صبح کی تاریکی سے سے رات کے اجالے تک کا سفر

(FAIZAN AKHATR, RAWALPINDI)

دور حاضر میں آپ کو ان گنت ایسے اشخاص ملیں گے جو دن کو رات اور رات کو دن سمجھ کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور کیوں نہ گزاریں !! اپنے مالی حالات، گھریلو زندگی میں سکون ، معاشی بہتری اور ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی صحت کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہوئے اصول زندگی ( یعنی دن کام کے لیے اور رات آرام کے لیے) کے خلاف جا کر اپنی زندگی گزار رہے ہیں درج بالا سطروں میں ان لوگوں کا ذکر اس لیے کرنا ناگزیر ہے کیونکہ کالم کا آگے آنے والا حصہ ان لوگوں کے لئے نہیں جو اس مقصد کے تحت اپنی اپنی زندگیوں میں مشغول ہیں بلکہ بلکہ یہ کالم ان نوجوانوں کے لیے ہے جو صرف اور صرف اپنی ذہنی سکون جسمانی آرام اور ذاتی آسانی کے لئے رات کو دیر تک جاگتے ہیں اور صبح دیر تک سوتے ہیں میری نظر میں یہ صرف ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ ایک بیماری یعنی (addiction) ہے جس سے چھٹکارا پانے کیلئے سب سے پہلے تو آپ میں قوت خود ارادیت اور خود اعتمادی کا ہونا بہت ضروری ہے_

بہت سے بزرگوں اور مفکروں نے گھروں میں بے برکتی اور فاقوں کی نوبت تک کے آ جانے کی وجہ صرف اور صرف اس بات کو قرار دیا ہے;

رات دیر تک جاگتے رہنا اور صبح دیر تک سوتے رہنا محترم قارئین زندگی لمحوں کو گزارنے اور رزق کو تلاش کرنے اور ایک اچھا لائف سٹائل کے حصول کی دوڑ کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر جھانکنا اور اپنی اندرونی مخفی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں میں بروئے کار لانا ہی اصل زندگی کا نہ صرف مقصد ہے بلکہ لطف زندگی بھی اسی میں مضمر ہے_ اس بری لت کی ممانعت تو ہمارے دین اسلام نے آج سے کئی صدیوں پہلے ہی کر دی تھی مگر ہم مسلمان اپنی زندگی کی عارضی دوڑ میں اس قدر تیزرفتاری اختیار کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس اسلامی تعلیمات تو کیا اپنے ماضی پر بھی نظر دوڑانے کی فرصت نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے قرآ نی و دینی تعلیمات کو چھوڑا اور ان کی طرف غفلت برتی تو ناکامی اور نامرادی ہمیشہ ان کا مقدر بنی_
بقول اقبال ;
¥ تم زمانے میں معزز ہوئے مسلمان ہو کر
تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر اس بری لت کا الزام ا صر ف ایک ٹیکنالوجی پر ڈال لیا جاتا ہے مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں ہمارے ہی ہاتھوں سے کنٹرول کیا جا رہا ہے ہمیں ہمارے ہیں دماغ سے ہماری سوچ سے کنٹرول کیا جا رہا ہے ہماری حیثیت صرف ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ جو دکھائی تو کچھ اور دیتی ہے مگر اس کی ڈور کہیں اور سے ہلائیں جا رہی ہوتی ہے -
ٹیکنالوجی کو ایک حد تک الزام تو دیا جاسکتا ہے مگر اپنی حالت کا مکمل انحصار اس ٹیکنالوجی پر ڈال دینا درست نہیں کیونکہ کیونکہ ہر ایک شخص یہ بات جانتا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف ان لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں اور نہ ہی ٹیکنالوجی پر صرف ان ہی لوگوں کی دسترس ہے جو رات کو دیر تک جاگتے اور صبح دیر تک سونے ہیں بلکہ ہماری قوم اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہم سے زیادہ یہودی اور اور غیر مسلم افراد کرتے ہیں اور انہیں ہم سے زیادہ دسترس بھی ہے مگر انہوں نے کبھی ان شیطانی قوتوں کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا اور ہم بھولے بھالے لوگ فورن اپنے ماضی, اپنی دینی تعلیمات, اور اپنے بزرگوں کے اقوال کو بھلا کر سارا ملبہ دور حاضر کے رسم و رواج یا ٹیکنالوجی پر ڈال دیتے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ہے آپ کے ساتھ‼️ جی ہاں آپ کے ساتھ- اگر آپ بھی رات کو دیر تک جاگتے ہیں اور صبح دیر تک سوتے ہیں تو یقین جانیے اس میں قصور صرف اور صرف آپ کا ہے - اپنی اس عادت کو آپ ہی بدل سکتے ہیں کوئی بیرونی قوت آپ کو نہ ہی یہ عادت بدل نے پر مجبور کر سکتی ہے اور نہ ہی ایسا کر سکتی ہے لہذا اپنا خیال کریں -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: FAIZAN AKHATR

Read More Articles by FAIZAN AKHATR: 2 Articles with 338 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2020 Views: 190

Comments

آپ کی رائے