وکٹ سپنرز کی جنت بن چکی ہوتی۔
 
مگر دھوپ بھی نہ نکلی اور اظہر علی کا پلان بھی صرف 'اے' ہی رہا۔ عموماً ایسے لو سکورنگ مقابلوں میں حریف کی پوری بیٹنگ لائن کے خلاف پلان بنایا جاتا ہے لیکن یہاں پاکستان نے لوئر آرڈر کے معاملے میں سب کچھ یاسر شاہ کی آس پہ چھوڑ رکھا تھا۔
 
 
یاسر شاہ نے پاکستان کو مایوس ہرگز نہیں کیا۔ انھوں نے اپنی بہترین کاوش کی مگر وکٹ اس طرح سے بدلی ہی نہیں جو کسی بھی سپنر کو تباہی مچانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ پھر ستم یہ کہ اظہر علی کے پاس کوئی پلان بی تھا ہی نہیں۔
 
گو مصباح کی قیادت میں اظہر کئی ایسے میچز کا حصہ رہے ہیں جہاں پاکستان نے چھوٹے مارجنز میں بھی فتح حریف کے منہ سے کھینچ لی مگر خود ان کی کپتانی میں یہ پہلا ایسا تجربہ تھا۔
 
میچ کے بعد اظہر علی مائیک آتھرٹن سے کہہ رہے تھے کہ اچانک وکٹ بدل گئی اور گیند کی چال بازیاں ماند پڑ گئیں۔ بہر حال بٹلر اور ووکس بہت اچھا کھیلے مگر پاکستان نے کچھ تو ایسا کیا کہ اچانک ہی میچ پہ اپنی ساری گرفت ڈھیلی کر بیٹھا۔
 
بجا کہ وکٹ دوسرے سیشن میں بالکل بیٹنگ کے لئے سازگار ہو گئی مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں کر ہوا۔ دھوپ کا نہ نکلنا اس کا ایک پہلو ہے۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ بٹلر اور ووکس نے جس جارحانہ سوچ کے ساتھ پاکستانی بولرز کو ان کے ڈسپلن سے ہٹنے پہ مجبور کیا، اس رویے نے وکٹ کو بیٹنگ فرینڈلی بنایا۔
 
گیند پرانا ہوا تو جیسی ریورس سوئنگ کی توقع تھی، وہ نہ ہو پائی۔ مگر اظہر علی اپنے پلان اے سے نہیں ہٹے۔ ووکس جم چکے تھے کہ اچانک شارٹ پچ سے اٹیک کرنے کا خیال آیا۔ یہی خیال اگر کوئی گھنٹہ بھر پہلے آ جاتا تو میچ کا رخ یقیناً مختلف ہوتا۔

ثانیاً جب لمبی پارٹنرشپ لگنے کے بعد طے ہو چکا تھا کہ نئے گیند کا انتظار کرنا ہے تو اظہر علی محمد عباس کے پاس جانے کی بجائے شاداب خان سے رجوع کر بیٹھے جو ابھی تک ٹیسٹ لیول پہ وہ کھیل نہیں دکھا سکے جو محدود اوورز کے فارمیٹ میں ان کا خاصہ ہے۔

یہ پہلو زیادہ تکلیف دہ اس امر سے ہو جاتا ہے کہ جب نیا گیند ملا تو اٹیک بھی یاسر شاہ اور شاہین آفریدی سے کروایا گیا اور محمد عباس یوں وارم اپ کرتے رہے جیسے ابھی پچاس رنز باقی ہوں۔

میچ کے چاروں دن پاکستان نے بہترین کرکٹ کھیلی۔ مگر آخری دو سیشنز میں قسمت بھی نہ چل پائی اور اظہر علی کی جیب بھی خالی نکلی۔

 
 
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سمیع چوہدری

Read More Articles by سمیع چوہدری: 10 Articles with 6358 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2020 Views: 424

Comments

آپ کی رائے