پی سی بی کا لیٹر، کرکٹ کا ڈنڈا اور اجازت نامہ نمبر 786

گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک عدد نہایت سنجیدہ، نہایت باوقار اور نہایت خوفناک لیٹر جاری کیا گیا۔ لیٹر پڑھ کر یوں لگا جیسے کرکٹ نہیں، کوئی خفیہ ایٹمی پروگرام چل رہا ہو، اور کوئی غدار چھپ چھپ کر نجی لیگ کھیل رہا ہو۔لیٹر کا خلاصہ یہ تھا کہ "بھائیو! کرکٹ کھیلنی ہے تو ہماری اجازت سے، سانس لینی ہے تو ہماری اجازت سے، اور اگر وکٹ گرانی ہے تو پہلے درخواست دیں۔"اب سوال یہ ہے کہ پی سی بی آخر کس لیول کے مقابلے خود کرواتا ہے؟

کیونکہ کاغذوں میں تو سب کچھ ہوتا ہے۔ فکسچر بھی، پلان بھی، وڑن بھی، اور پریزنٹیشن میں تو یوں لگتا ہے جیسے ہر گلی میں بریڈمین اور ہر محلے میں بابر اعظم پیدا ہو رہا ہو۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا واقعی کرکٹ کھیلنا چاہے تو سب سے پہلے اسے یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ "انتظار کیسے کیا جاتا ہے"۔ انتظار ریجنل ٹرائلز کا‘ انتظار ضلعی کمیٹی کا انتظار اس بندے کا جو خود پچھلے دس سال سے فائل پکڑے بیٹھا ہے

ڈومیسٹک میں مقابلے کرنا اور اپنے آپ کو تیار کرنا ہر کھلاڑی کا بنیادی حق ہے۔ کرکٹ کسی دفتر کی فائل نہیں کہ صرف مخصوص میز سے گزرے۔ یہ کھیل ہے، یہ گلی سے نکلتا ہے، میدان میں سانس لیتا ہے اور مقابلے سے جوان ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دینا پی سی بی کی ترجیح نہیں، کنٹرول کرنا ہے۔ پروموٹ نہیں کرنا، روکنا ہے۔ کھلاڑی بنانا نہیں، اجازت نامہ ہولڈر تیار کرنا ہے۔

اب ذرا یہ بتائیں، اگر کوئی کوچ، کوئی سابق کھلاڑی یا کوئی دیوانہ کرکٹ کا شوقین، اپنی جیب سے پیسے لگا کر ایک ٹورنامنٹ کرا دیتا ہے تو اس میں کرکٹ کا کون سا قانون ٹوٹ جاتا ہے؟ بیٹ وہی، بال وہی، گراو¿نڈ وہی، محنت وہی، پسینہ وہی ‘ بس فرق یہ ہے کہ اس پر پی سی بی کی مہر نہیں لگی۔ اور آج کل تو مہر کے بغیر تو نکاح بھی معتبر نہیں سمجھا جاتا، کرکٹ تو بہت بڑی چیز ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ "غیر منظور شدہ ٹورنامنٹ"۔بھائی پہلے یہ تو بتائیں کہ "منظور شدہ" کا مطلب کیا ہے؟

کیا ہر وہ ٹورنامنٹ جس میں پی سی بی کا بینر نہ ہو، وہ گناہ کبیرہ ہے؟ کیا ہر وہ میچ جو فائل سے نہ گزرے، وہ بغاوت ہے؟ یا پھر مسئلہ یہ ہے کہ کہیں کوئی نیا کھلاڑی بغیر سفارش کے سامنے نہ آ جائے؟ یہی تو اصل خوف ہے۔ اگر مقابلے ہوں گے تو لوگ اپنے آپ کو آگے لائیں گے۔ اگر میچ ہوں گے تو ٹیلنٹ نظر آئے گا۔ اگر ٹیلنٹ نظر آ گیا تو سوال اٹھیں گے۔
اور سوال اگر اٹھ گئے تو پھر کرسیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔اسی لیے راستہ سیدھا سادہ رکھا گیا ہے۔ نہ مقابلہ‘ نہ سوال ‘ نہ مسئلہ ‘ لیکن ذرا ہمیں یہ بھی بتا دیں کہ انڈر 14 ‘انڈر 16 ‘انڈر 19 ‘انڈر 20

ان چار کیٹیگریز میں، پی سی بی اور پی ایس بی تحصیل، ضلع، صوبہ اور ریجنل لیول پر کتنے مقابلے باقاعدگی سے کرواتے ہیں؟ سال میں ایک؟ دو؟ یا پھر وہی روایت کہ "ٹرائلز ہوں گے" اور ٹرائلز میں وہی بچے منتخب ہوں گے جن کے والدین پہلے سے منتخب ہوں؟ اگر واقعی سسٹم اتنا مضبوط ہے تو پھر ہر سال سینکڑوں لڑکے نجی لیگز کا رخ کیوں کرتے ہیں؟ شوقیہ؟ یا مجبوری میں؟

کیونکہ سچ یہ ہے کہ نجی ٹورنامنٹس کوئی شوق نہیں، ایک ضرورت ہیں۔ وہ خلا پورا کرتے ہیں جو ادارے چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے کہ اگلا قدم یہ ہوگا کہ "گلی کرکٹ بھی غیر قانونی قرار دے دی جائے" پہلے محلے کا صدر پی سی بی سے اجازت لے گا پھر گیند خریدنے کی درخواست دے گا پھر ٹاس کے لیے این او سی آئے گی اور آخر میں میچ سپروائزر مقرر ہوگا جو یہ دیکھے گا کہ "اوورز پی سی بی کے معیار کے مطابق ہیں یا نہیں" اور اگر کوئی بچہ بغیر اجازت چھکا مار دے تو اس کے خلاف ڈسپلنری کمیٹی بیٹھے گی۔

اب لیٹر میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ"کسی بھی غیر منظور شدہ ایونٹ میں شرکت پی سی بی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی" سنگین! یعنی قتل سے کم، لیکن بغاوت سے زیادہ۔بھائی، قوانین تب بنتے ہیں جب سہولت دی جائے۔ پہلے راستہ دیں، پھر ضابطہ لگائیں۔ پہلے مقابلے کروائیں، پھر پابندی لگائیں۔ یہ کیا منطق ہے کہ "ہم کچھ نہیں کروائیں گے، اور آپ بھی کچھ نہیں کروائیں گے" اگر واقعی نیت صاف ہے تو حل بہت سادہ ہے۔ نجی ٹورنامنٹس کو رجسٹر کریں ‘ کوچز کو گائیڈ کریں ‘ امپائرز کو ٹرین کریں‘ ڈیٹا اکٹھا کریں

لیکن نہیں یہ سب کام ہیں اور کام کرنے کے لیے نیت چاہیے اور نیت سے زیادہ محنت‘ اس کے مقابلے میں لیٹر جاری کرنا بہت آسان ہے۔ایک سائن‘ چار کاپیاں‘ اور سوشل میڈیا پر خو ف آٓخر میں سوال وہی ہے جو ہر گلی، ہر میدان اور ہر کلب میں پوچھا جا رہا ہے۔ کیا پی سی بی کرکٹ کو پروموٹ کرنا چاہتا ہے یا اپنی بدمعاشی کو؟کیونکہ کرکٹ ڈنڈے سے نہیں، مقابلے سے چلتی ہے۔اور کھلاڑی اجازت نامے سے نہیں، میدان سے بنتا ہے۔ اگر آپ واقعی کرکٹ کے خیر خواہ ہیں تو دروازے کھولیں۔ورنہ یہ لیٹر بھی فائل میں دفن ہو جائے گا،اور ٹیلنٹ ایک بار پھر گلی میں ہی رہ جائے گا۔

#PakistanCricket #PCB #DomesticCricket #CricketGovernance #CricketPolitics #GrassrootsCricket #CricketDevelopment #StopKillingTalent #CricketForAll #LetThemPlay #UnapprovedLeagues #PrivateCricket #CricketRights #FutureOfCricket #YoungCricketers #CricketSystem #SportsBureaucracy #CricketReform #TalentNeedsMatches #FixDomesticCricket #kikxnow #digitalcreator #musarratullahjan
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 919 Articles with 728830 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More