لاڈلی

(Tanvir Sadiq, Lahore)

اس نے بڑے عجیب انداز میں آسمان کی طرف دیکھا۔ ہاتھ اوپر اٹھایا اور انگلی کے اشارے سے اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی، اب میں نے اس کا پیار اپنے دل میں پال لیا ہے ۔ وہ جنہیں اپنے دنیاوی تعلقات پر بڑا مان ہے ۔ اب آئیں اور مجھ سے بات کریں، اب میرے اس پیارے کا کوئی کیا بگاڑے گا۔اب وہ میرا پیار ہے جوگر چاہے تو سب کا بہت کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ میرے دل میں وہ سما گیا ہے۔ اس کی محبت نے مجھے ہر چیز سے بیگانہ اور ہر خوف سے بے نیاز کر دیا۔ میں بہت خوش اور مطمن ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر عجیب طمانیت تھی۔ ایک انجانی سی چمک تھی ۔ یوں لگتا تھا اس نے خود کو ایک خاص رنگ میں رنگ لیا ہے، اس پر ایک نشے جیسی حالت تھی۔ لگتا تھا کہ وہ واقعی اپنے حال میں بہت خوش اور مطمن ہے۔

یہاں ایک صوفی بزرگ کا مزار کا عقبی دروازہ ہے۔اس دروازے کے باہرچھوٹی سی پتلی سڑک پر کچھ عورتیں کھڑی تھیں۔ ان عورتوں کی وجہ سے ٹریفک بہت آہستہ رواں تھی۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک موٹی سی عورت جس نے ایک لمبا چوغہ پہنا ہوا تھادرمیان میں کھڑی تھی اور بہت سی عورتوں نے اسے گھیرا ہوا تھا۔ وہ عورت اشارے سے انہیں کچھ کہہ رہی تھی۔ مجھے لگا کہ اس موٹی سی عورت کا چہرہ میرا بہت جانا پہچانا ہے۔ کون ہو سکتی ہے میں سوچنے لگا۔ گاڑی بہت آہستہ رواں تھی مگر میرا ذہن بہت تیزی سے کچھ یاد کر رہا تھا۔

اچانک ذہن میں ایک چھناکا ہوا اور میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور تیزی سے اس عورت کی طرف بھاگا۔ وہ عورتوں کو کہہ رہی تھی کہ شام کو آؤں گی باقی باتیں شام کو ہوں گی مگر عورتیں اسے چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں اور عقیدت سے اس کو اپنے ذاتی مسائل کے بارے بتاتے دعا کی درخواست کر رہی تھیں۔

میں نے ایک عورت سے کہا کہ اسے کہے کہ میں بات کرنا چاہتا ہوں۔عورت نے کہا، باجی زاہدہ سے بات کرنی ہے۔ میں نے ہاں کہا۔ جواب ملا کہ وہ مردوں سے بات نہیں کرتیں ویسے پوچھ لیتی ہوں۔ عورت تیزی سے زاہدہ کے پاس پہنچ گئی اور اسے میرے بارے بتایا۔زاہدہ نے غصے سے میری طرف دیکھا ، اس عورت کو جھڑکا اور آگے چل پڑی۔

دو قدم چلنے کے بعد وہ رکی ایسے لگا جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ پھر مڑی اور سیدھا میرے پاس آ کر پوچھا ، بھائی آپ؟

ہاں میں ، میں نے جواب دیا۔ معاف کیجئے برسوں بعد ملاقات ہوئی ہے اس لئے میں نے پہلے پہچانا نہیں تھا۔آپ کیسے ہیں، بچوں اور بھابھی کا کیا حال ہے۔ آجکل کہاں رہ رہے ہیں، گھر میں آجکل اور کون آپ کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اس نے ایک دم بہت سے سوالات پوچھ لئے۔

میں نے اس کی طرف دیکھا وہ زمین پر نظریں گاڑے سوال پر سوال کئے جا رہی تھی۔عورتیں حیرانی سے اس کی باتیں سن رہی تھیں۔میں نے کہاکہ ہم سارے خیریت سے ہیں، تم اپنی سناؤ۔ کیا حال بنایا ہوا ہے۔ کہاں رہ رہی ہو۔کافی بدل گئی ہو۔ موٹی بھی ہو گئی ہو۔

تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد کہنے لگی،’’ رہتی تو میں اسی مزار پر ہوں۔ کچھ کپڑے اور دوسری چیزیں اسی زنداں میں پڑی ہیں جہاں میرے باپ نے مجھے قید کیا تھا۔ ہفتے میں ایک آدھ بار اس قید خانے کا چکر لگا آتی ہوں کپڑے بدلنے ہوتے ہیں ، کچھ ساتھ لانے ہوتے ہیں۔ کچھ دوسری چیز یں درکار ہوتی ہیں۔ میرا باپ مرتے وقت مجھ پر ، اپنی اس لاڈلی پر،احسان کر گیا تھا۔ وہی قید خانہ جس میں اس نے مجھے قید رکھا تھا میرے نام کر گیا تھا۔ ایک چھوٹا بھائی بھی میرے ساتھ رہتا ہے اس کی مہربانی ہے میرا خیال رکھتا ہے ۔ میری وجہ سے کہیں اور نہیں گیا۔میرے قید خانے کی رونق اس کے اور اس کے بیوی بچوں سے ہے۔ ورنہ تو وہاں دم گھٹتا ہے۔اس زندہ لاش میں جو چند سانس نظر آ رہے ہیں وہ شاید اس بھائی اور اس کے بچوں کے دم ہی سے ہیں۔‘‘

اس کی تلخ باتیں ختم ہونے میں نہ آ رہی تھیں۔ میں نے کہا ، اب تو ایک لمبا عرصہ گزر چکا، سب بھول جاؤ اور مرنے والوں کو معاف کر دو۔‘‘

وہ بڑے تلخ انداز میں مسکرائی، ’’ کیا بھول جاؤں، وہ لمحے جو میری زندگی میں ٹھہر گئے ہیں، جو میری زندگی کا ایک لازمی جزو ہیں۔ وہ لمحے مجھ سے اس طرح جڑے ہیں جس طرح یہ ہاتھ، یہ پاؤں یا جسم کے دوسرے حصے۔ میں اپنے ہاتھ پاؤں کیسے کاٹ سکتی ہوں۔ راز سوچتی ہوں کہ لوگ بیٹیوں سے اس لئے پیار کرتے ہیں کی جب مرضی ہو پیار کی قیمت وصول کر لیں‘‘۔ پھر اس نے بہت سی ایسی باتیں کی جس سے اس کی موجودہ ذہنی حالت کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔

میں نے اسے کہا کہ آؤ میرے گھر چلو، وہیں باقی باتیں کریں گے۔ اس نے انکار کر دیا کہ بھائی میں کہیں نہیں جاتی، اگر کبھی آپ کا دل چاہے تو اس بہن سے ملنے بھابھی کو ساتھ لے کر یہیں آ جائیں۔
تم نے اپنے ساتھ یہ سب کیوں کیا ہے میں نے سوال کیا۔

وہ ہنسنے لگی ، میرے باپ کو اعتراض تھا کہ میں کسی سے پیار کیوں کرتی ہوں اس نے سب ختم کر دیا، میں اس کی لاڈلی تھی، اس نے پیار کی بڑی بڑی زنجیروں سے باندھ کر میری روح تک کوسنگ سار کر دیا۔ مگر اب میں نے اپنے رب سے عشق کرنا جان لیا ہے۔ اب کچھ ختم کرنا اس کے بس میں نہیں بلکہ کسی کے بھی بس میں نہیں۔ میں جب یہاں ہوتی ہوں تو اپنے رب سے پیار کرتی ہوں اس کی عبادت کرتی ہوں، اس سے باتیں کرتی ہوں۔ کوئی ہے جو مجھے روک سکے، کسی کی ہمت ہے رکاوٹ بنے۔ اب میں نے اس سے پیار کیا ہے جس کے سامنے سارے بے بس ہیں۔

وہ بچپن سے بڑے شوخ اور چنچل تھی۔ ہر وقت کوئی نا کوئی کھیل تماشہ اس کی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا تھا۔جوان ہوئی تو سب سے یکتا۔ محلے کے سب لڑکے اسے آتے جاتے دیکھتے لیکن کسی میں اس سے بات کرنے کی جرات نہ تھی۔ اس کے گھر سے چند گھروں کے فاصلے پر ایک لڑکا رہتا تھا۔ انتہائی سادہ ،محنتی، ہر وقت پڑھنے میں مگن۔اس لڑکے کی بہن اس کی کلاس فیلو تھی۔ اسے پڑھائی میں کبھی کبھی اس لڑکے کی مدد کی ضرورت ہوتی تو ا س حوالے سے دونوں میں کچھ بات چیت ہو جاتی۔

وہ لڑکا بہت شرمیلا تھا،پتہ نہیں کیسے اس لڑکے سے اس کی دوستی ہو گئی۔اسی کے مجبور کرنے پرلڑکے کی ماں اس کا رشتہ لینے اس کے گھر آئی۔مگر اس کا باپ جو ایک سیاسی آدمی تھا ، ہر سیاستدان کی طرح جس کے کپڑے تو بہت اجلے ہوتے ہیں مگر جسم اور روح اخلاقی قدروں سے عاری۔وہ جو ہر سیاسی لیڈر کی طرح عام لوگوں کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتا تھا، کیسے یہ رشتہ قبول کر لیتا۔ اس نے بیٹی کا رشتہ دینے سے سختی سے انکار کر دیا اور لڑکے کی ماں کو تنبیہ کی کہ اپنی اوقات کو پہچانے اور آئندہ ایسی جرات نہ کرے۔لڑکے کی ماں تو چپ چاپ چلی گئی مگرزاہدہ جس کے سر پر عشق کا بھوت سوار تھا، باپ کے سامنے آ گئی کہ شادی اس نے کرنی ہے ۔ اس کے باپ نے اس سے پوچھے بغیر انکار کیوں کیا۔پسند کی شادی اور وہ بھی والدین کی مرضی سے، اس میں کیا برائی تھی۔باپ نے پہلے پیار سے ،پھر سختی سے ہر حربہ آزمایا کہ شایدزاہدہ کو سمجھ آ جائے کہ وہ لوگ اس کے مرتبے کے نہیں مگر وہ کسی طرح سمجھنے کو تیار نہ تھی۔

زاہدہ کے باپ نے زاہدہ کا دیوانہ پن دیکھ کر لڑکے والوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس محلے سے چلے جائیں۔ وہ انتہائی شریف لوگ تھے، ہلکا سا دباؤ برداشت کرنا بھی ان کے بس میں نہ تھا ۔ انہوں نے فوراً محلہ چھوڑ دیا ار کہیں دور منتقل ہو گئے۔لیکن زاہدہ کب ٹلتی تھی۔ اس نے باپ کی سختی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لڑکے سے ملاقاتوں کاسلسلہ رکھا۔زاہدہ کی ہمت کو دیکھ کر لڑکا بھی اس کے باپ سے الجھ گیا کہ مجھ پر دباؤ ڈالنے کی بجائے بیٹی سے بات کرو۔

زاہدہ کے باپ نے صورت حال دیکھ کر وقتی طور پر چپ سادھ لی۔ زاہدہ کی ماں اس خاموشی کو کسی آنے والے ظوفان کا پیش خیمہ جان کر اسے سمجھاتی رہی مگر جوان خون کسی چیز کو خاطر میں کب لاتا ہے۔زاہدہ کے باپ کو ڈر تھا کہ زاہدہ خود ہی اس لڑکے سے شادی نہ کر لے۔ یہ خوف اسے کچھ کرنے پر اکسا رہا تھا۔

ڈیڑھ دو ماہ خاموشی سے گزر گئے۔زاہدہ خوش تھی کہ اس کا باپ اس کے جذبہ محبت کے آگے ہتھیار ڈال چکا۔ مگر اچانک زاہدہ کا ساتھی لڑکا غائب ہو گیا۔اس وقت زاہدہ کا باپ ایک ہفتے سے ملک سے باہر تھا اور اس کے پندرہ بیس دن تک واپس آنے کی کوئی امید نہ تھی۔لڑکے کی گمشدگی کی پولیس میں رپورٹ ہوئی۔ہسپتالوں میں دیکھا گیا۔ چار دن تک کچھ پتہ نہ چلا۔ پانچویں دن ایک ویرانے سے اس لڑکے کی مسخ شدہ لاش ملی۔ اسے بے دردی سے قتل کر کے لاش ویرانے میں پھینکی گئی تھی۔

زاہدہ کا باپ واپس آیا تو قتل کے شبے میں پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ابتدائی تفتیش کے تین چار دن بعد اسے جیل بھیج دیا گیا۔ زاہدہ نے اپنے باپ کے خلاف پولیس کو بیان بھی دیا کہ میرے باپ نے اس لڑکے کو قتل کرایا ہے۔مگر پولیس نے وہ بیان گول کر دیا۔ باقی سب گواہیاں اس کے باپ کے حق میں تھیں۔ کوئی تین ماہ بعد عدم ثبوت کی بنا پر اسکے باپ کی ضمانت ہو گئی۔

قاتل کبھی مل نہ سکے ۔ مگر باپ اور بیٹی کی کشمکش جاری رہی۔ باپ کی تمام تر کوشش کے باوجود بیٹی نہ تو شادی کے لئے تیار ہوئی اور نہ ہی باپ پر اپنا کہا گیا الزام واپس لینے کو ۔ باپ جب بھی کوئی بات کہتا تو وہ جواب دیتی کہ میری زندگی تو آپ نے چھین لی ہے اب اپنی لاش میں خود دفن کروں گی۔باپ کی زندگی میں اس نے خود کو اپنے کمرے تک محدود کر لیا۔اس کے بعد کسی نے بھی اسے کسی سے ملتے یا بات چیت کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ آج میرے سامنے وہ بول رہی تھی شاید دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی۔وہ کہہ رہی تھی۔

بھائی آپ نے دیکھا میرے باپ کی کیا عجیب حالت تھی۔ وہ مجھے دیکھ دیکھ کڑھتا اور اپنے کئے پر پچھتا تا رہا ۔ میں جو اس کی پیاری، چہیتی اور سب سے لاڈلی بیٹی تھی زندہ درگور تھی مگر مجھے اس کی بے بسی پر ہنسی آتی تھی۔ جو اس نے کیا وہ واپس نہیں آ سکتا تھا، میرا بھی سب کچھ کھو گیا تھا،میں کہاں واپس آتی۔ طاقت اور سیاسی اثر رسوخ کے بل پر جو کچھ وہ کرتا رہا ہے وہی اس کے لئے عذاب بن تھا۔بڑا احساس ندامت کا اظہار کرتا تھا ۔ کہیں نہیں جاتا تھا۔ آخری دنوں میں تو بہکی بہکی باتیں کرنے لگا تھا۔اس نے بہت ظلم مجھ پر اور میری وجہ سے ایک کمزور اور بے بس خاندان پر کیا۔ اﷲ تو دیکھتا ہے ، اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ۔ قدرت نے ایسا انتقام لیا کہ رو رو کر مرا۔ کسی کا سب بگاڑ کر معافیاں مانگنا تو بے معنی ہے۔ پہلے کیوں نہ سوچا۔ اس پر جنونی کیفیت طاری تھی۔کبھی وہ آسمان کی طرف دیکھتی اور کبھی زمیں کی طرف۔ مگر بولتی جا رہی تھی اور ہاتھ کی انگلی لگاتار آسمان کی طرف تھی۔ لگتا تھا آج دل کا بہت سا غبار نکالنا چاہتی ہے۔

بھائی سارے خاندان کو پتہ ہے کہ قتل کیوں ہوا اور کس نے کرایا۔بڑا لیڈر بنتا تھا۔ اثر رسوخ سے قانون سے تو بچ گیا مگراﷲ کے انصاف کو کون ٹال سکتا ہے۔ لوگوں کی نفرت پر کیسے قابو پا سکتا تھا،اس کا ضمیر اسے کیسے معاف کر دیتا۔ میں مظلوم تھی ،میں نے اﷲسے رجوع کیا اور بس اسی کی ہو گئی۔ اس نے مجھے ہمت جرات اطمینان صبر اور سکون دیا ۔ اس ظالم کو بے اطمینانی دی ، بے چینی دی، خلش دی ، پچھتاوہ دیا۔ وہ مجھے خوش کرنے کے لئے میرے اکاؤنٹ میں بڑی بڑی رقمیں ڈالتا۔ اس نے مکان میرے نام کر دیا، مگرمیں تو سب چیزوں سے بے نیاز تھی۔ وہ خود ہی کڑھتا رہا، اپنی لگائی آگ میں جلتا رہا اور پھر بھسم ہو گیا۔۔

’’ اس بات کو اب بہت عرصہ ہو چکا۔ وہ تمہارا باپ تھا اسے معاف کر دو‘‘۔ میں نے کہا۔وہ مسکرائی، میں معاف کر دوں۔ میں کون ہوں جو معاف کر دوں۔ اس نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ۔ وہ قادر مطلق ہے جو سزا اور جزا دیتا ہے۔ جو باپوں کو ضد اور انا سے منع کرتا ہے۔ جو انہیں بیٹیوں کے احساسات کا احترام کرنے کا کہتا ہے۔ جو انہیں بتاتا ہے کہ بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں، ان سے پیار کرو اور پیار کا تقاضا تو یہی ہے کہ نہ اپنے لئے مشکلات پیدا کریں اور نہ ان کی زندگی جہنم بنائیں۔اب اس نے سر نیچے جھکالیا اور سرگوشیوں میں خود سے باتیں کرنے لگی۔ میں نے محسوس کیا اس پر اک مجنونانہ کیفیت طاری تھی۔ ایسی کیفیت جس میں آدمی کا خود پر بھی بس نہیں رہتا، وہ نظریں جھکائے کچھ بڑ بڑا رہی تھی جو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ مجھے اس کی حالت پر ترس آ رہا تھا۔آج میں اک عرصے کے بعد میں ایک ضدی باپ کا انجام ایک زندہ لاش کی شکل میں دیکھ رہا تھا، کیا فائدہ اس جھوٹی انا کا جو اسے اور اس کے خاندان کی عزت اور اس کی لاڈلی بیٹی کے مستقبل کولے ڈوبی۔ میں اس جیتی جاگتی لاش کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کاش ہم بیٹیوں کے احساسات کا احترام کریں ۔خود بھی خوش رہیں اور بچیوں کو بھی خوش دیکھیں۔ تھوڑی دیر بعدہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بھیگتی آنکھوں ایک دوسرے کو اﷲ حافظ کہہ کر چل پڑے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 8 Articles with 2115 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2020 Views: 108

Comments

آپ کی رائے