داستان علم فروشوں کی

(Muhammad Kamran Khakhi, Lahore)

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ یہ کیا ٹائٹل دیا کیوں کہ ہم نے "داستان ایمان فروشوں کی "تو سنا ہے جو کہ نسیم حجازی صاحب کا ایک لازوال علمی سرمایہ ہے مگر آج کل ایمان تو برائے نام رہ گیا ہےاس لیے اس کاروبار میں گھاٹا بہت ہے اور ہم نے سنا تھا کہ علم ایک لازوال دولت ہے اور اس دولت کو لوٹنا ہمارا حق، یہ بانٹنے سے بڑھتا ہے، ہم بھی بانٹ تو رہے ہیں مگر مفت تو نہیں اتنا بڑا خزانہ دیا جاتا نا اسی لیے بڑے مہنگے داموں فروخت جاری ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ ملک میں کرونا کی صورتحال کی وجہ سےتمام سکول ،کالج اور یونیورسٹییز بند تھے جس کی وجہ سے کئی پرائیویٹ سکولوں و کالجوں نے اپنے سٹاف کی چھٹی کرا دی اور کئی لوگ بے روزگار ہوگئے۔ ابھی کچھ دن پہلے مجھے ایک صاحب کا فون پر پیغام موصول ہوا جن سے میرا تعلق صرف اس حد تک تھا کہ بچوں کو سکول چھوڑنے جاتا تو کچھ دیر ان سے ملاقات ہو جاتی اور سلام دعا ہوجاتی تھی کیونکہ موصوف بچوں کے سکول کے ساتھ متصل کالج میں لیکچرر تھے اور فزکس میں ایم-فل کیا ہوا تھا۔کافی دلچسپ قسم کے انسان ہیں اور میری طرح کرایہ کے مکان میں اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں۔ ان کا پیغام تھا کہ "اگر ہو سکے تو کچھ رقم کا بندوبست کر دیں اشد ضرورت ہے"۔ یہ پیغام پڑھ کر میں چکرا کر رہ گیا کیونکہ مجھے یہ پیغام بھیجنے کا مطلب تھا کہ موصوف اپنے تمام دوستوں اور رشتہ داروں سے نا امید ہو کر مجھ جیسے واجبی سے تعلق دار کو پیغام بھیج رہے ہیں۔ میرے فون کرنے پر پتا چلا کہ انہیں بھی کالج نے نکال دیا تھا جس کی وجہ سے پچھلے چھ ماہ سے بے روزگار ہیں اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے اور نئی نوکری ابھی ملی نہیں۔ میرے پوچھنے پر کہ آپ تو ایک قابل لیکچرر تھے اور آپ کے خلاف تو کبھی کوئی بات ہی نہیں سنی جو قابل اعتراض ہو پھر اب تو سکول اور کالج بھی کھل گئے ہیں تو دوبارہ اسی کالج میں جاب کیوں نہیں کی؟ اور اس سوال کے جواب نے مجھے حیران کر دیا کہ اب کالج انتظامیہ نے فریش سٹاف بھرتی کیا ہے کیوں کہ ایک تو انہیں کم تنخواہ دینی پڑے گی اور ان سے کام بھی ایک کی بجائے دو اساتذہ کا لیا جا رہا ہے مطلب جہاں پر دس اساتذہ کی ضرورت ہو وہاں پر پانچ سے کام چلایا جا رہا ہے،ان کی تعلیم کم بھی ہو تو چلے گی۔

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بچوں کے سکول اور کالج کھل گئے ہیں اور تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے مگر ان پرائیوٹ سکولوں اور کالجوں نے اس دوران بچوں کی فیس میں نہ کمی کی نہ ہی ان چھ مہینوں کی فیس معاف کی بلکہ پوری پوری فیس تو وصول کی مگر اپنے آدھے سے زیادہ سٹاف کو نوکری سے فارغ کر دیا تاکہ تنخواہ نہ دینی پڑے اور اس طرح اس وبا کے دوران بھی ان کی آمدنی دوگنی ہو گئی جبکہ بے روزگار ہونے والے اساتذہ بھوک سے مرنے لگے۔ جب والدین نے احتجاج کیا کہ پڑھائی تو ہو نہیں رہی بچے گھر میں بیٹھے ہیں تو فیس کیوں وصول کی جارہی ہے تو سکول و کالج انتظامیہ کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ جی ہم نے آن لائن کلاسیں شروع کر دی ہیں اور اگر آپ فیس نہیں جمع کرائیں گے تو آپ کے بچے کو سکول و کالج سے نکال دیا جائے گا ۔ اب چاہے کسی کے پاس انٹر نیٹ کی سہولت ہے یا نہیں مگر فیس تو دینی پڑے گی۔ کچھ لوگوں کے لیے اس وباء نے فائدہ ہی فائدہ کیا ہے اور کچھ کی جان کے لالے پڑ گئے۔ کیا اس ملک میں کوئی پوچھنے والا نہیں کہ غریب پر کیا ظلم ہو رہا ہے؟اعلانا ت تو بہت ہوئے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔اب حکومت یکساں نصاب کی بات تو کر رہی ہے مگر کیا اس سےاس نظام پر بھی کوئی فرق پڑے گا؟ ایک فزکس جیسے مضمون میں ایم-فل کو بھی نوکری کے لیے دھکے کھانے پڑِیں تو یہ ایک المیہ ہے کہ ہم اپنے بہترین دماغ ضائع کر رہے ہیں اور ان لوگوں سے کام لے رہے ہیں جو اس قابل ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مادر علمی جیسے اداروں میں بھی آج بچے محفوظ نہیں۔

ہم نے تعلیم کو ایک کاروبار بنا دیا ہےیعنی ان سکولوں اورکالجوں نے بچوں سے فیس تو پوری لینی ہے اور ان کی کتابوں ،کاپیوں ،بستوں سمیت ان کا یونیفارم، جوتے، جرابیں تک بھی سکول والوں سے خریدنی پڑتی ہے، اس سے بھی منافع الگ ۔ان علم فروشوں کے بنائے ہوئے کارخانوں میں علم ملے یا نہ ملے مگر ان کے مالکوں کے اکاونٹ ضروربڑھتے جائیں گے۔ ان میں اساتذہ کو پڑھانا آتا ہو یا نہ آتا ہو مگر وہ بچوں اور ان کے والدین کو بے وقوف بنانے کے فن میں طاق ہونے چاہییں۔ اسی لیے نسلوں کے ان معمار وں سے جو نسل تیار ہوتی ہے وہ علم کے حقیقی معنوں سے بہروہ ور ہی نہیں ہو پاتی اور معاشرہ میں تعمیری کاموں کی بجائے وہ بھی پیسہ کمانے والی مشینیں بن جاتے ہیں اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہمیں اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کل کو ایک معماری معاشرہ تشکیل پا سکے ورنہ اس معاشرہ میں بڑھتے ہوئے جرائم اور بڑھتے جائیں گے اور ہم گناہوں کی دلدل میں اور گرتے جائیں گے اور ہم اخلاقی پستی میں گرتے جائیں گے۔ ہمیں ان اساتذہ کا انتخاب کرنا ہوگا جن کا کردار مضبوط ہو کیونکہ ایک وہی ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو اس معاشرہ کی ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کر سکیں۔ بقول شاعر:
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Kamran Khakhi

Read More Articles by Muhammad Kamran Khakhi: 14 Articles with 2958 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2020 Views: 254

Comments

آپ کی رائے