تم وہی ہو !

(Dr Tasawar Hussain Mirza, Lahore)

مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ایمان لائے۔ آپ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلے ہی دوست تھے۔حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اکثر ان کے گھر آتے اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے۔
ایک دن حضرت حکیم بن حزام رضی اﷲ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کی ایک باندی وہاں آئی اور کہنے لگی:
''آج آپ کی پھوپھی خدیجہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام تھے۔''
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جونہی حضرت حکیم رضی اﷲ عنہ کی باندی کی یہ بات سنی،چپکے سے وہاں سے اٹھے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ اس پر آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ کو وحی آنے کا پورا واقعہ سنایا اور بتایا کہ آپ کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ نے عرض کیا:
''میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ بلکل سچ کہتے ہیں واقعی اﷲ کے رسول ہیں۔'' ?آپ کے اس طرح فوراً تصدیق کرنے کی بنا پر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔اس بارے میں دوسری روایت یہ ہے کہ صدیق کا لقب آپ نے انہیں اس وقت دیا تھا جب آپ معراج کے سفر سے واپس تشریف لائے تھے مکہ کے مشرکین نے آپ کو جھٹلایا تھا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس واقعہ کو سنتے ہیں فوری طور پر آپ کی تصدیق کی تھی اور آپ نے انہیں صدیق کا لقب عطا فرمایا تھا۔
غرض ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ نے آپ کی نبوت کی تصدیق فوری طور پر کر دی۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا نام نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے عبداﷲ رکھا، اس لیے کہ اس سے پہلے اُن کا نام عبدالکعبہ تھا۔ اس لحاظ سے ابوبکر صدیق وہ پہلے آدمی ہے جن کا نام نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے تبدیل کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ یوں بھی بہت خوبصورت تھے، اس مناسبت سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کا لقب عتیق کر رکھا تھا۔ عتیق کا مطلب ہے خوبصورت اس کا ایک مطلب آزاد بھی ہے۔یہ لقب دینے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ان کی طرف دیکھ کر فرمایا تھا:
'' یہ جہنم کی آگ سے آزاد ہیں۔''
غرض اسلام میں یہ پہلا لقب ہے جو کسی کو ملا۔ قریش میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا مرتبہ بہت بلند تھا آپ بہت خوش اخلاق تھے۔ قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔ شریف، سخی اور دولت مند تھے۔ روپیہ پیسہ بہت فراخ دلی سے خرچ کرتے تھے۔ ان کی قوم کے لوگ انہیں بہت چاہتے تھے۔ لوگ ان کی مجلس میں بیٹھنا بہت پسند کرتے تھے۔ اپنے زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ خواب کی تعبیر بتانے میں بہت ماہر اور مشہور تھے۔ چنانچہ علامہ ابن سیرین رحمہ اﷲ کہتے ہیں:
'' نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ اس امت میں سب سے بہترین تعبیر بتانے والے عالم ہیں۔''
علامہ ابن سیرین رحمہ اﷲ خوابوں کی تعبیر بتانے میں بہت ماھر تھے اور اس سلسلے میں ان کی کتابیں موجود ہے اس کتاب میں خوابوں کی حیرت انگیز تعبیر ہے درج ہیں۔ ان کی بتائی ہوئی تعبیریں بالکل درست ثابت ہوتی رہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس میدان کے ماہر اس بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر تعبیر بتانے والے فرما رہے ہیں۔
ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نسب نامہ بیان کرنے میں بھی بہت ماھر تھے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس علم کے سب سے بڑے عالم تھے۔ حضرت جبیر بن مطعم بھی اس علم کے ماہر تھے، وہ فرماتے ہیں:
''میں نے نسب ناموں کا فن اور علم اور خاص طور پر قریش کے نسب ناموں کا علم حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے ہی حاصل کیا ہے، اس لئے کہ وہ قریش کے نسب ناموں کے سب سے بڑے عالم تھے۔
قریش کے لوگوں کو کوئی مشکل پیش آتی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے رابطہ کرتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ''میں نے جسے بھی اسلام کی دعوت دی اُس نے کچھ نہ کچھ سوچ بچار اور کسی قدر وقفے کے بعد اسلام قبول کیا،سوائے ابوبکر کے، وہ بغیر ہچکچاہٹ کے فوراً مسلمان ہوگئے، ابوبکر سب سے بہتر رائے دینے والے ہیں۔ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے، اپنے معاملات میں ابوبکر سے مشورہ کیا کریں۔
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ وزیر کے درجے میں تھے۔ آپ ہر معاملے میں ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے،نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
''اﷲ تعالٰی نے میری مدد کے لئے چار وزیر مقرر فرمائے ہیں، ان میں سے دو آسمان والوں میں سے ہیں یعنی جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) اور دو زمین والوں میں سے ایک ابوبکر اور دوسرے عمر (رضی اﷲ عنہما)۔''
اسلام لانے سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک خواب دیکھا تھا، خواب میں آپ نے دیکھا کہ چاند مکہ میں اُتر آیا ہے اور اس کا ایک ایک حصہ مکہ کے ہر گھرمیں داخل ہو گیا ہے۔ اور پھر سارے کا سارا ابوبکر رضی اﷲ والوں کی گود میں آ گئا۔ آپ نے یہ خواب ایک عیسائی عالم کو سنایا۔ اُس نے اس خواب کی یہ تعبیر بیان کی کہ تم اپنے پیغمبر کی پیروی کرو گے جس کا دنیا انتظار کر رہی ہے اور جس کے ظہور کا وقت قریب آگیا ہے اور یہ کہ پیروں کاروں میں سے سب سے زیادہ خوش قسمت انسان ہو گے۔
ایک روایت کے مطابق عالم نے کہا تھا:
''اگر تم اپنا خواب بیان کرنے میں سچے ہو تو بہت جلد تمہارے گاؤں میں سے ایک نبی ظاہر ہوں گے، تم اس نبی کی زندگی میں اس کے وزیر بنو گے اور ان کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہوؤ گے۔''
کچھ عرصہ بعد ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ کو یمن جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ یمن میں یہ ایک بوڑھے عالم کے گھر ٹھرے۔ اس نے آسمانی کتابیں پڑھ رکھی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ کو دیکھ کر اس نے کہا:
میرا خیال ہے، تم حرم کے رہنے والے ہو اور میرا خیال ہے، تم قریشی ہو اور تیمی خاندان سے ہو۔''
ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جواب میں فرمایا:
''ہاں! تم نے بالکل ٹھیک کہا۔''
اب اس نے کہا:
''میں تم سے ایک بات اور کہتا ہوں… تم ذرا اپنا پیٹ پر سے کپڑا ہٹا کر دکھاؤ۔'' حضرت ابو بکر صد یق اس کی بات سن کر حیران ہوئے اور بولے:
''ایسا میں اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک کہ تم اس کی وجہ نہیں بتا دو گے۔''
اس پر اس نے کہا:
''میں اپنے مضبوط علم کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ حرم کے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے - ان کی مدد کرنے والا ایک نوجوان ہوگا اور ایک پختہ عمر والا ہوگا، جہاں تک نوجوان کا تعلق ہے، وہ مشکلات میں کود جانے والا ہوگا، جہاں تک پختہ عمر کے آدمی کا تعلق ہے، وہ سفید رنگ کا کمزور جسم والا ہوگا - اس کے پیٹ پر ایک بال دار نشان ہوگا - حرم کا رہنے والا، تیمی خاندان کا ہوگا اور اب یہ ضروری نہیں کہ تم مجھے اپنا پیٹ دکھاؤ، کیونکہ باقی سب علامتیں تم میں موجود ہیں -
اس کی اس بات پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا ہٹادیا - وہاں ان کی ناف کے اوپر سیاہ اور سفید بالوں والا نشان موجود تھا - تب وہ پکار اٹھا:
''پروردگارِ کعبہ کی قسم! تم وہی ہو۔''
( حوالہ سیرت النبی ﷺ از عبداﷲ فارانی باب نمبر 18 )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza

Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 257 Articles with 145299 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2020 Views: 257

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ