کیا پاکستان بھی کرونا وائرس کی دوسری لہر کا شکار ہونے والا ہے؟ کرونا وائرس کے سبب دوبارہ لاک ڈاؤن کی خبریں افواہ یا حقیقت

 
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس نے کرونا وائرس کے سبب ہونے والے حالات کا مقابلہ بہت حکمت عملی سے کیا جس کے سبب اس کے متاثرین کی تعداد میں ماہ اگست میں واضح کمی دیکھی گئی- یہاں تک کہ دس اگست سے ملک بھر میں لاک ڈاون کی پابندیوں کو مریضوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے سبب خصوصی ایسی او پیز کی پابندی سے نرم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس کے بعد 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے اور شادی ہال وغیرہ بھی کھول کر کاروبار زندگی کو احتیاط کے ساتھ جاری رکھنے کے احکام جاری کر دیے گئے-
 
ماہ اگست میں کرونا کی صورتحال
یکم اگست کو کرونا وائرس کے متاثر افراد کی تعداد ایک ہزار پانچ تھی جو کہ دس اگست تک 539 تک پہنچ گئی جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ کرونا وائرس کے ملک میں متاثرہ افراد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی تھی- اسی سبب حکام نے عوام پر سے لاک ڈاون کی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا 31 اگست میں یہ تعداد صرف 231 افراد تک رہ گئی جس نے یہ ثابت کیا کہ حکومت کا لاک ڈاون ہٹانے کا فیصلہ درست تھا- مگر حکومتی افراد کی جانب سے بار بار یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ کرونا کم ضرور ہوا ہے ختم نہیں ہوا لہٰذا ایس او پیز کےاوپر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے مگر عوام نے اس بات کو کسی طرح کی بھی اہمیت نہ دی-
 
 
ماہ ستمبر میں کرونا کی صورتحال
یکم ستمبر کو کرونا کے مریضوں کی تعداد 300 تھی جو کہ ماہ اگست کے مقابلے میں زیادہ تھی مگر بہت زیادہ نہ تھی اس وجہ سے لوگوں نے اس بڑھتی ہوئی تعداد کو خاص اہمیت دی جس کے سبب سولہ ستمبر تک یہ تعداد 665 افراد تک جا پہنچی اور بیس ستمبر کو بھی مزید 640 نئے مریض رپورٹ ہوئے- ماہ ستمبر میں مریضوں کی تعداد میں اس اضافے نے حکومتی حکام میں تشویش کی لہر دوڑا دی یہاں تک کہ حکومت سندھ نے تعلیمی اداروں کے کھلنے کے دوسرے مرحلے کو جو کہ 21 ستمبر سے کھلنے تھے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا-
 
 
کیا ملک میں دوبارہ لاک ڈاون لگ سکتا ہے؟
کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام کے اندر دوبارہ سے اس خیال کو پیدا کر دیا ہے کہ کیا ملک میں دوبارہ سے کرونا وائرس کی دوسری لہر کے سبب لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے مختلف افواہیں بھی جنم لینے لگیں- لیکن ہمارے سامنے دنیا کے کئی ممالک کی مثال سامنے ہے جس میں سب سے واضح مثال برطانیہ کی ہے جہاں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے سبب دوبارہ سے لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری شروع کی جا چکی ہے- مگر برطانیہ کی عوام کی جانب سے اس حوالے سے شدید احتجاج سامنے آرہا ہے اور وہ لوگ لاک ڈاون کی شدید مخالفت کر رہے ہیں- دوسری جانب ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا بھی ایک بیان بہت واضح ہے کہ ہمارا ملک اور اس کی معیشت ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے-
 
 
اس حوالے سے حکام مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاون کے آپشن پر کام کر رہے ہیں اور صرف ان علاقوں میں لاک ڈاؤن لگانے کے حق میں ہیں جہاں کہ مریضوں کی تعداد زیادہ ہو- مگر یہ سب صرف اسی وقت ممکن ہے کہ جب کہ عوام ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کریں ان کے تعاون کے بغیر اس بیماری کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا آنے والے وقت میں لاک ڈاؤن کا لگنا اور نہ لگنا مکمل طور پر ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
20 Sep, 2020 Views: 2850

Comments

آپ کی رائے