گھر کیوں اجڑتے ہیں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عرفان اقبال جتوئی
خاندانی نظام کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں باقی تمام مذاہب اور تعلیمات میں اس کی قدروں میں بہتری کے اصول و ضوابط مقرر کیے گئے۔ وہاں اسلام نے اس نظام کو اس قدر کامیاب اور اہم بناکر پیش کیا کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ کسی بھی کامیاب یا ناکام خاندانی نظام کی ذمے داری مرد پر عاید ہوتی ہے کیونکہ اسلام نے مرد کو سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس کے برعکس ناکام اجڑے ہوئے گھروں کے حالات پر غور کیا جائے تو بھی بنیادی وجہ کہیں نہ کہیں مرد ہی ہوتا ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ کے خاندان میں موجود ایک مرد کو ایک ہی وقت میں ماں، بیٹی، بیوی، ساس، سالی وغیرہ 4 - 5خواتین کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ خاندان میں عورت کے معاملات بھائی، باپ اور بیٹے تک محدود ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اکیلا مرد کہاں کہاں اور کس کس کو جواب دے مگر اس کے باوجود جس قدر اس پر ذمے داریاں بڑھتی ہیں اس قدر انہیں احسن طریقے سے سرانجام دینا بھی اس پر ضروری ہے۔ اﷲ نے اسے عقل ، فہم و فراست سے نوازا ہے تو وہ اسے استعمال کرے اور ایک منظم اور بہتر خاندان تشکیل دے، مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحانات میں 2 وجوہات بہت اہم ہیں۔

بد چلنی اور خاندانی معاملات۔ بد چلنی رشتوں پر ننگی تلوار ہے مگر مرد کے لیے بدچلنی کے پیرامیٹرز الگ ہوتے ہیں ، عورت کے لئے الگ یعنی مرد کے معاملے میں رعایت برتی جاتی ہے جبکہ عورت چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اسے برداشت کر رہی ہوتی ہے۔بعض اوقات اس عورت کو مرد کے حقیقی کردار سامنے لانے پر سزا تک دی جاتی ہے۔ اس کا خمیازہ اسے طلاق کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے جبکہ عورت کو معافی نام کی کوئی چیز نہیں ملتی پہلی غلطی پر اسے ایسی سزا دی جاتی ہے کہ جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔ اسے گھر میں باپ بھائی تک منہ نہیں لگاتے۔ خودکشیوں کے واقعات میں اکثریت ایسی خواتین ہی ہوتی ہیں جو خاندان سے تنگ ہوتی ہی کیونکہ جسے خاوند گھر میں تشدد کا نشانہ بنائے اور والدین کے گھر آنے پر بھائی اور باپ بھی اسے ہی قصور وار ہے ٹھہرائیں وہ یقینا جینا چھوڑنے کو ترجیح دے گی۔

مرد کو گھر سے باہر اگر بیوی کی کبھی کال آئے تو بہانوں کی ایک لمبی لسٹ سامنے آجاتی ہے لیکن اگر وہی کال بیوی کے علاوہ کسی اور عورت کی ہو چاہے وہ اس کی اسٹوڈنٹ ہوں اس کی ایمپلائی یا کسی اور غرض یا مقصد سے کال کر رہی ہو تو مرد کے بولنے میں انداز گفتگو میں بہت ہی فرق ہوتا ہے۔ کم ہی مرد ہوں گے جو ایک جیسا رویہ رکھتے ہوں گے۔ بیوی کو خاندان کے مقابلے میں ہمیشہ جھوٹا یا غلط ثابت کیا جاتا ہے بعض اوقات عورت کو سچ کے جرم پر اسے سزا ہی دی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تنہا ہو جاتی ہے۔ملک کے 60 فیصد اجڑے ہوئے گھروں کی یہی داستان ہے۔

والدین یا سرپرست اعلیٰ کو چاہیے کہ بچیوں کے اچھے مستقبل کے لیے حسن اخلاق اور حسن کردار کا خیال رکھتے ہوئے اچھا جیون ساتھی تلاش کریں۔ اپنی بچیوں پر زبردستی فیصلے مسلط کرنے کے بجائے ان کی رضامندی کا خیال رکھیں اپنی انا کو قائم رکھنے کے بجائے اپنے بچوں کی خوشی اور ان کے مستقبل کو سوچیں۔ ان کے لیے انسانوں کا انتخاب کریں نہ کہ درندہ صفت جانوروں کا۔ اسی طرح شوہر نامدار کو بھی چاہیے کہ وہ عورت کی عزت کرے، انہیں مقام دے۔ عورت صرف 2 چیزیں مانگتی ہے عزت اور محبت خدا را اس کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کریں اگر وہ آپ سے ان دو چیزوں کی توقع نہ رکھے تو سوال یہ ہے وہ کس سے توقع رکھے۔اپنی بیوی کے معاملات کو سمجھتے ہوئے اسے ذمہ دارانہ رویہ دیں۔ وہ عورت جو آپ کی بیوی کے طور پر آپ کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئی ہے اسے احساس تنہائی کے بجائے احساس اپنائیت دیں ایسے وقت میں کہ جب اسے آپ کی اشد ضرورت ہوتی ہے آپ اسے نظر انداز کریں گے تو یقینا یہ بڑے خاندانی خلا کا سبب بنے گا۔

کچھ ایسے بدبخت بھی ہیں جو بیوی کو ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ بیوی نے کہیں کوئی غلطی کی ہے تو اسے بجائے مارنے پیٹنے کے اگر یہ بات محبت سے سمجھا دی جائے تو یقینا وہ سمجھ جائے گی اور اگر پھر بھی وہ نہیں سمجھ رہی تھی پھر اسے ایموشنلی سزا دی جاسکتی ہے وہ بھی ایک حد تک۔ ناراضی کا اظہار کرلیں، علیحدگی اختیار کرلیں کچھ روز تو یقینا وہ اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے معذرت کرلے گی۔

مرد کے ساتھ عورت کے تعاون کی ا س سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ بچت کی پائی پائی اکٹھی کرتی ہے اور بالآخر مشکل وقت میں مشکل حالات کو دیکھ کر یا مرد کی پریشانی کو دیکھ کر فراہم کردیتی ہے۔ عورت ایک جذباتی قوم ہے اور شاید یہی وجہ ہوگی کہ سربراہ کا نظام اﷲ تعالیٰ نے عورت کو نہیں بلکہ مرد کو دیا ہے کیونکہ مرد میں نفع نقصان سوچنے اور معاملات کو چلانے کی ہمت ہوتی ہے جبکہ عورت صرف یک طرفہ سوچ کر فیصلے کر گزرتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آج سربراہ عورت ہوتی تو شاید طلاق اور جھگڑوں کی شرح زیادہ ہوتی۔ جذباتی معاملات کو دیکھ کے وہ بچوں کو گھر کے نظام کو خاندان کی عزت کو معاملات کو نظر انداز کرکے ایسا کر گزرتی جبکہ مرد فیصلہ سنانے سے پہلے متعدد بار سوچتا ہے۔
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر
یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے
اﷲ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اﷲ تبارک و تعالی ہمارے خاندانی نظام کو بہتر سے بہتر بنائے اور ان کو خوش و خرم زندگی دے آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1187 Articles with 451779 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2020 Views: 96

Comments

آپ کی رائے