ماں کی حسیں یادیں

(Iftikhar Ahmed, Karachi)

یہ میرے بچپن کا قصہ ہے- اس وقت میری عمر دس سال ہو گی - میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ کیرم کهیل رہا تھا- کہ اچانک میری بہن کو کیا سوجھا کہ وہ کیرم کی گوٹ لے کر بھاگنے لگی -

میں بھی اس کے پیچھے بھاگا - بھاگتے بھاگتے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ زمیں پر گر پڑی - اتفاق سے اسی وقت میرے والد صاحب بھی آ گئے - انہوں نے یہ سارا منظر دیکھا تو غصے میں آ گئے - اور مجھے دو چانٹے جڑ دئیے - اس سے پہلے کبھی میری پٹائی نہیں ہوئی تھی - اور نہ کبھی اس کے بعد ہوئی - خیر میں روتے ہوۓ اپنی امی کے پاس گیا - اور ساری کہانی سنائی کہ میں نے بہن کو نہیں گرایا وہ تو خود بھاگ رہی تھی - اور اس کا پاؤں پھسل گیا تھا - اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا - اس پر میری امی نے چھوٹی بہن کی پٹائی کر دی - اور حساب برابر ہو گیا -

لوگوں کا بچپن اس قسم کے واقعات سے بھرا ہوتا ہے - اب تو میرے والدین الله کو پیارے ہو چکے ہیں - اور میری بھی شادی ہو چکی ہے - اور میری بہن کی بھی - بس ماں باپ کی حسین یادیں باقی رہ گئی ہیں - کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
"دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند وہ ہے جس کی ماں زندہ ہے –"
یہ حقیقت ہے کہ ماں کے ہوتے ہوۓ کسی کمی کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے - ماں وہ انمول ہستی ہے - جس کا کوئی مول نہیں - ماں کے دوپٹے کی خوشبو ہی الگ ہوتی ہے - بعض رشتوں کا نعملبدل نہیں ملتا - اور ایسے رشتوں میں سر فہرست ماں کا رشتہ ہے - ماں کی ایک عادت الله تعالیٰ سے بہت ملتی ہے - "دونوں ہی معاف کر دیتے ہیں –"
ماں بیشک زیادہ پڑھی لکھی نہ بھی ہوں - پر دنیا میں ہر ضروری بات ہم ماں سے ہی سیکھتے ہیں - کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
خوبصورتی کی انتہا میں نے دیکھی
جب مسکراتے ہوۓ میں نے اپنی ماں دیکھی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iftikhar Ahmed

Read More Articles by Iftikhar Ahmed: 30 Articles with 29283 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Sep, 2020 Views: 341

Comments

آپ کی رائے