یہ بزرگ ہستیاں تو ہمارا سرمایہ ہیں

(KhunaisUr Rehman, )

تحریر: عبدالواسع برکات لاہور

کم و بیش سال پہلے کی بات ہے والد گرامی عبدالحمید ابو البرکات رحمہ اﷲ کی وفات کے ایام تھے تو جہلم سے ہمارے چچا جان الشیخ حافظ عبدالسمیع عاصم حفظہ اﷲ کو کال آئی کہ آپ گوجرانوالہ میں ہیں یا لاہور میں چچا جان نے عرض کی میں لاہور میں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں ہی ہوں تو جہلم سے لاھور تشریف لانے والی ہستی بزرگ رہنما الشیخ حافظ عبدالحمید عامر حفظہ اﷲ تھے

جی ہاں گرمی کے سخت ترین مہینے چل رہے تھے اس موسم میں اتنا لمبا سفر اور پھر یہ بزرگ ہستی جہلم سے اپنے دینی بھائی اور دوست کی تعزیت کرنے تشریف لائے تھے. ہمارے ساتھ ڈیڑھ دو گھنٹے کی ملاقات ہوئی جس میں دین کی ہی باتیں ہوتی رہیں کوئی دنیاوی بات یا دنیاوی مال و متاع کا تذکرہ ایسا کچھ نہیں تھا. آپ اس اسے اندازہ لگائیں کہ شیخ فرماتے ہیں کہ واہ میرے بھائی عبدالحمید کے پانچ داماد ہیں پانچ کے پانچ حافظ ہیں ساتھ عالم دین بھی ہیں واہ سبحان اﷲ کیا سرمایہ اکٹھا کیا ہے. بہت ہی دھیما انداز بیان تھا نورانی چہرہ تھا. جس کو انسان دیکھتا تو پھر دیکھتا ہی رہتا۔ ماشائاﷲ

یہ نورانی چہرے والی ہستی ہمارے دادا جان الشیخ حضرت ابو البرکات احمد رحمہ اﷲ کے شاگردوں میں سے ہیں اسی وجہ سے ہمارے والد صاحب کے ساتھ گہری دوستی تھی. ہمارے والد صاحب سعودیہ میں رہے تب یہ مدینہ یونیورسٹی میں ہوتے تھے وہاں کی حسین یادیں تازہ کرتے ہوئے وہاں کے تذکرے سناتے رہے اور کچھ ایسے ہی تذکرے ہم اپنے والد صاحب رحمہ اﷲ سے بھی سنا کرتے تھے.ہمارے والد صاحب اور یہ بزرگ ہم نام بھی ہیں کہتے ہیں والد صاحب ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک دفعہ سعودیہ میں کوئی ملازمت کا مسئلہ بنا تو میں نے کہا میں پاکستان واپس جانے لگا ہوں تو والد صاحب کی یہ بات سن کر عبدالحمید عامر صاحب طیش میں آگئے والد صاحب کو سائیڈ پر لے گئے اور بے تکلفانہ دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے کہا ’’شرم نہیں آتی واپس جانے کی بات کرتے وقت؟ حضرت ابو البرکات صاحب کا خیال کرو کہ انہوں نے کس طرح پیسہ پیسہ جوڑ کر آپ کو ملک سے باہر بھیجا ہو گا اور آپ یہاں واپس جانے کی باتیں کرتے ہو‘‘۔

یہ واقعہ سناتے ہوئے والد صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں کہتے مجھے ایسے لگا جیسے میں ہوش آگیا ہوں پھر اس کے بعد میں گیارہ سال سعودیہ رہا اور تبھی واپس آیا جب پاکستان سے ابا جان نے خط لکھا کہ بس بیٹا اب واپس آجاؤ۔

یہ ہمارے بزرگ جہلم سے نکلے اور نبی اکرم صلعم کے مبارک شہر میں واقع مدینہ یونیورسٹی سے کئی سال اپنے دامن کو علم کے موتیوں سے مالا مال کرتے رہے پھر پاکستان تشریف لے آئے اور
جہلم میں دین کا ایسا چراغ روشن کیا کہ جس کی سنہری کرنیں پورے میں پھیل گئیں جی جامعہ اثریہ سے کون نہیں واقف یہ دین کا ایسا چشمہ ہے جہاں سے سالانہ سیکڑوں دینی علوم کے متلاشی سیر ہوتے ہیں اور اپنا دامن علوم دینیہ اور علوم اثریہ سے بھرتے ہیں.

مرکزی جمعیۃ اہل الحدیث پاکستان کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ایک لمبے سفر کی تاریخ رکھتی ہے یہ کوئی کل کی پیداوار نہیں ہے علماء حق کی جماعت ہے یہ ایسے لوگوں کی جماعت ہے جو اﷲ اور اس کے رسول کی بات کرتے ہیں اسی کی دعوت دیتے ہیں. ہر جماعت کا اپنا ایک سلوگن ہوتا ہے اس میں کوئی سیاسی مفاد شامل ہوتا ہے مگر مرکزی جمعیت اہل الحدیث کے مونوگرام کی پہچان ہی یہ ہے کہ اطیعوا اﷲ واطیعو الرسول اﷲ اور اس کے رسول کی دعوت میں کسی قسم کی فرقہ واریت کی بو بھی شامل نہیں ہے. یہ بزرگ رہنما اس جماعت کے نائب امیر بھی ہیں تو یہ کیسے فرقہ واریت کے عمل میں شرکت کر سکتے ہیں۔

ایک دو دن پہلے ان کے بارے میں خبر سنی تو دل بہت ہی غمگین ہوا اور اﷲ سے دعا کی یااﷲ حفاظت فرمانا اور خیر والا معاملہ فرما دینا.

ایف آئی آر کی کاپی دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ شاید انتظامیہ نے پورے ملک سے گستاخان صحابہ کو گرفتار کر لیا ہو گا اور جن کی گستاخی میں کوئی شک بھی نہیں...

ان ٹی وی مالکان کو بھی پابند سلاسل کر دیا ہو گا جنہوں نے دن دیہاڑے صحابہ کرام کے خلاف بولے جانے والے گستاخانہ الفاظ کو اپنے چینل کی زینت بنایا...

اس تھانے دار کو بھی معطل کر دیا ہو گا جس نے نامعلوم افراد کی اولاد کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود اس کو گرفتار نہیں کیا...

کیونکہ ہمارے ایوان اس حوالے سے قانون سازی بھی کر چکے ہیں ۔

لیکن پھر میرے خیالات ٹوٹ گئے اور میں حقیقی دنیا میں واپس آگیا تو پتا چلا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہاں جو امن پسند ہے جو امن کے ساتھ اپنے مشن قال اﷲ و قال رسول کے ساتھ ساتھ خدمت خلق کو بھی جاری رکھے ہوئے۔ خدمت خلق سے یاد آیا کہ انسانیت کی خدمت وہی کرتا ہے جس کے دل میں انسانیت کا درد موجود ہوتا ہے اور انسانیت کا درد رکھنے والا شخص کبھی امن کو خراب نہیں کرتا تو کیا ایسے شہری کو ہی تنگ کرنا اسی کو پریشان کرنا اسی کے خلاف زمین تنگ کرنا شاید یہاں کا شیوہ ہے؟؟

جائیے ذرا وطن عزیز کی تہتر سالہ سنہری تاریخ کو اٹھائیں اور دیکھیں مسلک اہل حدیث کے کسی ایک بچے نے بھی اس ملک کا کوئی پتہ بھی توڑا ہو؟؟

یارو!! ہمارے تو بزرگوں کو شہید کر دیا گیا علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید اپنے ساتھیوں سمیت شہید کر دئیے گئے ہم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا کسی ملک دشمنی سرگرمی کا حصہ نہیں بنے. کون کون سی قربانی ہم نے اس ملک کی خاطر نہیں دی. پھر انتظامیہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسے اقدامات کیوں اٹھاتی ہے جس سے افراتفری کا ماحول پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے؟.

اﷲ رب العزت شیخ محترم اور تمام کبار علماء کرام کی حفاظت فرمائے اس ارض پاک کی خاص حفاظت فرمائے اسلامیان پاکستان کو طاقت و قوت عطا فرمائے اور دین و وطن دشمنوں کو نیست و نابود فرما دے آمین ثم آمین یارب العالمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: KhunaisUr Rehman

Read More Articles by KhunaisUr Rehman: 27 Articles with 8847 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Sep, 2020 Views: 74

Comments

آپ کی رائے