آج کا ادھا سچ

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
عمران خان جو خود سپورٹس کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور کھیلوں کے فروغ کے دعوے نہ صرف وفاق بلکہ صوبے کی سطح پر بھی کئے جاتے ہیں لیکن مختلف کھیلوں کا حال اخبارات میں شائع ہونیوالی خبروں سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کسی بھی اخبار کاسپورٹس پیج نکال کر دیکھ لیں . مختلف ایسوسی ایشنز اور سرکاری اداروں کی جانب سے کرلیں گے ہو جائے گا کے بیانات ہی سامنے آئیں گے اور اس میں بھی زیادہ تر شخصیات کی تصاویر اور خبریں ہونگی کیونکہ اس طریقے سے لوگوں سے فائدے زیادہ اٹھائے جاسکتے ہیں.
لوگ ایک دوسرے پر کیوں حاوی ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یا تو حاوی ہونیوالا شخص اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے یا پھر دوسری صورت میں دوسرا فریق انتہائی کمزور ہوتا ہے اور اسے اپنی آپ کو ان رکھنے کیلئے کسی کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہیں اس لئے وہ عقل کل سمجھنے والوں کی محتاجی کرتا رہتا ہے. اسی عمل میں سب سے زیادہ فائدہ عقل کل سمجھنے والا ہی اٹھاتا ہے .
بات کچھ زیادہ ہی لمبی ، سنجیدہ چلی گئی حالانکہ آج کا بلاگ ہلکے پھلکے انداز میں اور کھیلوں کے میدان میں کھیلے جانیوالے کھیل کا ہے جس میں بیشتر سٹاک ہولڈر ایک دوسرے کے ساتھی بنے ہوئے ہیں.کھیلوں کی میدان میں سب سے زیادہ مزے ان لوگوں کے ہیں جوکچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی عقل کل بنے ہوئے ہیں پی سی بی سے لیکر کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کھیلوں کی سرپرستی کرنے والے ادارے اور ہمارے اپنے صحافی اس کھیل میں اس حد تک لتھڑ چکے ہیں کہ اب ہر کوئی اپنے مفاد کیلئے ایک دوسرے کو کمزور بنا کر اپنے لئے پیداگیری کی صورتحال بنا رکھی ہیں اور ہر کوئی بس مال بنائو کی فکر میں مصروف عمل ہیں.
عمران خان جو خود سپورٹس کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور کھیلوں کے فروغ کے دعوے نہ صرف وفاق بلکہ صوبے کی سطح پر بھی کئے جاتے ہیں لیکن مختلف کھیلوں کا حال اخبارات میں شائع ہونیوالی خبروں سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کسی بھی اخبار کاسپورٹس پیج نکال کر دیکھ لیں . مختلف ایسوسی ایشنز اور سرکاری اداروں کی جانب سے کرلیں گے ہو جائے گا کے بیانات ہی سامنے آئیں گے اور اس میں بھی زیادہ تر شخصیات کی تصاویر اور خبریں ہونگی کیونکہ اس طریقے سے لوگوں سے فائدے زیادہ اٹھائے جاسکتے ہیں.
کسی بھی اخبار میں خواہ وہ لوکل ہو یا قومی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر .کسی بھی ایونٹ کی کوریج میں زیادہ سے زیادہ پوائنٹس یا کسی ٹاپ پوزیشن کھلاڑی کی تصویرہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں کے اخبارات میں اس طرح کا کوئی رواج نہیں ، ریکارڈکی بات ہو یا کوئی نیا پروگرام تو زیادہ تر بیرون ممالک کی سٹوریز ہی ہونگی جبکہ اپنے مقامی طور پر شخصیات کو گلیمرائز کرنے کا عمل ہم صحافی ہی کرتے رہے ہیں اس عمل میں سب سے زیادہ غلط کردار صحافیوں کا ہی ہے جو مخص ذاتی مقاصد کیلئے اس طرح کی حرکات کرتے ہیں.
اس مخصوص عمل سے فائدہ اٹھانے والے افراد اب اتنے نازک مزاج ہوگئے ہیں کہ وہ ہر شخص کی زبان اور قلم سے اپنی پسند اور خوشامد کی باتیں سننا پسند کرتے ہیں جو ان سرکاری ملازمین اور ایسوسی ایشنز کو " سب اوکے"کرکے کہہ دیتے ہیں اور اگر کوئی سچ لکھنے کی ہمت کرتا ہے تو پھریہ چیزیں برداشت نہیں ہوتی. حالانکہ یہ سرکار کے نوکر ہیں اور سرکار کے نوکروں کو عوام ہی ٹیکسوں کا پیسہ ملتا ہے ، خواہ وہ شخص گیٹ کیپر ہو یا گریڈ انیس کا کوئی اہلکار. رہی ایسوسی ایشنز کی بات تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت کو ترمیم کے نتیجے میں ملنے والے اختیارات کے بعدکتنے ایسوسی ایشنز حکومت کی نئی پالیسی کو مانتے ہیں اور فنڈز لیتے ہیں.. کوئی نہیں. ہاں فنڈز لینے کیلئے ہر کوئی تیار ہیں لیکن...آڈٹ دینے کو کوئی تیار ہی نہیں .حتی کہ ہمارے صحافی بھی...
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 292 Articles with 159773 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
28 Sep, 2020 Views: 122

Comments

آپ کی رائے