اﷲ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

(Tanvir Sadiq, Lahore)

استاد کبیر کا ایک شعر ہے ، ’’کبیرا تیری جھونپڑی گل کٹوں کے پاس ۔جو کرن گے، سر پرن گے۔ تو کیوں پھریں اداس‘‘۔بڑا سادا سا شعر ہے ۔ کبیر کہتا ہے کہ تیری جھونپڑی گلا کاٹنے یعنی قاتلوں کے قریب ہے۔ وہ جو کرتے ہیں اس کی سزا پائیں گے مگر تم کیوں اداس پھرتے ہو۔ کبیر کا مشورہ اچھا ہے مگر اس پر عمل کے لئے آدمی کو تھوڑا سا بے غیرت، تھوڑا سا بے حس، کچھ کچھ بے شرم اور بے حیا، دنیا اور حالات سے بے گانہ، سوچ سے عاری اور اخلاقی طور پر پست ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ حکومتی ڈھولوں کی طرح یہ طرز عمل نہیں اپنا سکتے تو میری طرح دنیاوی لحاظ سے نہ صرف ناکام رہتے ہیں بلکہ ذہنی مریض بھی ہو جاتے ہیں۔ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ انسانوں کا ملک ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کردہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ جن کی غیرت اور حمیت فروعی اختلافات پر تو اچھل اچھل کر باہر آتی ہے مگر کسی بڑے انسانی سانحے پر انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ان کی انسانیت، ان کا جذبہ ایمانی ایسے موقعوں پر خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔لوگوں کو احساس ہی نہیں کہ ایسے موقع پر چپ رہنا بد تریں گناہ ہے۔

میرے رسول ؐ نے حضرت عدی بن حاتم کو کہا تھا کہ مدینے کی ریاست میں ایک عورت زیورات پہنے قادسیہ سے مدینے تک سفر کرے گی اور اسے کوئی ڈر یا خوف محسوس نہیں ہو گا۔ اس کے بعد حضرت عدی نے گواہی دی کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسا ہی دیکھا۔یہ مدینے کے زبانی نام لیواؤں کی جعلی ریاست مدینہ ہے جہاں ایک عورت راستے میں جاتے موٹر وے پر لٹ جاتی ہے۔انسانی اور اخلاقی لحاظ سے اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔ نوٹس لے لیا ہے، کاروائی ڈال رہے ہیں۔ اگر یہ مدینے کے غلاموں کی ریاست ہے تو ان ظالم مجرموں کو اب تک عبرت کا نشان بن جانا چائیے تھا۔مگر ایسے موقعوں پر نہ پولیس کام کرتی ہے نہ پولیس کے کیمرے۔غیرت اور حمیت بھی گم ہو جاتی ہے۔ میرے جیسے لوگ دل جلائیں گے اور بس۔ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ بہنیں ، مائیں، بیٹیاں اشرافیہ کی بھی ہوتی ہیں مگر ایک تو ان کی قدریں بڑی مختلف ہیں۔ دوسرا ان کے پاس سرکاری گارڈ ہوتے ہیں،سرکاری وسائل ہوتے ہیں۔ ہماری اشرافیہ بھی مہذب ڈاکوؤں پر مشتمل ہے اسلئے ہر طرح کے ڈاکوؤں کو بھائی بند سمجھ کر لحاظ کرتی ہے۔ اس اشرافیہ کو اﷲسے بھی کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ میں حیران ہوں کرونا کا عذاب ہم سے کیوں ٹل گیا۔ ہم تو عذاب کے سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ اﷲکا نام بھی لیتے ہیں اور دنیا کے بد ترین کام کھلم کھلا کرتے ہیں۔اور یہ کس قدر باعث شرم ہے کہ مسلمانی کا دعویٰ بھی قائم رہتا ہے۔
 
یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے کہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ ایسے واقعات روز ہوتے ہیں۔ گاؤں کے چھوٹے چھوٹے راستوں پر بہت سی غریبوں کی بہنیں اور بیٹیاں لٹ جاتی ہیں۔ ظالم اپنا کام کر کے ہنستے ہوئے چلے جاتے ہیں کہ ان کے خوف اور اپنی مزید بدنامی کے ڈر سے عورتیں بول نہیں سکتیں۔پولیس ایسے واقعات درج کرنے سے گھبراتی ہے۔ عدالتیں انصاف نہیں کرتیں۔ چند وکیل ایسے بھی ہیں جنہیں اخلاق قدروں کی پرواہ بھی نہیں ہوتی۔ انہیں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ان ظالموں کے لئے تحفظ کا پورا اہتمام کرتے اور مظلوم عورتوں سے ایسے سوالات کرتے ہیں کہ پاس کھڑے لوگوں کو شرم آ جاتی ہے۔ میں ایک ایسے کیس کی سماعت کے وقت عدالت میں موجود تھا۔ وکیل صفائی نے بچی سے ایسے سوالات پوچھے کہ مجھے بہت عجیب محسوس ہوا۔ میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ کوئی شخص جس کی اپنی ماں بہنیں اور بیٹیاں ہوں کیسے سرعام اتنے فضول سوال پوچھ سکتا ہے۔تین چار سوالوں کے جواب میں بچی چیخ چیخ کر رونے لگی اور پھر کمرہ عدالت سے بھاگ گئی۔ اس وقت وکیل صفائی نے بڑے معصوم انداز میں جج صاحب کو کہا کہ اس کے پاس میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ اس کی ساری کہانی فراڈ ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ میرا موکل بے گناہ ہے ۔ پتہ نہیں اﷲ کی عدالت نے اس وکیل اور اس جج جس نے وکیل کو اس ذلت آمیز انداز میں بات کرنے پر ٹوکا بھی نہیں کیا فیصلہ دیا ہو گا مگر مجھے یقین ہے کہ اﷲ کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں۔

بڑی عجیب بات کی موٹر وے کو مکمل ہوئے چھ ماہ ہو گئے اس پر ٹریفک رواں دواں ہے مگر موٹر وے پولیس کہتی ہے کہ اسے سپردگی نہیں ملی۔ بڑی احمقانہ بات ہے۔ موٹر وے پر ٹریفک کی روانی کے ساتھ پولیس کا وہاں موجود ہونا لازمی ہے۔اس تسائل کے ذمہ دار موجودہ وزیر اعلیٰ ہیں جو کوئی کام وقت پر نہیں کرتے۔ مشہور ہے کہ اس دور میں صرف وہ کام وقت پر ہوتا ہے جس میں کوئی گھرائیں شامل ہو یا اس کام کو پہیے لگ جائیں۔ موجودہ نیم پاگل لاہور پولیس کا سربراہ ایسا ہی کوئی شاہکار ہے ۔ موٹر وے پولیس مجرم ہے ۔ لاہور پولیس کا سربراہ مجرم ہے اور سب سے بڑھ کر پنجاب کا وزیر اعلیٰ مجرم ہے۔ اگر اب بھی ان لوگوں کے خلاف کوئی ٹھوس کاروائی نہ ہوئی ، ملزم فوری تلاش نہ کئے گئے اور انہیں جلدی سزا نہ دی گئی تو حکومتی کی رہی سہی ساکھ پوری طرح ختم ہو جائے گی۔

عورتوں اور بچیوں کے بارے اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لئے لوگ حکومتی سطح پر فوری انصاف کے خواہاں ہیں۔ انہیں عدالتوں پر اعتبار نہیں۔ عدلیہ اپنا وقار کھو چکی۔ ہمارے جج بک بھی جاتے ہیں اور جھک بھی جاتے ہیں۔عام طور پر مشہور ہے کہ پولیس بھی اندھی ہے اور اس کے کیمرے بھی۔ مگر کوئٹہ میں مجید اچکزئی کے معاملے میں کیمرے نے کھلی آنکھ سے سب دیکھا اور دنیا کو بھی دکھایا مگر اشرافیہ کے ایک تگڑے آدمی کے مقابلے میں جج صاحب یقیناً یا تو جھک گئے ہیں یا بک گئے ہیں ۔ جج اگر کمزور یا کرپٹ نہ ہو تو اتنا بڑا ظلم ، جو ہر طرح کیمرے میں محفوظ ہو ، کرنے کے بعد کوئی کیسے بری ہو سکتا ہے۔مرنے والے پولیس کانسٹبل کے بھائی نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔ اس سادہ دل غریب شخص کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ ملک اشرافیہ کی جنت ہے اورغریب کی کوئی نہیں سنتا۔ یہاں پر اصلاح کے لئے کسی فرانس جیسے انقلاب کی ضرورت ہے۔ حکومت اور چیف جسٹس حضرات کو ایسے کیس کو ٹسٹ کے طور پر لینا اور فوری مداخلت کرکے کیس کا دوبارہ جائزہ لینا اورغریب کو انصاف دلانا ہو گا۔ جس طرح ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے اسی طرح عدلیہ کے ایک فرد کا غلط فیصلہ پوری عدلیہ کی ساکھ کو تباہ و برباد کر رہا ہے ۔لوگ قانون کی کتابوں کو نہیں حقائق کو دیکھتے ہیں۔انصاف اگر ہو تو وہ سب کو نظر آتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 429 Articles with 204476 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
16 Sep, 2020 Views: 119

Comments

آپ کی رائے