گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کی یادیں

(Aslam Lodhi, Lahore)

ڈاکٹر نذیر احمد بلاشبہ ایک درویش صفت اور صاحب علم و دانش انسان تھے ،ان کی شہر ت گورنمنٹ کالج لاہور کے حوالے سے ہوئی ۔جہاں وہ پرنسپل کی کرسی پر براجمان تھے ،اسی کرسی پر بیٹھنے والوں کی گردنوں میں ہمیشہ سریا پھنسا رہتا تھا لیکن جب یہ درویش صفت انسان پرنسپل کی کرسی پر بیٹھا تو وہ کرسی اساتذہ اور طلبہ کے لیے یکساں ہر دلعزیز ہوگئی ۔پرنسپل آفس کا وہ رعب دبدہ اور جاہ جلال جو پہلے ہوا کرتا تھا اس سیدھے سادے انسان نے اس کرسی کی عزت میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ اپنی منکسرانہ طبیعت کی بدولت چار چاند لگا دیئے ۔آج گورنمنٹ کا لج لاہور کا جہاں نام آتا ہے تو پسندیدہ پرنسپل کی حیثیت سے ڈاکٹر نذیر احمد کا نام ہی آتا ہے ۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اعلی حکام کے درباروں اور بنگلوں میں کبھی نہ دیکھے گئے بلکہ جب بھی نظر آئے ،اپنے اساتذہ اور طلبہ کے درمیان نظر آئے ۔کہاجاتا ہے کہ وہ شیرانوالہ گیٹ لاہور کے عظیم درویش حضرت مولانا احمد علی ؒ سے فیض حاصل کیا کرتے تھے جو نصف صد ی تک لاہورکے شہریوں کو سچائی اور محبت کا درس دیتے رہے ۔ یہ درس محبت ہی تو تھا جو ایک شفیق باپ کی طرح انہیں مجبورکرتا کہ صبح سویرے نامکمل شیو کی حالت میں نیکر پہنے سائیکل پر سوار مال روڈ پر جا پہنچتے اور حکومت کے خلاف اپنے کالج کے طلبا کے احتجاجی جلوس کو واپس کالج میں لے آتے ۔کہ کوئی طالب علم پولیس کی گولی اور لاٹھی سے زخمی نہ ہوجائے۔انہوں نے اپنے دور میں کبھی پولیس کو کالج میں داخل نہ ہونے دیا۔وہ حقیقی معنوں میں اساتذہ،سٹاف اور طلبہ کے باپ تھے ۔ان کے دل میں سب کے لیے بے پنا ہ محبت تھی جس کا اظہاروہ اکثر و بیشتر مواقعوں پر کیاکرتے تھے ۔وہ انتہائی بحران کے موقع پر بھی اعلی اخلاقی جرات اور فہم وفراست کا ثبوت دیتے رہے۔اس بات کا کریڈٹ انہیں جاتا ہے کہ ایک غیر مستحق طالب علم کو جنرل ایوب خان کے مارشل لائی دور کے سخت گیر گورنر امیرمحمد خان کی سفارش پر داخلہ دینے سے انکا ر کردیا۔اس کی پاداش میں اپنا تبادلہ گوارا کرلیا لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا ۔کالج کے طلبہ "ہمارے باپ کو واپس لاؤ " کے نعرے لگاتے ہوئے سڑک پر نکلے آئے اور حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ گورنر کو انکا تبادلہ منسوخ کرناپڑا ۔جب تبادلہ منسوخ ہوا تو طلبہ اس درویش صفت انسان کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر خوشی سے ناچتے ہوئے کالج کے پرنسپل آفس میں واپس لائے ۔گورنمنٹ کالج کی تاریخ میں اتنی محبت شاید ہی کسی پرنسپل کو ملی ہو۔ ڈاکٹر آفتاب احمد خاں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر سید نذیر احمد شاہ (ان کا پورا نام یہی تھا ) زوآلوجی کے پی ایچ ڈی تھے یعنی ماہر حیوانات ۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی انہوں نے اس مضمون میں اعلی درجہ کی ڈگریاں حاصل کیں اور اسی کی تعلیم و تدریس کے پیشے کو اپنایا ۔لیکن ان کی دلچسپیوں کا مرکز ہمیشہ حیوان ناطق ہی رہا۔ اسی کے نطق ولب ،خیال وفکراور دست بازو کے کارناموں کو وہ سراہتے رہے اور اسی خلوص و محبت کے رشتے قائم کرتے رہے۔ڈاکٹر نذیر احمد اسلامیہ کالج کے پرانے طالب علم تھے جہاں وہ چودھری محمد علی (جو وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز رہے) کے ہم جماعت تھے ۔1930ء کی دہائی کے وسط میں ڈاکٹر صاحب انگلستان گئے جہاں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ،دنیا نے انہیں انگلستان کی سڑکوں پر بھی سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا ۔سائیکل سواری کی عادت زندگی کی آخری سانس تک ان کے ساتھ رہی ۔سادگی، ان کے رہن سہن کے طریقے اور لباس میں بھی نمایاں تھی ۔ گرمیوں میں کھدر اور لٹھے کا سفید کرتا اور شلوار ۔پاؤں میں ملتانی کھسا یا پشاوری چپل ۔سردیوں میں اس لباس کے ساتھ شیروانی یا ٹویڈ جیکٹ اور پتلون اور ایک ڈھیلی ڈھالی پرانی ٹائی ۔پاؤں میں موزوں کے ساتھ وہی پشاوری چپل ،البتہ کرکٹ کھیلتے ہوئے سفید قمیص پتلون کے ساتھ فلیٹ شوز پہن لیتے تھے۔ڈاکٹر نذیر احمد کا تعلق خاندان سادات سے تھا ، آپ 19دسمبر 1905ء میں لاہور میں پیدا ہوئے ۔کلکتہ یونیورسٹی سے ایم ایس سی حیاتیات (بیالوجی) کا امتحان درجہ اول میں پاس کیا پھر لندن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور دسمبر 1954ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تشریف لائے اور ریٹائرمنٹ تک اسی کالج میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ۔1959ء میں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1965ء میں اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔ڈاکٹر صاحب نے دفتری اصطلاحات و محاورات کی لغت (اردو، انگریزی ) کلام بلھےؒ شاہ، کلیات حضرت شاہ حسین ؒ اور کلیات حضرت سلطانؒ باہوکی تحقیقی اور تزئینی اشاعت کروائی ۔ان کے علاوہ شرح کلیات غالب (فارسی ) از صوفی تبسم بھی شائع کی ۔ ان کی یہ تحقیقی و تدوینی خدمات اردو اور فارسی ادب میں گراں قدر اثاثہ ہیں ۔پنجاب کے تین صوفی شاعر بلھے شاہ ، شاہ حسین اور سلطان باہو کے کلام کی تحقیق وتزئین ان کا سدا بہار کارنامہ ہے، جسے پنجابی ادب میں سند کا درجہ حاصل ہے ۔عمرکے آخری حصے میں ڈاکٹر صاحب کو گردوں کی خرابی کا مرض لاحق ہوا۔اس مرض کی شدت بڑھی تو صاحب فراش ہوگئے۔اس عظیم استاد اور بہترین انسان ڈاکٹر سید نذیراحمد شاہ 13اگست 1985ء کو دنیا سے رخصت ہوئے ۔انہیں بیدیاں روڈ نزد بھٹہ چوک "باغ رحمت " کے قبرستان میں دفن کیاگیا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 535 Articles with 254328 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2020 Views: 137

Comments

آپ کی رائے