عدالت عظمیٰ کے درپن میں عدالت عالیہ کا درشن

(Dr Salim Khan, India)

اس کائنات ہستی میں لوگ اپنے نابینا بیٹے کا نام نین سکھ رکھ دیتے ہیں اور گونگے بچے کو تان سین کہہ کر پکارنے لگتےہیں ۔ سدُرشن چینل کے ساتھ بھی یہی ہو ا ۔ جس طرح کا کوکرم (برے کام) اس کا مالکسریش چوہانکے ٹیلی ویژن کے پردے پر کرتا رہتا ہے اس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے چینل کا نام کُدرشن رکھتا لیکن پھر ایک مسئلہ یہ ہوجاتا کہ اس نام کے چینل ناظرین کیوں دیکھتے؟ اورسارا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ اس لیے اس نے سُدرشن نام رکھ دیا یعنی نام بڑے اور درشن کھوٹے والے محاورے پر عمل شروع کر دیا۔ ویسے اگر کُدرشن نہ سہی تو کم ازکم اپنے نام کے مطابق چو درشن رکھ لیتا۔ اس لیے کہ جس طرح ہر روز نت نئے چورن دے دے کر وہ اپنے ناظرین کا پیٹ اور دماغ خراب کرتا رہتا ہے اس پر چینل اسم بالمسمیٰ ہوجاتا۔ شرڈی کے رہنے والے اس نوٹنکی باز کا یک نکاتی منصوبہ مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری افواہ پھیلاکر اپنی مقبولیت بڑھانا ہے۔ ۲۰۱۷ میں یہ جیل بھی جاچکا ہے اور اس پر ایک خاتون اہلکار نے عصمت دری کا الزام بھی لگایا ہے خیر ایسی حرکات اگر سریش جیسافرد نہیں کرےگا تو کون کرے گا؟

پچھلے دنوں سُدرشن چینل نے اتفاق سے ایک ہی دن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اصلی درشن کروادیئے ۔ سدرشن چینل نے اپنے پروگرام ’بنداس بول‘ کی ایک اڑتالیس سیکنڈ کی اشتہاری کلپ جاری کی ۔ اس نفرت انگیز پروگرام کا عنوان ’نوکر شاہی جہاد‘ تھا ۔ اس پربروقت کارروائی کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تو اس نے سرکارکے اس منظور نظر چینل پر نظر کرم کرتے ہوئے حسب توقع چائے سے گرم کیتلی کا معاملہ کیا۔ یعنی مقننہ کی چائے سے زیادہ گرمعدلیہ کی کیتلی نے فرمایا کہ ہم پورا پروگرام دیکھے بغیر روک نہیں لگا سکتے ۔ دنیا کے سمجھدار لوگ خط کا مضموں بھانپ لیتے ہیں لفافہ دیکھ کر لیکن شاید عدالت کو سمجھداری سے کوئی واسطہ نہیں رہا ۔

یہ اصول بھی ہے کہ کسی بورے کے چار دانوں کو چبا کر اس میں موجود اناج کے معیار کا اندازہ لگا لیا جاتا ہے لیکن ہمارے معزز جسٹس چندرچڈ اور جسٹس کے ایم جوزف کی بیچ نے فیصلہ کیا کہ ’’اس مرحلے پر ، ہم نے اڑتالیس سیکنڈ کے ایک کلپ کی غیر تصدیق شدہ نقل کی بناء پر پہلے سے نشریاتی امتناع لگانے سے گریز کیا ہے۔ عدالت کو اشاعت یا خیالات کو نشر کرنے پر پیشگی پابندی نہیں عائد کرنے سےاحتراز کرنا چاہئے۔ "یہ تو ایسی منطق ہے کہ جب تک بم پھٹ نہ جائے ہم اسے ناکارہ نہیں کرسکتے ۔عدالت کو پتہ ہونا چاہیے کہ بم پھٹ جانے کے بعد تو اس کے نقصان پر ماتم کے سوا کچھ کیا ہی نہیں جاسکتا ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جوکام سپریم کورٹ نہیں کرسکا وہ دہلی ہائی کورٹ کے دلیر جج نوین چاولہ نے کردیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے حکم دے دیا کہ ’’سماعت کی اگلی تاریخ تک پیش کی جانے والی گذارشات پر غور کرنے کے بعد ، جواب دہندگان کی نمبر 3 اور 4 (سدرشن ٹی وی اور اس کے چیف ایڈیٹر) کوصبح 8 بجکر 8 منٹ پر ٹیلی کاسٹ ہونے والا پروگرام 'بنداس بول' کے نام سے پروگرام نشر کرنے سے روک رہے ہیں۔ ‘‘۔ اس طرح ٹیلی ویژن پر کند تلوار لہرانے والے اور شکاری بندوق سے ہوئی فائر کرنے والے سریش چوہانکے کی ساری ہیکڑی نکل گئی۔ ان کایوپی ایس سی جہاد اپنے آپ بند ہوگیا اور سدرشن کا ’بنداس بول‘ عدالت کے ایک ڈنڈے سے گول مول ہوگیا ۔ سریش کا دم دبا کر بیٹھ جانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ کاغذی شیر عدلیہ اور انتظامیہ کی شئے پر ہی دہاڑتا ہے ۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے درمیان یہ تفاوت اس سے قبل دہلی فساد کے وقت بھی سامنے آیا تھا ۔ عدالت عظمیٰ دہلی میں واقع ہے اور وہیں فساد ہورہے تھے اس لیے کچھ لوگوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کے علاوہ مزید کچھ احکامات دینے کی درخواست بھی کی۔ان میں فسادات کی تحقیقات کے لیے دلی سے باہر کے افسروں پر مشتمل ایس آئی ٹی بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کی تعیناتی کی گذارش شامل تھی۔ یہ مطالبہ اس قدر فطری تھا کہ جو پولس فساد میں ملوث ہو بھلا اپنے خلاف غیر جانبدارانہ تفتیش کیسے کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فساد میں پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا ۔

اس کے علاوہ متاثرین کو معاوضہ دینے اور پولیس یا نیم فوجی دستوں کے ذریعہ گرفتار ہونے والوں کی فہرست کو عام کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔درخواست گزاروں نے حراست میں لیے گئے لوگوں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور تشدد سے متاثرہ علاقوں اوراسپتالوں وغیرہ میں پکا ہوا کھانا فراہم کرنے، فسادات سے متاثرہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا ۔ان کے علاوہ یہ کہا گیا تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات اور مجرمانہ سلوک کرنے والے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی ذمہ داری ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جانی چاہیے تاکہ ایسے لوگوں کو قانونی طور پر سروس سے برخاست کیا جا سکے۔

یہ نہایت جائز مطالبات تھے لیکن عدالت عظمیٰ نے ان سب کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ :’’عدالت بھی امن چاہتی ہے لیکن اسے ان کے کام کرنے کی حدود کا علم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عدالت صرف اس وقت حکم دے سکتی ہے جب کوئی واقعہ پیش آ چکا ہو۔' یہ وہی سدرشن والی منطق ہے ۔ دہلی پولس کے حوالے تحقیقات کرنے کے جو بھیانک نتائج نکلے ہیں اسے آج ہر کوئی محسوس کررہا ہے اور اس کے سپریم کو رٹ کی بے عملی ذمہ دار ہے ۔ چیف جسٹس نے چکنی چپڑی باتوں سے ٹال مٹول کرتے ہوئے کہا تھا : ’’ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو مرنے دیا جائے۔ لیکن ہمارے پاس اس قسم کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔'ہم واقعات کو رونما ہونے سے نہیں روک سکتے۔ ہم پہلے سے کوئی راحت نہیں دے سکتے۔ ہم ایک قسم کا دباؤ محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ ہم کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد ہی صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں، ہم پر اس قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں۔‘‘

ایک طرف تو عدالت عظمیٰ کی یہ معذوری ملاحظہ فرمائیں اور اس کے برعکس عدالت عالیہ میں جب یہ معاملہ پیش ہوا تو سماعت کے دوران جسٹس مرلی دھر نے بیان دیکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ میں رہتے ہوئے وہ1984 کے فسادات کے واقعے کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ عدالت نے کہا کہ مرکز اور ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کو تشددکے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ملنا چاہئے۔ کیس کی سماعت کے دوران جج نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عام شہریوں کو بھی 'زیڈ زمرہ' سکیورٹی فراہم کی جائے۔فیصلہ سنانے سےپہلے عدالت نے پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے نتائج پر "سنجیدگی سے غور کرنا" چاہئے۔ بنچ نے مزید کہا ، "حکام کو قانون کے مینڈیٹ پر سختی سے عمل کرنا چاہئے عدالت کا کہنا تھا کہ ، کمشنرکو للیتا کماری کے رہنمایانہ خطوط پر عمل کرنا چاہیے تھااور ایف آئی آر درج نہ کرنے پر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ کوئی بھی قانون کے اصول سے بالاتر نہیں ہے۔

عدالت نے پوچھا تھا آپ ایف آئی آر کب درج کریں گے؟ کتنی جانیں ضائع ہوں گی؟ کتنے مکانوں کو آگ لگائی جائیگی؟ عدالت نے مزید کہا تھا کہ کب آپ ایف آئی آر درج کروائیں گے؟ اس وقت کے جب سارا شہر جل چکا ہوگا ؟عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ "آپ ایف آئی آر درج کرکے کسی جرم کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اگر آپ ایف آئی آر درج نہیں کرتے ہیں تو ، آپ کارروائی کیسے کریں گے۔ جتنا آپ مزید تاخیر کریں گے۔ ، یہ تقاریر مزید تشدد کا باعث بنی ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ جب آپ ایف آئی آر درج نہیں کرتے ہیں تو ، غلط پیغام جاتا ہے اور لوگوں کو اس کو دہرانے سے باز نہیں رکھا جاتا ہے۔ کیا یہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہے؟

جسٹس جے مرلی دھر نے اپنے احکامات میں کہا تھا کہ پولیس، مریضوں اور مہلوکین کی آخری رسوم پر لواحقین کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ایک ہیلپ لائن نمبربنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہےوہیں شلٹر ہوم بنانے اور اس میں بنیادی سہولیات جیسے کمبل ، دوائیں ، کھانا اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کرنے کا حکم دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی رہنماؤں انوراگ ٹھاکر ، پرویش ورما ، اور کپل مشرا اور ابھے ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر زور دینے والے عدل پسند جستس مرلی دھر کا راتوں رات تبادلہ ہوگیا اور عدالت عظمیٰ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ اس پتہ چلتا ہے کہ ایک ہی معاملے میں عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے رویہ میں کس طرح زمین اور آسمان کا فرق ہے۔

تبلیغی جماعت کے بارے میں بھی جمیعت العلماء عدالت عظمیٰ سے گہار لگاتی رہی لیکن ٹال مٹول کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔کورونا کی وبا کے درمیان دو اپریل کو پریس انفارمیشن بیورو نے 35 ممالک سے 960 غیرملکیوں کو (جو بھارت میں موجود تھے) کو بلیک لسٹ کرنے کے حکومتی فیصلے کی اطلاع دی تھی، اس کے ساتھ ہی تمام ریاستوں اور مرکزی علاقوں کے ڈی جی پی کو نیز دہلی پولیس کمشنر کو ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔درخواست گزاروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس فیصلے کے بعد چار اپریل کو حکومت نے بھارت میں موجود 2500 غیر ملکیوں کو 10 برس کی مدت کے لیے بھارت کا سفر کرنے پر پابندی لگا دی تھی، لیکن اس کے بارے میں کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ عرضی میں اس فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اب بھی لٹکا ہوا ہے 26اگست کو عدالت عظمیٰ نے وزارت داخلہ کے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 34 غیر ملکی شہریوں کو بلیک لسٹ کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی کاپی مرکز اور ریاست کو دینے کو کہا، اور دونوں سے جواب طلب کیا ہےنیز کیس کی اگلی سماعت 29 جون کو رکھ دی اس طرح کچھوے کی رفتار سے چلنے والے معاملے میں جواب طلب کرنے میں پانچ ماہ لگ گئے ۔ اس کے برعکس ممبئی ہائی کورٹ میں جمیعت کو زبردست کامیابی ملی۔ دہلی اور چنئی کی عدالت عالیہ نے بھی جب جرأتمندانہ فیصلے سنادئیے تو عدل پسند ماہرین قانون کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ اب تو عدالت عظمیٰ کو عدالت عالیہ سے ترغیب لینی چاہیے۔ عدالت عظمیٰ میں تفریق و امتیاز کا یہ عالم ہے کہ اس نے بابری مسجد والے متنازع فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پلک جھپکتے مسترد کردی مگر سبری مالا سے متعلق اپنے ہی فیصلے کو ۹ ججوں کی وسیع بنچ کے حوالے کردیا ۔ فی الحال آسمانں گیتی یہ عجیب منظر دیکھ رہا ہے کہ عدالت عظمیٰ اپنے مقام بلند سے گر کر عدالت عالیہ کے قدموں میں بیٹھی ہوئی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1091 Articles with 380515 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2020 Views: 89

Comments

آپ کی رائے