*معاشرے میں بڑھتی جنسی درندگی!!!* *مگر قصور وار کون؟؟؟*

(Abdul hanan, OKARA)
*قالم نگار:- حنان باغی*

*Social Motive Account*

*تبدیلی سوچ کی*


*معاشرے میں بڑھتی جنسی درندگی!!!*
*مگر قصور وار کون؟؟؟*

چند دن پہلے موٹروے پر ہویا ایک ڈراؤنا واقعہ جس کو سن کر یہ دل دھک رہ جاتا ہے۔

معاشرے میں بڑھتی اس جنسی درندگی بِہر حال بہت تشویش ناک ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ (Rapist) کو رایپِسٹ بنانے کا زمہ دار کون ہے؟
آے دیکھتے ہیں!!

۔

جنسی تعلیم

*تبدیلی سوچ کی*

چند دن پہلے موٹروے پر ہویا ایک ڈراؤنا واقعہ جس کو سن کر یہ دل دھک رہ جاتا ہے۔

معاشرے میں بڑھتی اس جنسی درندگی بِہر حال بہت تشویش ناک ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ (Rapist) کو رایپِسٹ بنانے کا زمہ دار کون ہے؟
آے دیکھتے ہیں!!

ایک دودھ پیتا بچہ جس کو ماں اپنے سینے لگا کر پروان کرتی ہے۔
یہ لڑکا جب لگ بھگ 8۔10 سال کے درمیان ہوتا ہے بہت سی (Harmonal changes) اس جسم واقع ہوتی ہے۔

یہ بچہ اب ایک بالغ مرد کی طرف گامزن ہے۔ مگر اس دوران اس کے ذہن میں بہت سے سوالات ترتیب ہو ہی رہے ہوتے ہیں کہ اک سوال کہی سے آجاتا ہے۔
کہ ہم پیدا کیسے ہوے؟

مگر جواب دینے والا کوئی نہیں!!
اسی طرح یہ بچہ جب لگ بھگ (16) کا ہوتا ہے اس دوران (Harmonal changes) اس حد تک ہو چکی ہوتی ہے کہ جسم پر واضح دکھائی دینے لگتی ہے۔
مگر ایک سوال پھر سے جنم لیتا ہے ۔
کہ ہمارا مخصوص عضو اس قدر مختلف ہونے کی وجہ کیا ہے؟
مگر یہاں بھی سوال کا جواب دینے والا نہیں۔

کیوں کہ ہمارے معاشرے ہمارے گھروں کے اندر ان چیزوں کے بارے میں گفتگوں کرنا بد تہذیبی اور نہ پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن مگر ایک وقت وہ بھی آتا ہے کہ وہ لڑکا اب سب جان جاتا ہے کہ کیا اور کیا چیز خالق نے بنائی اور اس کا استعمال کیا ہے ۔
اور یقینا اب ً اس کو عملی طور پر جاننے کی اندر کی تاپیش بہت شدت اختیار کر چکی ہوتی ہے ۔
اور کیوں نہ ہو یہ ربِ تعالیٰ کا ہی بنایا ہویا نظام ہے۔

اب بات کرتے ہے جنسی درندگی کو پروان چڑھانے والوں کی!!

یہ کوئی اور نہیں *میں* *آپ* اور *ہم* ہیں۔

انگلستان میں ایک تحقیق کے مطابق معاشرے میں جنسی درندگی بڑھنے کی وجہ نہ تو تنگ لباس صف فہرست ہے اور نہ ہی مردوں کے تنگ اذہان۔

مجودہ تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہے کہ جنسی درندگی میں اضافے کی بیس وجہ Lack of Sexual Education ہے۔

ہمارے گھروں ہمارے محلوں اور نہ ہی ہمارے تعلیمی مدارس میں Sexual Education کیا بلکہ اس کی الف ب سے بھی آشنا نہیں کرایا جاتا ۔

اس کے نتیجہ میں ہمارے ملک کے جوان بچے بچیاں نہ صرف بے روی کا شکار ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی اس قدر نیچے گر چکے ہیں کہ پہناوے کی تمیز اور سوچ کا زاویعہ درست رکھنا بھی اِن کے بس سے باہر ہے۔

اس جنسی درندگی کا خاتمہ نہ ہی مردوں کو گالی دینے اور نہ ہی عورتوں کو گالی دینے سے ہوگا۔
اس کا خاتمہ معاشرے موجود والدین اور اساتزہ کرام سے ہی ہے ۔ وہ بچوں کے نفسانی سوالات کا جواب بھی اسی طرح سے دیں جیسے ُانکے لٙفظّی
کا دیا جاتا ہے۔

اور ہاں!!

اگر یونہی ہی سوشل میڈیا پر کھینچا تانی جاری رہی اور مردوں کو اسی ہی طرح ذلیل اور گالی دیتی جاتی رہی تو جان لیجئے کہ وہ وقت دور نہیں کہ مرد بھی عورتوں ہی کی طرح اپنے حقوقوں کے لیے سڑکوں اور دکھائی دے گے۔

افسوس طلب بات یہ ہے کہ یہ ہم ہی عورتیں ہیں جو مردوں کے دوسرے بیاہ پر بھی سينا پیٹتی ہے ۔
اور کسی اور دوسری عورت کے ساتھ استحصال ہونے پر بھی چیختی دکھائی دیتی ہے۔

Rapist کو شرعی سزا دینا بلکل بجا ہے لیکن اس بات پر بھی تھوڑا نہیں پورا سوچئے گا!!!! کہ مرد کو بھی چار شادیاں کرنے اتنا ہی حق ہے جتنا اُسے سنگسار کرنے کا۔

حکومت وقت معاشرے میں sexual education کی آگاہی مہم چلائے۔ اور ہم محض سٹیٹس لگا کر اپنا حق پورا کرنا سمجھنے کی بجاۓ عملی طور پر اس میں اپنا کردار ادا کرے بچوں کو خود سے جوڑے -

یہی واحد اور بغیر تخریب کاری کہ ایک حقیقی حل ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ Lack of Sexual Education اس حد تک سنجیدگی اختیار کر چکی ہے کہ اس کہ اثرات ازدواجی زندگی پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

امریکا 2015 میں میں ایک تحقیق مطابق (STVIs) جیسے جراثیم کی زیادہ تر موجودگی 15_ 24 سال کے عمر کے بچوں میں پایا گیا۔ جن میں 98% تعداد سٹوڈنٹس کی ہے۔

اس حوالہ سے Gergio School And Coperation نے ایک اچھا اقدام کیا اور امریکا میں sex education کو تعلیمی جزو قرار دیا۔ اس کے بعد امریکا میں اس کے کافی postive نتائج درآمد ہوئے۔

ہمارے معاشرے کو بھی اس اقدام کی سخت ضرورت ہے .

وسلام۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul hanan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Sep, 2020 Views: 53

Comments

آپ کی رائے